
کسی علاقے میں نمازِ جمعہ اور عیدین کے واجب ہونے کے لیے کم از کم کتنی آبادی ضروری ہے؟ نیز آبادی کی مردم شماری میں ان مسافروں کا شمار ہوگا یا نہیں، جو کئی مہینوں کے لیے مزدوری کی غرض سے کراچی وغیرہ گئے ہوئے ہوں؟
واضح رہے کہ نمازِ جمعہ اور عیدین کے صحیح ہونے کے لیے شہر، مضافاتِ شہر یا بڑی بستی / بڑے گاؤں (قریۂ کبیرہ) کا ہونا شرط ہے، قریۂ کبیرہ وہ بستی ہے جو لوگوں کے عرف میں بڑا گاؤں کہلاتی ہو اور جس کی مجموعی آبادی کم از کم دو ہزار سے تین ہزار افراد پر مشتمل ہو، نیز وہاں بازار اور دکانیں موجود ہوں، روزمرہ زندگی کی ضروری اشیاء بآسانی دستیاب ہوں، چناں چہ جس بستی میں یہ شرائط پائی جائیں وہاں نمازِ جمعہ اور عیدین کا قیام درست ہے، اور اگر یہ شرائط موجود نہ ہوں تو ایسی بستی میں جمعہ اور عیدین کی نماز قائم کرنا جائز نہیں، بلکہ جمعہ کے دن نمازِ ظہر ادا کرنا لازم ہوگا۔آبادی کی مردم شماری میں اُن مسافروں کو بھی شامل کیا جائے گا جو مزدوری کی غرض سے اپنے علاقے سے باہر جاتے ہیں، کیونکہ ان کا اصل گھر اور مستقل تعلق اپنے ہی علاقے سے ہوتا ہے، البتہ جو شخص مستقل طور پر کسی دوسرے علاقے میں رہائش اختیار کر لے، اس کا شمار آبادی میں نہیں کیا جائے گا۔
نیز اگر کسی جگہ شرائط کے بغیر پہلے سے جمعہ کی جماعت قائم چلی آ رہی ہو اور اسے بند کرنے سے شدید فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو تو فی الحال اسے باقی رہنے دیا جائے، تاہم ایسی جگہ نئی جماعتِ جمعہ قائم نہ کی جائے۔
فتاوٰی شامی میں ہے:
"وفي القهستاني: إذن الحاكم ببناء الجامع في الرستاق إذن بالجمعة اتفاقا على ما قاله السرخسي وإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه فليحفظ.
(قوله وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات".
(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:138، ط: سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح".
(كتاب الصلاة، فصل بيان شرائط الجمعة، ج:1، ص:260، ط: دار الكتب العلمية)
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله شرط أدائها المصر) أي شرط صحتها أن تؤدى في مصر حتى لا تصح في قرية، ولا مفازة لقول علي رضي الله عنه لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر، ولا أضحى إلا في مصر جامع أو في مدينة عظيمة رواه ابن أبي شيبة وصححه ابن حزم وكفى بقوله قدوة وإماما، وإذا لم تصح في غير المصر فلا تجب على غير أهله،۔۔۔۔۔۔۔۔وفي حد المصر أقوال كثيرة اختاروا منها قولين: أحدهما ما في المختصر ثانيهما ما عزوه لأبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث قال في البدائع، وهو الأصح وتبعه الشارح، وهو أخص مما في المختصر، وفي المجتبى وعن أبي يوسف أنه ما إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم للصلوات الخمس لم يسعهم، وعليه فتوى أكثر الفقهاء وقال أبو شجاع هذا أحسن ما قيل فيه، وفي الولوالجية وهو الصحيح".
(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعة، ج:2، ص:151/152، ط: دار الکتاب الإسلامی)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
”قصبہ اور بڑےگاؤں میں حنفیہ کے نزدیک جمعہ جائز ہے،چھوٹے گاؤں میں جائز نہیں ،بڑا گاؤں وہ ہےجس میں گلی کوچے ہوں ،بازارہو،روزمرہ کی ضروریات ملتی ہوں،تین چار ہزار کی آبادی ہو،ان میں مسلمان خواہ اقلیت میں یا برابر یازائد“۔
(باب صلوۃ الجمعۃ،فصل فی اشتراط المصر للجمعۃ، ج:8، ص:98، ط:دار الإفتاء جامعہ فاروقیہ)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101272
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن