بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے دن روزہ رکھنا


سوال

نفلی روزہ جمعہ کے دن رکھ سکتے ہیں ؟

جواب

جمعہ کے دن نفلی روزہ  رکھنا جائز ہے، لیکن مناسب یہ ہے کہ اس کے ساتھ آگے یا پیچھے  ایک اور دن (جمعرات یا ہفتہ) کا روزہ بھی ملا لیا جائے ؛ تاکہ  اس دن کو خاص کرکے  ٖ فضیلت کا باعث  سمجھ  کر روزہ رکھنے میں کراہت لازم نہ آئے۔

وفي الشامیة (375/2):

"وَالْمَنْدُوبَ كَأَيَّامِ الْبِيضِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلَوْ مُنْفَرِدًا

(قَوْلُهُ: وَيَوْمُ الْجُمُعَةِ وَلَوْ مُنْفَرِدًا) صَرَّحَ بِهِ فِي النَّهْرِ وَكَذَا فِي الْبَحْرِ فَقَالَ: إنَّ صَوْمَهُ بِانْفِرَادِهِ مُسْتَحَبٌّ عِنْدَ الْعَامَّةِ كَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ وَكَرِهَ الْكُلَّ بَعْضُهُمْ اهـ وَمِثْلُهُ فِي الْمُحِيطِ مُعَلَّلًا بِأَنَّ لِهَذِهِ الْأَيَّامِ فَضِيلَةً وَلَمْ يَكُنْ فِي صَوْمِهَا تَشَبُّهٌ بِغَيْرِ أَهْلِ الْقِبْلَةِ كَمَا فِي الْأَشْبَاهِ وَتَبِعَهُ فِي نُورِ الْإِيضَاحِ مِنْ كَرَاهَةِ إفْرَادِهِ بِالصَّوْمِ قَوْلُ الْبَعْضِ وَفِي الْخَانِيَّةِ وَلَا بَأْسَ بِصَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ لِمَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَصُومُهُ وَلَا يُفْطِرُ. اهـ. وَظَاهِرُ الِاسْتِشْهَادِ بِالْأَثَرِ أَنَّ الْمُرَادَ بِلَا بَأْسٍ الِاسْتِحْبَابُ وَفِي التَّجْنِيسِ قَالَ أَبُو يُوسُفَ: جَاءَ حَدِيثٌ فِي كَرَاهَتِهِ إلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ فَكَانَ الِاحْتِيَاطُ أَنْ يَضُمَّ إلَيْهِ يَوْمًا آخَرَ. اهـ. قَالَ ط: قُلْت: ثَبَتَ بِالسُّنَّةِ طَلَبُهُ وَالنَّهْيُ عَنْهُ وَالْآخِرُ مِنْهُمَا النَّهْيُ كَمَا أَوْضَحَهُ شُرَّاحُ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ؛ لِأَنَّ فِيهِ وَظَائِفَ فَلَعَلَّهُ إذَا صَامَ ضَعُفَ عَنْ فِعْلِهَا."

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144204200895

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں