
کیا جمعہ کی فجر کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سورہ دہر اور سورہ ألم سجدہ کے علاوہ بھی کوئی اور سورت پڑھنا ثابت ہےیا آپ نے ہمیشہ انہیں سورتوں کی قرآت فرمائی ہے؟ دراصل ہمارے یہاں کچھ بڑے علماء ان سورتوں کا اس قدر اہتمام کرتے اور کراتے ہیں جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ انہیں سورتوں کی قرآت فرمائی ہے۔
واضح رہے کہ کسی بھی نماز میں کسی سورت یا آیت کی قرات تعیین کے ساتھ اس طرح فرض نہیں ہے کہ اس کے پڑھے بغیر نماز درست نہ ہو، اسی لیے کسی نماز میں (سورۃ فاتحہ کے علاوہ ) پابندی کے ساتھ کسی متعین سورت کے پڑھنے کو فقہاء احناف نے مکروہ لکھا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جمعہ کی فجر میں سورۃ الم سجدۃ اور سورۃ دہر کے اہتمام کو اگر لازم سمجھا جائے یا اس قدر اہتمام کیا جائے کہ ناواقف آدمی یہ گمان کر بیٹھے کہ ان دو سورتوں کے بغیر نماز جائز ہی نہیں ہے تو یہ مکروہ ہے، البتہ اس نیت سے یہ سورتیں پڑھنا مستحب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعہ کی فجر میں یہ سورتیں پڑھنا ثابت ہے۔
باقی جمعہ کی فجر میں مذکورہ دو سورتوں کے علاوہ کسی سورت کی قرات سے متعلق امام ابوجعفر الطحاوی رحمہ اللہ(متوفیٰ: 321ھ) فرماتے ہیں کہ جن روایات میں یہ مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی فجر میں ان دو سورتوں کی قرات فرمائی ہے، ان میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے ان دو سورتوں کے علاوہ کسی سورت کی قرات نہیں فرمائی ؛کیوں کہ کسی روایت میں ان دو سورتوں کے علاوہ کوئی سورت پڑھنے کی ممانعت منقول نہیں ہےکہ جس سے باقی سورتوں کے پڑھنے کا عدمِ جواز ثابت ہو، بلکہ راوی نے فقط یہ بات نقل کی ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ دو سورتیں پڑھی تھیں، جس طرح عیدین سے متعلق کئی روایات میں یہ منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں سورۃ اعلی اور سورۃ غاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے، لیکن بعض روایات سے اس کے علاوہ کی (مثلاً سورۃ ق اور سورۃ قمر کی) قرات بھی ثابت ہےجس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کبھی آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے سورۃ اعلی و سورۃ غاشیہ کی تلاوت فرمائی اور کبھی کسی اور سورت کی، اسی طرح جمعہ کی فجر میں بھی اس بات کا احتمال ہے کہ ایک مرتبہ یا کئی مرتبہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے مذکورہ دو سورتوں کی تلاوت فرمائی ہو لیکن کبھی کسی دوسری سورت کی تلاوت بھی کی ہوتو راوی نے جو دیکھا اس کو روایت کر دیا، لہذا ان احادیث سے کسی نماز میں کسی سورت کی تعیین اور توقیت ثابت نہیں ہوتی۔
نیز مصنف عبد الرزاق میں حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ کی روایت سے حضور صلی اللہ علیہ سلم کاجمعہ کی فجر میں سورۃ الم سجدہ کے ساتھ سورۃ تبارک الذی پڑھنا بھی منقول ہے، جب کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جمعہ کی فجر میں سورۃ الحشر اور سورۃ الجمعہ پڑھنا ثابت ہے، اسی طرح حضرت ابراہیم النخعی رحمہ اللہ سے سورۃ كهيعص (سورۃ مریم)روایت کیا گیا ہے۔
شرح معانی الآثار میں ہے:
"2387 - وحدثنا فهد، قال: ثنا الحماني، ثنا شريك، عن أبي إسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، رضي الله عنهما «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ يوم الجمعة في صلاة الصبح الم تنزيل وهل أتى على الإنسان»... قال أبو جعفر: فليس في ذلك دليل على أنه كان لا يتجاوز ذلك إلى غيره ، لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يحك عنه أنه قال: لا يقرأ في صلاة الغداة يوم الجمعة مع فاتحة الكتاب غير هاتين السورتين حتى لا يجوز خلاف ذلك. ولكن إنما أخبر من رواهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه كان يقرأ بهما فيهما ، كما أخبر النعمان وابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في العيدين بما ذكرنا. ثم قد جاء عن غيرهما أنه قرأ بخلاف ذلك لأنه قرأ بهذا مرة ، وبهذا مرة. فكذلك ما حكي عنه من القراءة في صلاة الصبح يوم الجمعة ، يحتمل أن يكون قرأ به مرة أو قرأ به مرارا ثم قرأ بغيره فيحكي كل من حضره ما سمع من قراءته ، وليس في ذلك دليل على حكم التوقيت. وجميع ما ذهبنا إليه في هذا الباب قول أبي حنيفة ، وأبي يوسف ، ومحمد بن الحسن ، رحمهم الله تعالى."
(كتاب الصلاة، باب التوقيت في القراءة في الصلاة، 1/ 414، ط:عالم الكتب)
مصنف عبد الرزاق میں ہے:
"5238 - عن ابن جريج قال: أخبرت عن ابن مسعود قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ في صلاة الجمعة بسورة الجمعة وسبح اسم ربك الأعلى وفي صلاة الصبح يوم الجمعة الم تنزيل وتبارك الذي بيده الملك".
(كتاب الجمعة، باب القراءة في يوم الجمعة، 3/ 181، ت الأعظمي، ط:المجلس العلمي)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
"5446 - حدثنا وكيع، عن حسن بن صالح، عن أبيه، عن عثمان بن أبي صفية، عن علي «أنه قرأ في الفجر يوم الجمعة بسورة الحشر وسورة الجمعة...
5451 - حدثنا ابن فضيل، عن مغيرة، عن أبي حمزة الأعور، عن إبراهيم «أنه صلى بهم يوم الجمعة في الفجر، فقرأ بهم كهيعص".
(كتاب الجمعة، من كان يستحب أن يقرأ في الفجر يوم الجمعة بسورة فيها سجدة، 1/ 471، ت الحوت، ط: دار التاج)
ہدایہ مع فتح القدیر میں ہے:
"(وليس في شيء من الصلوات قراءة سورة بعينها) بحيث لا تجوز بغيرها لإطلاق ما تلونا (ويكره أن يوقت بشيء من القرآن لشيء من الصلوات) لما فيه من هجر الباقي وإيهام التفضيل".
وفي الفتح:
"(قوله ويكره أن يوقت) كالسجدة والإنسان لفجر الجمعة والجمعة والمنافقين للجمعة.
قال الطحاوي والإسبيجابي: هذا إذا رآه حتما يكره غيره.
أما لو قرأ للتيسير عليه أو تبركا بقراءته - صلى الله عليه وسلم - فلا كراهة، لكن بشرط أن يقرأ غيرهما أحيانا لئلا يظن الجاهل أن غيرهما لا يجوز، ولا تحرير في هذه العبارة بعد العلم بأن الكلام في المداومة".
(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل في القراءة، 1/ 337، ط: دار الفکر)
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:
"(ولا يتعين شيء من القرآن لصلاة على طريق الفرضية) بل تعين الفاتحة على وجه الوجوب (ويكره التعيين) كالسجدة و - {هل أتى} [الإنسان: 1]- لفجر كل جمعة، بل يندب قراءتهما أحيانا".
وفي الرد:
"(قوله على طريق الفرضية) أي بحيث لا تصح صلاة بدونه كما يقول الشافعي في الفاتحة (قوله ويكره التعين إلخ) هذه المسألة مفرعة على ما قبلها لأن الشارع إذا لم يعين عليه شيئا تيسيرا عليه كره له أن يعين، وعلله في الهداية بقوله: لما فيه من هجر الباقي وإيهام التفضيل".
(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل، 1/ 544، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144501102667
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن