بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1448ھ 30 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے بیان، خطبہ اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال


سوال

1: جمعہ کی نماز ، بیان اور خطبہ وغیرہ سمیت تمام اعمال  لاؤڈ اسپیکر پر کرنا جس سے پورا محلہ سنے  کیسا ہے؟

2: مسجد میں نماز کے دوران جو تلاوت کی جاتی ہے ، اس کی آواز کی کیا حدود ہونی چاہیے؟ آیا آواز صرف نمازیوں  تک محدود ہونی چاہیے یا پوری مسجد کے تمام اسپیکر میں آواز آنا ضروری ہے؟

جواب

1: جمعہ کا خطبہ اور نماز دونوں کے لیے اسپیکر کی آواز اتنی   رکھنی چاہیے جس سے  حاضرین باآسانی آواز سن سكيں، لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ضرورت کے لیے ہے، اور ان چیزوں کا غیر موجود لوگوں کو سنانا ضرورت نہیں ہے، البتہ جمعہ سے پہلے جو اردو میں بیان کیا جاتا ہے اگر اس کے لیے لاؤڈ اسپیکر  کھولنے سے مقصود وعظ ونصیحت  اور  لوگوں تک دین کی باتیں پہنچاناہو تو  اس میں کوئی قباحت نہیں ہے،  ليكن  اگر مسجد کے بیرونی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سےبیماروں کو تکلیف پہنچتی ہو یا  تو   بیرونی لاؤڈ اسپیکر  کا استعمال درست نہیں ہوگا۔

2: نماز کے لیے بھی اسپیکر کی اتنی آواز رکھنی چاہیے جتنی نمازیوں کو ضرورت ہو ،  بغیر ضرورت کے اسپیکر کی آواز بہت زیادہ تیر رکھنا مناسب نہیں ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"أجمع العلماء سلفاً وخلفاً علی استحباب ذکر الجماعة في المساجد وغیرها إلا أن یشوش جهرهم علی نائم أو مصل أو قارئ".

(كتاب الصلاة ،باب الإمامة 660/1، ط: سعيد)

وفيه ايضا:

"وفي الفتح عن الخلاصة: ‌رجل ‌يكتب ‌الفقه ‌وبجنبه ‌رجل يقرأ القرآن فلا يمكنه استماع القرآن فالإثم على القارئ وعلى هذا لو قرأ على السطح والناس نيام يأثم اهـ أي لأنه يكون سببا لإعراضهم عن استماعه، أو لأنه يؤذيهم بإيقاظهم".

(كتاب الصلاة ، فصل في القراءة،546/1،ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وإذا جهر الإمام فوق حاجة الناس فقد ‌أساء؛ لأن الإمام إنما يجهر لإسماع القوم ليدبروا في قراءته ليحصل إحضار القلب. "

(الباب الرابع في صفة الصلاة ، الفصل الثاني في واجبات الصلاة :1/ 72، ط :رشيدية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712101476

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں