بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کام کرنے والے شریک کے لیے زیادہ منافع مقرر کرنے کا حکم، بغیر اجازت کے دوسرے کی زکاۃ ادا کرنے کا مسئلہ، اور گزشتہ سالوں کی زکاۃ ادا کرنے کا طریقہ


سوال

ہمارا اسٹیشنری آئٹم کا کاروبار ہے، جس میں میں نے بھی دو لاکھ ذاتی رقم بطورِ سرمایہ شامل کی تھی۔  سن 2013ء  میں میرے والد صاحب اور چچا صاحب سمیت تمام شرکاء نے ایک میٹنگ کی، جس میں تمام شرکاء کی باہمی رضامندی سے یہ فیصلہ ہوا کہ وہ شرکاء جو سرمایہ کے ساتھ ساتھ محنت بھی کر رہے ہیں، انہیں اُن شرکاء سے زیادہ نفع دیا جائے گا جو صرف سرمایہ لگائے ہوئے ہیں مگر عملی طور پر محنت نہیں کر رہے۔ اس مقصد کے لیے یہ اصول طے پایا کہ حاصل ہونے والا نفع درج ذیل طریقے سے تقسیم کیا جائے گا:سالانہ 60 فیصد نفع سرمایہ کے تناسب سے تقسیم ہوگا، یعنی ہر شریک کو اس میں سے  اُس کے لگائے گئے سرمایہ کے مطابق نفع ملے گا۔ جب کہ باقی 40 فیصد نفع صرف اُن شرکاء کے درمیان تقسیم کیا جائے گا جو کاروبار میں عملی محنت کر رہے ہیں۔چنانچہ محنت کرنے والے ہر سرمایہ کار شریک کے لیے سالانہ اعتبار سے 40 فیصد نفع میں مخصوص فیصد مقرر کیا گیا، جس کے مطابق میرے لیے 5 فیصد سالانہ نفع طے کیا گیا۔  میں اس میٹنگ میں موجود نہیں تھا، بلکہ والد صاحب نے میری طرف سے یہ سب طے کیا۔

تقریباً گیارہ سال تک میں اس حقیقت سے لاعلم رہا، میں یہ سمجھتا رہا کہ مجھے صرف سرمایہ کے تناسب سے نفع ملتا ہے۔  اس  دوران میں اپنے اور اپنی بیوی و بچوں کے ماہانہ اخراجات، زکوٰۃ اور قربانی کے لیے جو رقم کاروبار سے لیتا رہا، اسے میں اپنی تنخواہ یا کمیشن سمجھتا تھا، حالاں کہ والد صاحب سالانہ حساب کتاب میں یہ تمام رقم میرے 5 فیصد نفع میں سے منہا کر کے باقی بچی ہوئی رقم میرے نام پر بنے کھاتے(بینک اکاؤنٹ مراد نہیں ہے) میں جمع کرتے رہے۔ اسی طرح سرمایہ کے تناسب سے حاصل ہونے والا نفع بھی اسی کھاتے میں شامل ہوتا رہا۔ جون 2024ء میں والد صاحب نے مجھے اس حقیقت سے آگاہ کیاکہ کاروبار میں میرا نفع مذکورہ اصول کے مطابق طے تھا، اور میں جو رقم لیتا رہا ہوں، وہ دراصل میرے 5 فیصد نفع میں سے منہا کی جاتی رہی ہے۔ والد صاحب نے بتایا کہ انہوں نے میرے نام سے کاروباری کھاتہ(بینک اکاؤنٹ مراد نہیں ہے) بنایا ہوا ہے، جس میں میرے سرمایہ کے نفع کے ساتھ ساتھ 5 فیصد سالانہ نفع کا باقی ماندہ حصہ بھی جمع کرتے رہے ہیں، اور ہر سال اس تمام رقم کی زکوٰۃ بھی ادا کرتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ  میں والد صاحب کے اس طے کردہ نفع کی مقدار پر راضی اور مطمئن ہوں۔

مزید یہ کہ تقریباً گیارہ سال سے میں اپنے اندازے کے مطابق کاروبار میں موجود سرمایہ اور منافع کا حساب لکھتا رہا ہوں، اور ہر سال 20 جماد الثانی کو اسی حساب سے زکوٰۃ ادا کرتا رہا ہوں۔ تاہم چونکہ مجھے درست تفصیلات معلوم نہیں تھیں، اس لیے پوری زکوٰۃ ادا نہ ہو سکی۔ والد صاحب اگرچہ تمام حساب و کتاب سے واقف تھے، لیکن وہ میرے علم اور اجازت کے بغیر میری زکوٰۃ ادا کرتے رہے۔

اب درج ذیل امور میں شرعی راہ نمائی مطلوب ہے:

(1)کیا مذکورہ کاروبار میں سرمایہ کے تناسب سے ملنے والا نفع اور بقیہ  5 فیصد نفع میری ملکیت شمار ہوگا یا نہیں؟ اگر یہ میری ملکیت ہے تو ملکیت کا وقت کب سے شمار ہوگا؟کیا اس وقت سے جب والد صاحب نے میٹنگ میں میرے لیے یہ تناسب طے کیا تھا، اور اس کے بعد جیسے جیسے نفع حاصل ہوتا گیا میں مالک بنتا رہا؟ یا پھر اس وقت سے جب مجھے اس حقیقت کا علم ہوا اور میں نے اپنی رضامندی ظاہر کی؟

(2)والد صاحب نے میرے علم میں لائے بغیر میرے سرمائے سے میری زکوٰۃ ادا کی، اور میں نے خود  بھی اپنے اندازے کے مطابق کچھ زکوٰۃ ادا کی۔ کیا ان دونوں صورتوں کو ملانے سے میری مکمل زکوٰۃ ادا ہو گئی یا نہیں؟اگر زکوٰۃ مکمل ادا نہیں ہوئی تو والد صاحب کی ادا کردہ رقم کا کیا حکم ہوگا؟ اور بقیہ زکوٰۃ میں اب کس طرح ادا کروں؟

(3)سن 2023ء اور 2024ء میں والد صاحب نے میری صوابدید اور علم میں لائے بغیر میرے سرمائے سے گھریلو اخراجات کے لیے رقم نکالی۔اس کا کیا حکم ہے؟ اسی طرح 2025ء سے میں نے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے گھر کے اخراجات (بجلی، گیس، راشن وغیرہ) میں باقاعدہ حصہ ڈالنا شروع کیا، مگر اس کے باوجود والد صاحب نے میرے علم میں لائے بغیر مزید رقم میرے کھاتے سے گھر کے اخراجات، بلوں، اور گھریلو  ملازمین کی تنخواہوں کے نام پر نکالی۔ چونکہ میں اس سے لاعلم اور غیر متفق ہوں، لہٰذا اس کا کیا شرعی حکم ہوگا؟

(4)سن 2023ء اور 2024ء کے کاروباری سال کے حسابات میں والد صاحب نے میرے علم میں لائے بغیر میرے سرمائے کے کھاتے سے ایک بڑی رقم اپنے سرمائے کے کھاتے میں منتقل کی، جو اُس وقت میرے کل سرمایہ کا تقریباً 70 فیصد بنتی تھی۔یہ رقم اس لیے منتقل کی گئی کہ والد صاحب اپنے سرمائے کی حد سے کئی گنا زیادہ رقم پہلے ہی نکال چکے تھے، اور منفی بیلنس کو مثبت کرنے کے لیے میری رقم شامل کر دی گئی، جس سے اچھا خاصا نفع حاصل ہوا ہے۔

مزید یہ کہ سن 2025ء میں بھی والد صاحب کو اپنے کھاتے کا بیلنس مثبت کرنے کے لیے دوبارہ میرے کھاتے سے رقم منتقل کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے، اگر اس بار بھی رقم منتقل کی گئی، تو میرے نام کا سرمایہ مزید کم ہو کر 15 فیصد رہ جائے گا جو کہ میں نہ پہلے کرنا چاہتا تھا، اور نہ اب چاہوں گا۔ اس کا کیا حکم ہے؟ راہ نمائی فرمائیں

جواب

(1)صورتِ مسئولہ میں ان شرکاء کے لیے جو سرمایہ کے ساتھ ساتھ محنت بھی کر رہے ہیں، دیگر محض سرمایہ کار شرکاء کی نسبت زیادہ نفع مقرر کرنا شرعاً درست ہے۔ چناں چہ اگر سالانہ حاصل ہونے والے نفع میں سے 60 فیصد نفع سرمایہ کے تناسب سے تمام شرکاء میں تقسیم کیا جائے، اور باقی 40 فیصد نفع صرف اُن شرکاء کے درمیان تقسیم کیا جائے،  جو کاروبار میں محنت کر رہے ہیں، تو یہ تقسیم شرعاً جائز اور معتبر ہے۔

باقی اگرچہ نفع کی یہ تقسیم طے کرتے وقت سائل  خود اس میٹنگ میں موجود نہیں تھا، لیکن چونکہ اس کے والد نے اس کی جانب سے بطورِ نمائندہ یہ تناسب طے کیا تھا، اور بعد ازاں سائل نے اس فیصلے پر رضامندی اور اطمینان کا اظہار کیا، اس لیے شرعاً سائل کے والد کا یہ اقدام درست شمار ہوگا، اور  سن 2013ء میں جس وقت نفع کی تقسیم کا یہ اصول طے کیا گیا، رضامندی کے بعد اُسی وقت سے سائل کے حق میں یہ معاہدہ مؤثر شمار ہوگا، لہذا اس کے بعد جیسے جیسے کاروبار سے نفع حاصل ہوتا گیا، سائل مقرر کردہ تناسب کے مطابق اپنے حصے کے نفع کا مالک بنتا گیا۔

(2)سائل نے 2013ء سے اب تک اپنے اندازے کے مطابق جتنی زکوٰۃ خود ادا کی ہے، اس کے بقدر زکوٰۃ ادا ہوچکی ہے، دوبارہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ سائل کے والد  نے 2013ء سے اب تک سائل کے علم میں لائے بغیر اُس کی طرف سے جو زکوٰۃ ادا کی ہے، اس سے شرعاً سائل کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، بلکہ زکاۃ کی مد میں ادا شدہ یہ رقم سائل کے سائل کے  والد کی جانب سے فقراء پر تبرع و احسان شمار ہوگی۔ لہٰذا سائل کے والد نے اب تک جتنی رقم سائل کے مال سے زکوٰۃ کے طور پر ادا کی ہے، وہ رقم ان پر سائل کو واپس کرنا شرعاً  لازم ہے۔ البتہ اگر والد کی طرف سے دی گئی رقم میں سے کچھ رقم ابھی تک فقراء کے پاس موجود ہے اور انہوں نے وہ خرچ نہیں کی ہے، تو اگر سائل اب زکاۃ کی ادائیگی کی اجازت دے دے، تواس کے بقدر  سائل کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، اور سائل کے  والد  پر اتنی رقم واپس کرنا لازم نہیں ہوگا۔

جہاں تک بقیہ زکاۃ کا تعلق ہے، جو ابھی تک ادا نہیں ہوئی ہے، تو اس کے ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ: سب سے پہلے 2013ء سے لے کر اب تک ہر سال کے کھاتے میں موجود رقم کا حساب کرکے جمع کیا جائے۔ پھر اس مجموعی رقم میں سے وہ رقم منہا کی جائے،  جس کی زکاۃ سائل نے ہر سال خود ادا کی ہے۔ اس کے بعد ہر سال بچ جانے والی رقم پر واجب الادا   زکاۃ (یعنی ڈھائی فیصد) کا حساب لگا کر اسے منہا کیا جائے، سوائے آخری سال کی زکاۃ کے۔ پھر جو رقم باقی بچے، اس کا ڈھائی فیصد زکاۃ کی مد میں نکالنا لازم ہوگا۔

مثلاً:اگر پہلے سال کھاتے میں بیس لاکھ، دوسرے سال میں تیس لاکھ، اور تیسرے سال میں پچاس لاکھ روپے موجود ہوں، تو مجموعی رقم ایک کروڑ روپے بنے گی۔ پھر اگر سائل نے پہلے سال بیس لاکھ میں سے دس لاکھ، دوسرے سال تیس لاکھ میں سے پندرہ لاکھ، اور تیسرے سال پچاس لاکھ میں سے پچیس لاکھ روپے کی زکاۃ ادا کی تھی، تو کل پچاس لاکھ روپے کی زکاۃ ادا ہوچکی ہے، پس مجموعی رقم (1 کروڑ) میں سے 50 لاکھ منہا کرنے کے بعد  50 لاکھ رقم باقی رہ جاتی ہے۔ اب ان پچاس لاکھ میں سے ہر سال کی بچی ہوئی رقم پر واجب الادا   زکاۃیعنی پہلے سال کی  بچی ہوئی رقم 10 لاکھ پر ڈھائی فیصد (یعنی 25,000 روپے)،  دوسرے سال کی بچی ہوئی رقم 15 لاکھ پر ڈھائی فیصد (یعنی 37,500 روپے)  منہا کرنے کے بعد 49 لاکھ 37 ہزار 500 روپے باقی رہ جائیں گے، جب کہ آخری یعنی تیسرے سال کی بچی ہوئی رقم کی زکاۃ منہا نہیں کی جائے گی۔ لہٰذا اب اس بقیہ مال کا ڈھائی فیصد یعنی ایک لاکھ تئیس ہزار چار سو انتالیس روپے زکاۃ کی مد میں  ادا کرنا ضروری ہوگا۔

(3)صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد نے سن 2023ء، 2024ء اور 2025ء میں سائل کے کھاتے سے جو رقم گھریلو اخراجات (مثلاً: بجلی، گیس، راشن، اور ملازمین کی تنخواہوں وغیرہ) کے لیے نکالی تھی، وہ تمام رقم سائل کا حق ہے، لہذا سائل کے  والد پر شرعاً  لازم ہے کہ وہ یہ تمام رقم سائل کو واپس کریں۔

(4) اسی طرح سن 2023ء اور 2024ء  کے سالانہ  کاروباری  حسابات میں سائل کے والد نے اس کے علم میں لائے بغیر اُس کے سرمایے کے کھاتے سے جو رقم (اُس وقت سائل کے کل سرمایہ کا تقریباً ستر فیصد) اپنے کھاتے میں منتقل کی تھی، وہ بھی سائل ہی کی ملکیت ہے، لہذا اس رقم سے جو نفع حاصل ہوا ہے، وہ شرعاً سائل ہی  کو ملے گا، سائل کا والد شرعاً  اس نفع کا مستحق نہیں ہے۔

مزید یہ کہ آئندہ بھی سائل کے والد کو شرعاً یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے منفی بیلنس کو مثبت کرنے کے لیے سائل کے کھاتے سے اپنے کھاتے میں کوئی رقم منتقل کریں۔ اگر ایسا کیا گیا، تو تب بھی وہ رقم سائل ہی کی ملکیت شمار ہوگی، اور اس حاصل ہونے والا نفع بھی سائل ہی کو ملے گا۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"المادة (1372) - (إذا كان رأس مال الشريكين متفاضلا كأن كان رأس مال أحدهما مائة ألف درهم ورأس مال الآخر مائة وخمسين ألف درهم فإذا شرط تقسيم الربح بينهما بالتساوي فيكون بمعنى أنه شرط زيادة حصة في الربح للشريك صاحب رأس المال القليل بالنسبة إلى رأس ماله ويكون ذلك كشرط ربح زائد لأحد الشريكين حال كون رأس مالهما متساويا، فلذلك إذا شرط عمل  كليهما أو شرط عمل الشريك صاحب الحصة الزائدة في الربح أي صاحب رأس المال القليل صحت الشركة واعتبر الشرط، وإذا شرط العمل على صاحب الحصة القليلة من الربح أي صاحب رأس المال الكثير فهو غير جائز ويقسم الربح بينهما بنسبة مقدار رأس مالهما)"

(الكتاب العاشر:الشركات، الباب السادس في بيان شركة العقد، الفصل السادس في شركة العنان، رقم المادة:1372، ج:3، ص:393، ط:دار الجيل)

وفیہ ایضاً:

"المادة (1453) - (الإجازة اللاحقة في حكم الوكالة السابقة. مثلا لو باع أحد مال الآخر فضولا ثم أخبر صاحبه فأجازه يكون كما لو وكله أولا) ."

(الكتاب الحادي عشر: الوكالة، الباب الأول في بيان ركن الوكالة، رقم المادة:1453، ج:3، ص:500، ط:دار الجيل)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ليس لأحد الشريكين أن يؤدي زكاة مال الآخر إلا بإذنه، كذا في الاختيار. فإن أذن كل واحد منهما لصاحبه أن يؤدي الزكاة عنه فأديا معا ضمن كل واحد منهما نصيب صاحبه علم أو لم يعلم عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، كذا في الكافي."

(كتاب الشركة، الباب السادس في المتفرقات، ج:2، ص:336، ط:دار الفكر بيروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو تصدق عن غيره بغير أمره فإن تصدق بمال نفسه جازت الصدقة عن نفسه ولا تجوز عن غيره وإن أجازه ورضي به أما عدم الجواز عن غيره فلعدم التمليك منه إذ لا ملك له في المؤدى ولا يملكه بالإجازة فلا تقع الصدقة عنه وتقع عن المتصدق؛ لأن التصدق وجد نفاذا عليه، وإن تصدق بمال المتصدق عنه وقف على إجازته فإن أجاز والمال قائم جاز عن الزكاة وإن كان المال هالكا جاز عن التطوع ولم يجز عن الزكاة؛ لأنه لما تصدق عنه بغير أمره وهلك المال صار بدله دينا في ذمته فلو جاز ذلك عن الزكاة كان أداء الدين عن الغير وأنه لا يجوز والله أعلم."

(كتاب الزكاة، فصل ركن الزكاة، فصل شرائط ركن الزكاة، ج:2، ص:41، ط:دار الكتب العلمية)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته)...

(المادة 97) :لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف «لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده»."

(المقدمة، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، رقم المادة:96، 97، ج:1، ص:96، 98، ط:دار الجيل)

 وفیہ ایضاً:

"المادة (1367) - (على أي وجه شرط تقسيم الربح في الشركة الصحيحة يراعى ذلك الشرط على كل حال إذا كان موافقا للشرع)"

(الكتاب العاشر:الشركات، الباب السادس في بيان شركة العقد، الفصل السادس في شركة العنان، رقم المادة:1367، ج:3، ص:387، ط:دار الجيل)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703100213

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں