بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جوئے کی رقم سے خریدا ہوا گھر اور اس کے کرائے کا شرعی حکم


سوال

میرے والد صاحب عرصۂ دراز سے نمبروں کا کھیل (جوا) کھیلتے آرہے ہیں، بہت کوششوں اور سمجھانے کے باوجود ان کی یہ عادت ترک نہیں ہو پا رہی۔والد صاحب نے جوئے کے پیسوں سے ایک گھر خریدا اور اسے کرائے پر چڑھا دیا ہے، اور ماہانہ بنیاد پر وہ اس کا کرایہ وصول کرتے ہیں۔اسی طرح حال ہی میں والد صاحب نے پلاسٹک (دودھ والی شاپر) کا ایک کاروبار بھی شروع کیا ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ انہوں نے مارکیٹ سے لگ بھگ پانچ لاکھ ستر ہزار روپے کا مال خرید کر دکانداروں کو فروخت کیا، جس سے تقریباً چالیس ہزار روپے نفع حاصل ہوا۔ بعد ازاں انہوں نے اسی طرز پر دوبارہ مال خریدا اور تقریباً اتنا ہی نفع دوبارہ کمایا۔تاہم مجھے اس بات کا علم نہیں کہ وہ یہ کاروبار کس رقم سے کر رہے ہیں ، جوئے کی آمدن سے، گھر کے کرائے سے، یا دونوں کے ملے جلے پیسوں سے؟
میں ایک مدرسے کا  طالب علم ہوں۔ تعلیمی مصروفیات کے باعث کسبِ معاش پر قدرت نہیں رکھتا، اس لیے والد صاحب ہی مجھے بائیک کے پیٹرول اور دیگر ضروریات کے لیے جیب خرچ دیا کرتے ہیں۔ لیکن مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ یہ رقم کن ذرائع سے فراہم کرتے ہیں، جوئے کے پیسوں سے، گھر کے کرائے سے، یا کاروبار کے  منافع  سے؟ان تمام حالات کی وجہ سے میں ذہنی طور پر پریشان ہوں۔ لہٰذا درج بالا پس منظر کے تناظر میں قرآن و سنت کی روشنی میں مجھے چند سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں:
1۔شرعی نقطۂ نظر سے جوئے کا حکم اور اس کی قباحت و شناعت کیا ہے؟
2۔جوئے کی رقم سے خریدا گیا گھر اور اس سے حاصل ہونے والا کرائے کا  شرعاً کیا حکم ہے؟
3۔پلاسٹک کے کاروبار سے حاصل شدہ آمدن کا کیا حکم ہے؟
4 ۔کیا مذکورہ صورتِ حال میں والد صاحب سے جیب خرچ اور پیٹرول کے پیسے لینا میرے لیے جائز ہے؟ اور ایسے صورتِ حال میں میری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

جواب

1۔شرعی نقطۂ نظر سے جوا (قمار)  قطعی حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ قرآنِ کریم نے اسے بغض، عداوت اور باہمی نفرت جیسی اخلاقی بیماریوں کی جڑ قرار دیا ہے، اور صرف اخلاقی خرابی نہیں بلکہ شیطانی گندگی کہہ کر اس سے مکمل اجتناب کا حکم دیا ہے۔نیز جوا  (قمار)فطرتاً بھی دھوکہ اور فریب پر قائم ہوتا ہے، انسان کے ضمیر کو کھوکھلا کر کے اس میں جھوٹ، مکاری اور بے حمیتی پیدا کر دیتی ہے، حتیٰ کہ وقت کی بربادی، گھریلو ناچاقی اور ذمہ داریوں سے غفلت اس کا معمول بن جاتی ہے۔  مسلسل جوئے کی عادت انسان کو روحانی سختی، ایمان کی کمزوری اور اخلاقی پستی کے اس گڑھے تک پہنچا دیتا ہے جہاں سے نجات صرف سچی توبہ اور پختہ عزم کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔

3-2۔ آپ کے والد صاحب کا جوا (قمار) کے ذریعے مال حاصل کرنا اور اس مال سے گھر خریدنا شرعاً ناجائز اور حرام تھا۔ اب ان پر لازم ہے کہ جتنی رقم انہوں نے جوئے کے ذریعے حاصل کی تھی، وہ اصل مالکان کو واپس کریں۔ اگر وہ زندہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو لوٹائیں، اور اگر اصل مالک یا اس کے وارثوں کا علم نہ ہو تو ثواب کی نیت کے بغیر اُن کی طرف سے مستحقینِ زکوٰۃ کو صدقہ کر دیں، ورنہ آخرت میں سخت مؤاخذہ ہوگا۔ البتہ مذکورہ گھر سے حاصل شدہ کرایہ اور پلاسٹک شاپر کے کاروبار سے حاصل شدہ آمدنی کو حرام نہیں سمجھا جائے گا۔

4۔ چونکہ آپ عاقل بالغ ہیں، والد پر آپ کی کفالت فرض نہیں، اس لیے حتی الامکان اس مالِ حرام سے والد کا تعاون لینے سےاجتناب کریں، باقی آپ  طالبِ علم ہیں اور تعلیمی اشتغال کے باعث کسبِ معاش پر قادر نہیں، اس لیے اگر آپ زکات فنڈ سے مدد لے کر گزر بسر کر سکتے ہیں تو والد کی حرام آمدنی استعمال نہ کریں، اور اگر اس کی بھی کوئی صورت نہ بنتی ہو تو بامرِ مجبوری والد کی حرام یا مخلوط آمدنی سے آپ کا جیب خرچ لینا جائز ہے۔ تاہم شرعاً آپ پر لازم ہے کہ حکمت و مصلحت کے ساتھ والد کو جوئے سے باز آنے کی نصیحت کریں اور انہیں جائز ذریعۂ معاش اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"غصب حانوتا واتجر فيه وربح يطيب الربح كذا في الوجيز للكردري."

(كتاب الغصب، الباب الثامن، ج:5، ص:142، ط:دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"والحاصل أنه إن علم ‌أرباب ‌الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه...ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه، إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله."

(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج:5، ص:99، ط:سعید)

فيه أيضاً:

"(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا ‌يطيب ‌في ‌الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام."

(‌‌‌‌باب المتفرقات من أبوابها، مطلب إذا اكتسب حراما ثم اشترى فهو على خمسة أوجه، ج:5، ص:235، ط:سعید)

معارف السنن میں ہے:

"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقهائنا کالهدایة وغیرہا: أن من ملک بملک خبیث، ولم یمکنه الرد إلی المالک، فسبیله التصدقُ علی الفقراء … قال: إن المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته، ولا یرجو به المثوبة."

(كتاب الطهارة، باب ما جاء لا تقبل صلاۃ بغیر طھور، ج:1، ص:34، ط:سعید)

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية  میں ہے:

(سئل) في رجل من طلبة العلم الشريف لا مال له ولا يحسن الكسب لكونه من ذوي البيوت وهو مدرس وله أب موسر فهل تكون نفقته على أبيه؟

(الجواب) : نعم ذكر في البزازية قال العلامة الحلواني وإذا كان الابن من أبناء الكرام ولا يستأجره الناس فهو عاجز وكذا طلبة العلم إذا كانوا عاجزين عن الكسب لا يهتدون إليه لا تسقط نفقاتهم عن آبائهم إذا كانوا مشتغلين بالعلوم الشرعية لا العقلية والخلافات الركيكة وهذيانات الفلاسفة وبهم رشد وإلا لا تجب لسان الحكام.

(كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:1، ص:72، ط:دار المعرفة)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي جامع الجوامع: ‌اشترى ‌الزوج طعاما أو كسوة من مال خبيث جاز للمرأة أكله ولبسها والإثم على الزوج تتارخانية."

(‌‌كتاب الغصب، ج:6، ص:191، ط:سعید)

فتاوی محمودیہ کے ایک سوال کے جواب میں ہے:

"جس قدر مال بطریق حرام کمایا ، اس کی واپسی لازم ہے، اگر وہ شخص موجود نہ ہو جس سے مثلا مال حرام( مثلا رشوت یا غصب ) لیا ہو، مر گیا ہو تو اس کے ورثاء کو دیا جائے ۔ ورثاء بھی موجود نہ ہوں، یا کوشش کے باوجود ان کا علم نہ ہو سکے تو غر یوں محتاجوں کو صدقہ کر دیا جاۓ ،  لیکن اس مال کے ذریعہ دوسرا حلال مال کمایا گیا تو اس کو حرام نہیں کیا جائے گا۔کذا فی رد المحتار۔"

(کتاب  الحظر و الاباحۃ، باب المال الحرام و مصرفہ، ج:18، ص:408، ط:ادارۃ الفاروق)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100136

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں