
یہ کرکٹ پر جو جوا کھیلتا ہے، یہ سراسر سود ہے، اس کے ساتھ کھانا چائے وغیرہ پی سکتے ہیں؟
اگر اس شخص کی پوری یا غالب آمدنی جوے یا کسی اور حرام ذریعہ سے ہے تو اس کے مال میں سے کھانا اور ہدیہ وغیرہ لینا جائز نہیں ہے۔ نیز اس کے ساتھ اپنے پیسے ملاکر کھانا پینا بھی جائز نہیں ہے۔ اور اگر زیادہ آمدنی حلال ہے تو پھر اس کے مال میں سے کھانے پینے کی گنجائش ہے۔
فتاوی ہنديہ ميں ہے:
"أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع."
(كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر، ج:5، ص:342، ط: دار الفكر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144706101541
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن