بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جوا کھیلنا/جوے کی کمائی کا حکم / جوے کی کمائی سے کاروبار کرنا


سوال

1۔ٹریڈنگ کے نام پر جوے والی ایپس پر جوا کھیلنے والے کا کیا حکم ہے؟

2۔اور اگر کوئی شخص اس کی کمائی کھائے تو کیا حکم ہے؟ اور کھلانے والے کو جوے کا معلوم ہے کھانے والے کو نہیں تو اس کا کیا حکم ہے ؟

3۔اور اس کی کمائی سے اگر کاروبار شروع کیا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

4۔اور جوے اور سود میں بڑا گناہ کون سا ہے؟

جواب

1۔جوا کھیلنا شرعا حرام ہے،چاہے وہ جوے کے نام سے کھیلا جائے یا ٹریڈنگ وغیرہ کسی اور نام سے کھیلاجائے۔

2۔جوے کی کمائی حرام ہے ،حرام مال اگر بےد ھیانی اور لاعلمی میں کھالیاجائے تو اس صورت میں کوئی گناہ یا سزا نہیں ہے، البتہ اگر کسی چیز یا مال کے حرام ہونے کا علم ہو،اس کے باوجود کوئی شخص وہ حرام  کھائے تو یہ گناہ کبیرہ ہے۔

3۔جوے کی کمائی استعمال کرنا /کاروبار کرنا جائز نہیں ہے،بلکہ اصل مالک کو اس کے پیسے واپس کرنا ضروری ہے،البتہ اگر کسی نے جوے کی کمائی سے کاروبار شروع کرلیا ، تو اگر وہ کاروبار حلال ہو تو اس کاروبار کی آمدنی حلال ہوگی ،لیکن اس شخص پر لازم ہوگا کہ جتنی رقم اس نے جوے کھیل کر حاصل کی تھی وہ اصل مالک کو لوٹائے ،اگر اس کا انتقال ہوچکا ہے تو اس کے ورثاء کو لوٹائے ،اگر اصل مالک یا ورثاء کا علم نہ ہو تو ان کی طرف سے اتنی رقم غریبوں کو صدقہ کردے۔

4۔سود اور جوا دونوں کبیرہ گناہ ہیں ،دونوں کی حرمت قرآن کریم میں ذکر ہے،البتہ ان دونوں میں سے بڑا گناہ کون ساہے ،اس کی صراحت قرآن کریم ، احادیث مبارکہ  اور فقہاء کرام کی عبارات میں نہیں مل سکی۔

قرآن مجید میں ہے:

"«الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ. يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ. إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ. فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ»"( البقرة، 275 – 279 )

"ترجمہ:اورجو لوگ سود کھاتے ہیں نہیں کھڑے ہوں گے(قیامت کے دن قبروں سے) مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے ایسا شخص جس کو شیطان خبطی بنادے لپٹ کر( یعنی حیران ومدہوش) یہ ( سزا) اسی لئے ہوگی کہ ان لوگوں نے کہاتھا کہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے ،حالانکہ اللہ تعالی نے بیع کو حلال فرمایاہے اور سود کر حرام کردیاہے،پھر جس شخص کو اس  کے پروردگار کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ پہلے (لینا) ہوچکاہے وہ اسی کا رہا اور(باطنی) معاملہ اس کا خدا کے حوالے رہا اورجو شخص پھر عود کرلے تو یہ لوگ دوزخ میں جائیں گے وہ اس  میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالی سود کو مٹاتے ہیں اورصدقات کو بڑھاتے ہیں اور اللہ پسند نہیں کرتے کسی کفر کرنے والے کو ( اور) کسی گناہ کے کام کرنے والے کو۔بیشک جو لوگ ایمان لائے ہیں اورانہوں نے نیک کام کئے اور( بالخصوص) نمازکی پابندی کی اورزکوۃ دی ان کے لئے ان کا ثواب ہوگا ان کے  پروردگار کے نزدیک اور(آخرت میں) اُن پر کوئی خطر نہیں ہوگا اورنہ وہ مغموم ہونگے۔

اے ایمان والوں! اللہ سے ڈرو اورجو کچھ  سو دکا بقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو ،پھر  اگر تم اس پر عمل نہ کروگے تو  اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اوراس کی رسول کی طرف سے ( یعنی تم پر  جہاد ہوگا) اوراگر تم تو بہ کرلو گے تو تم کو تمہارے اصل اموال  مل جائیں گے،نہ  تم کسی پر ظلم کرنے پاؤں گے اورنہ تم پر کوئی ظلم کرنے پائےگا۔(بیان القرآن)

" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ " [المائدة :90]

ترجمہ :"اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو۔"

احکام القرآن للجصاصؒ میں ہے:

"قوله تعالى: {لا تأكلوا أموالكم ‌بينكم ‌بالباطل} نهي لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل. وأكل مال نفسه بالباطل إنفاقه في معاصي الله; وأكل مال الغير بالباطل قد قيل فيه وجهان: أحدهما: ما قال السدي وهو أن يأكل بالربا والقمار والبخس والظلم، وقال ابن عباس والحسن: أن يأكله بغير عوض."

(ج:2، ص:216، ط:دارالكتب العلمية)

وفي الزواجر عن اقتراف الكبائر :

"وتأمل وصف الله تعالى تلك النار بكونها أعدت للكافرين، فإن فيه غاية الوعيد والزجر لأن المؤمنين المخاطبين باتقاء المعاصي إذا علموا بأنهم متى فارقوا التقوى دخلوا النار المعدة للكافرين، وقد تقرر في عقولهم عظمة عقوبة الكافرين انزجروا عن المعاصي أتم الانزجار. فتأمل عفا الله عنا وعنك ما ذكره الله تعالى في هذه الآيات من وعيد آكل الربا يظهر لك إن كان لك أدنى بصيرة قبح هذه المعصية ومزيد فحشها، وعظيم ما يترتب من العقوبات عليها، سيما محاربة الله ورسوله اللذين لم يترتبا على شيء من المعاصي إلا معاداة أولياء الله تعالى المقاربة لفحش هذه الجناية وقبحها. وإذا ظهر لك ذلك رجعت وتبت إلى الله تعالى عن هذه الفاحشة المهلكة في الدنيا والآخرة."

(کتاب البیع،1/ 375،الناشر: دار الفكر)

وفيه أيضا:

"تنبيه: عد الربا كبيرة هو ما أطبقوا عليه اتباعا لما جاء في الأحاديث الصحيحة من تسميته كبيرة بل من أكبر الكبائر وأعظمها.

وروى الشيخان وأبو داود والنسائي أنه - صلى الله عليه وسلم - قال: «اجتنبوا السبع الموبقات، قيل يا رسول الله وما هن؟ قال: الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق، وأكل مال اليتيم، والربا، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات الغافلات المؤمنات» . وفي رواية للبيهقي: «الكبائر تسع أعظمهن إشراك بالله وقتل نفس مؤمن وأكل الربا» الحديث."

 (کتاب البیع،1/ 380،الناشر: دار الفكر)

وفيه أيضا:

"الكبيرة الثالثة والأربعون بعد الأربعمائة: القمار سواء كان مستقلا أو مقترنا بلعب مكروه كالشطرنج أو محرم كالنرد) . قال تعالى: {إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون} [المائدة: 90] {إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العداوة والبغضاء في الخمر والميسر ويصدكم عن ذكر الله وعن الصلاة فهل أنتم منتهون} [المائدة: 91] والميسر القمار بأي نوع كان، وسبب النهي عنه وتعظيم أمره أنه من أكل أموال الناس بالباطل الذي نهى الله عنه بقوله تعالى: {ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل} [البقرة: 188]."

 (كتاب الشهادات،2/ 328،الناشر: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 403، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"‌الحرمة ‌تتعدد مع العلم بها.

وفي الرد: مطلب الحرمة تتعدد (قوله الحرمة تتعدد إلخ) نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام اهـ ."

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:5، ص:98، ط:سعيد)

فتاوی  محمودیہ  میں ہے:

”جس قدر مال بطریق حرام کمایا ، اس کی واپسی لازم ہے، اگر وہ شخص موجود نہ ہو جس سے مثلا مال حرام( مثلا رشوت یا غصب ) لیا ہو، مر گیا ہو تو اس کے ورثاء کو دیا جائے۔ ورثاء بھی موجود نہ ہوں، یا کوشش کے باوجود ان کا علم نہ ہو سکے تو غر یوں محتاجوں کو صدقہ کر دیا جاۓ ،  لیکن اس مال کے ذریعہ دوسرا حلال مال کمایا گیا تو اس کو حرام نہیں کہاجائے گا۔کذا فی رد المحتار۔“

(کتاب  الحظر و الاباحۃ، باب المال الحرام و مصرفہ، ج:18، ص:409، ط:دار الافتاء جامعہ فاروقیہ)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711100208

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں