بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے دن مسجد میں جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے جمعہ کی نماز عیدگا میں ادا کی جاسکتی ہے


سوال

ہمارے ہاں ایک مسجد شہر میں ہے،اور اس میں جمعہ کی نماز شروع کی گئی ،اب صورت حال یہ ہے کہ عوام زیادہ ہوگئی ہےاور مسجد چھوٹی ہے،کئی دفعہ ایسا ہوا ہے،کہ جمعہ کی نماز کے وقت جگہ نہ ہونے کی وجہ سے لوگ واپس چلے گئے اور مسجد میں جمعہ پڑھنے کےلیے اور مسجد کے متصل کوئی جگہ بھی خالی نہیں ہے ،چنانچہ اس مجبوری کی بناء پر اب ہم اس مسجد میں جمعہ کی جماعت کے بجائے مسجد کے قریب واقع عیدگاہ میں جمعہ کی جماعت کرواتے ہیں ، اب پوچھنا یہ ہےکہ  مذکورہ مجبوری کی بنا پر جب تک مسجد کی توسیع نہیں ہوتی اس وقت تک عیدگاہ میں جمعہ کی جماعت ہوسکتی ہے یا نہیں؟ براہ کرم شریعت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔

تنقیح:قرب وجوار میں دوسری مسجد ہے یا نہیں ؟اوپر منزل بڑھا سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب  تنقیح:قرب وجوار میں  دوسری مسجد تین چار کلو میٹر کےفاصلہ پر ہے،اوپر منزل بڑھانے کی گنجائش نہیں ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بیان حقائق پر مبنی ہے کہ جمعہ کی نماز میں نمازیوں کی کثرت کے باعث موجودہ مسجد ناکافی ہو گئی ہے، اور مذکورہ مسجد کے قرب و جوار میں دوسری مسجد بھی تین چار کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، تو ایسی صورت میں جمعہ کی نماز مذکورہ مسجد ہی میں ادا کی جائے، جتنے لوگ آسکتے ہوں۔ باقی لوگ عیدگاہ میں الگ امام کے پیچھے جمعہ کی نماز ادا کریں۔

حلبی کبیری میں ہے:

"وفي الفتاوی الغیاثیة: لوصلی الجمعة في قریة بغیر مسجد جامع والقریة کبیرة  لها قری وفیها وال وحاکم جازت الجمعة بنوا المسجد أو لم یبنوا … والمسجد الجامع لیس بشرط، ولهذا أجمعوا علی جوازها بالمصلی في فناء المصر".

(کتاب الصلاۃ،فصل فی صلاۃ الجمعة،ص:551،ط:سهيل اكيڈمی)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: الإذن العام) أي أن يأذن للناس إذنًا عامًّا بأن لايمنع أحدًا ممن تصح منه الجمعة عن دخول الموضع الذي تصلى فيه، وهذا مراد من فسر الإذن العام بالاشتهار، وكذا في البرجندي إسماعيل، وإنما كان هذا شرطًا لأن الله تعالى شرع النداء لصلاة الجمعة بقوله: {فاسعوا إلى ذكر الله} [الجمعة: 9] والنداء للاشتهار، وكذا تسمى جمعة لاجتماع الجماعات فيها، فاقتضى أن تكون الجماعات كلها مأذونين بالحضور تحقيقًا لمعنى الاسم، بدائع".

(کتاب الصلاۃ،ج:2،ص:151،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"( و منها الإذن العام )  وهو أن تفتح ابواب الجامع فيؤذن للناس كافة حتي ان جماعة لو اجتمعوا في الجامع و أغلقوا أبواب المسجد علي أنفسهم و جمعوا لم يجز و كذلك السلطان إذا اراد أن يجمع بحشمه في داره فإن فتح باب الدار و أذن إذنًا عامًا جازت صلاته شهدها العامة أو لم يشهدوها، كذا في المحيط".

(کتاب الصلاۃ،الباب السادس عشر في صلاة الجمعة،ج:1،ص:148، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100132

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں