بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے دن اذانِ اول اوراذانِ ثانی کے درمیان وقفہ سے متعلق چار سوالات


سوال

ہمارے علاقے میں عام طور پر یہ رواج ہے کہ جمعہ کی پہلی اذن اور دوسری اذان کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے یا اس سے زیادہ کا وقفہ رکھاجاتاہے،اس حوالہ سے چند سوالات ہیں:

1:اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،سلف صالحین اور امت کا عمل متوارث کیاتھا؟

2:ہمارے علاقے میں موجود طرز عمل جو رائج ہے، اس کے بارے میں شرعی حکم کیاہے؟

3:ہم جانتے ہیں کہ جمعہ کی پہلی اذان کے بعد سعی الی الجمعہ واجب ہے،لیکن موجودہ دور میں چوں کہ پہلی اذان  اور دوسری اذان کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے یا اس سے زائد وقفہ رکھاجاتاہے،اس لیے اگر کوئی شخص(گھر میں قبل الجمعہ کی سنتیں ادا کرے) اور دوسری اذان سے پہلے مسجد جاتاہے،یا(گھر میں سنتیں نہ پڑھنے کی صورت میں)دوسری اذان سے پہلے سنتیں ادا کرسکتاہو ،اتنا وقت لےکر وہ مسجد حاضر ہوتاہے،تو کیا وہ پہلی اذان کے فوراً بعد جمعہ کی نیت سے روانہ نہ ہونے کی وجہ سے گناہ گارہوگا؟

4:چوں کہ ہمارے علاقے میں پہلی اور دوسری اذان کے درمیان طویل وقفہ رکھاجاتاہے،اس لیے اکثر لوگ پہلی اذان کے فوراًبعد جمعہ کے ارادے سے روانہ نہیں ہوتے،یعنی سعی الی الجمعہ کو ترک کردیتے ہیں،اس گناہ سے لوگوں کو بچانے کے لیے بعض مقامات پر یہ طریقہ اختیار کیاگیاہےکہ جمعہ کا وقت داخل ہونے کے تقریباً ایک گھنٹہ پندرہ منٹ بعد پہلی اذان دی جاتی ہے،پھر مصلیوں کو چار رکعت قبل الجمعہ پڑھنے کے لیے پانچ تا سات منٹ کا وقفہ دیاجاتاہے،اس کے بعد دوسری اذان دےکر خطبہ اور جمعہ اد اکیا جاتاہے،اب سوال یہ ہے کہ لوگوں کو سعی الی الجمعہ ترک کرنے کے گناہ سے بچانے کے لیے جو طریقہ بعض مقامات پر رایج کیاگیاہے،شریعت کی نظر میں اس کا کیا حکم ہے؟کیا یہ بدعت میں شمار تو نہیں ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کے دور میں جمعہ کے دن فقط ایک اذان  دی جاتی تھی،روایات اور کتب سےترتیب کچھ یوں معلوم ہوتی ہے کہ زوال کے بعد قبل الجمعہ سنتیں پڑھی جاتی تھی،پھر اس کےبعد اذان ہوتی تھی اوراس کے بعد پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام درمیانی خطبہ ارشاد فرماتے تھے،جیسا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے ابواب الجمعہ کے ذیل میں مستقل باب باندھاہے"باب فی قصر الخطبۃ"،اس باب کی تشریح میں محدث العصر علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ نے معارف السنن جلد4،صفحہ 362 پر جمعہ کے خطبے کے مختصر ہونے کو سنت بیان کیاہےاور بطور دلیل حضرت عمار بن یاسر اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی روایات ذکر کی ہیں،اس کے بعد جب لوگوں کا مجمع بڑھا،تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک اور اذان کا اضافہ فرمایا،جس کا مقصد لوگوں کو جمعہ کی  تیاری کی طرف متوجہ کرنا تھا،یہ اذان زوال کے متصل بعد دی جاتی تھی اور اس کے بعد مختصر وقت ہوتاتھاکہ جس میں لوگ اپنے کام کاج اور دیگر مصروفیات کو چھوڑ کر جمعہ کی نماز کے لیے حاضر ہوتے تھے،بعض روایات کے مطابق  اس دوران بعض صحابہ کرام کا وعظ اور نصیحت کرنا بھی ثابت ہےاور اس کے بعد اذانِ ثانی اور پھر خطبہ ہوتاتھا،اسی طرح یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیے کہ جمعہ کی نماز میں  ہر موسم میں تعجیل افضل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کا کافی مجمع اکٹھا ہوتاہے،تو تاخیر کرنے سے ان کے لیے حرج پیدا ہوگا،اس لیے جمعہ کی نماز میں تعجیل افضل ہے۔

سائل کے سوالات کے جوابات مندرجہ ذیل ہیں:

1:جمعہ کے دونوں اذانوں کے درمیان وقفہ کے متعلق  سلف کا یہ معمول تھا کہ زوال ہوتے ہی اذانِ اول ہوجایاکرتی تھی،اس کے بعد اتنا وقفہ کہ جس میں لوگ اپنے کاموں کو چھوڑ کر مسجد کی طرف آیاکرتے تھے اور اس کے بعد بعض روایات کے  مطابق حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کا وعظ ونصیحت کرنا بھی ثابت ہےاورپھر اذانِ ثانی اور مختصر خطبہ ہواکرتاتھا۔

2:جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ   جمعہ کےدن  پہلی اذان خلیفہ ثالث کے زمانے سےزوالِ آفتاب کے فورًا بعد دی جاتی آرہی ہے ،اس کامقصد لوگوں کو نماز ِجمعہ کے لیے متوجہ کر کے انہیں روانہ کرنے کے لیے ہے تاکہ لوگوں کو جمعہ کے وقت کا علم ہو جائے اور اپنی خرید و فروخت اور دیگر  دنیاوی امور چھوڑ کر نماز جمعہ کے لیے روانہ ہو جائیں،جب کہ دوسری اذان کا مقصد نماز شروع ہونے  کا وقت  قریب ہونے اور آغاز خطبہ کی اطلاع ہے، جو  خطیب کےمنبر پر بیٹھنے  سے شروع ہوتا ہے ۔

چناں چہ جمعہ کی دونوں اذانوں کے درمیان فاصلہ ہونا ضروری ہے اوروہ درمیانی  وقفہ اتنا ہونا چاہیے کہ لوگ جمعہ کی نماز کے لیے تیار ہو کر چلے جائیں ،لیکن اگر وہ وقفہ اتنا زیادہ ہو جیسا کہ ڈیڑھ گھنٹہ یا اس سے کچھ کم زیادہ،تو اس سے اذانِ اول کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے؛کیوں کہ لوگ پھر اسی بات کو ذہن میں بٹھائےرکہیں گے،کہ ابھی تو ڈیڑھ گھنٹہ ہے،اس لیے وہ تو نہ کاروبار وغیرہ بند کریں گےاور نہ ہی جمعہ کے لیے تیاری شروع کریں گے،جس سے ایک مقصدِاذان پورا نہیں ہوگا اور پھر لوگ گناہ گار ہوں گے،نیز زیادہ وقفہ دیناان کوگناہ میں مبتلاء کرنے کا بھی کسی درجہ کا  سبب ہے،اس لیے دونوں اذانوں کے درمیان اتنا زیادہ فاصلہ رکھنا مناسب نہیں،بلکہ مناسب یہ ہے کہ زوال کے بعد جیسے ہی اذانِ اول دی جاۓ،تو اس کے بعد امام صاحب مختصر سا وعظ ونصیحت کردیں اور اس کے بعد سنتیں،پھر اذانِ ثانی ،خطبہ اور نماز پڑھی جائے۔

3:واضح رہے کہ جمعہ کی پہلی اذان کے بعد ہی  سعی الی الجمعۃ واجب ہے، لہذا  پہلی اذان کے بعد  سے  کسی ایسے دنیاوی کام میں مشغول ہونا جو جمعہ کی سعی سے متعلق نہ ہو،جائز نہیں ہے، اس لیے جو دنیاوی کسی کام میں مشغول ہوجانے کی وجہ سے یا بلا کسی عذر  اذانِ اول کے بعد جمعہ کی نماز کے لیے نہیں جاتا،وہ گناہ گار ہوگا،البتہ اگر کوئی شخص جمعہ کی تیاری سے فارغ ہوچکاہواور اذانِ اول اور ثانی کے درمیان وقفہ بھی زیادہ ہے،توو ہاں اگر کوئی شخص مسجد میں بیٹھنے کے بجاۓ گھر میں نماز،تلاوت یا کسی دینی کام میں مشغول ہوتاہے اور پھر خطبہ سے قبل اتنی دیر پہلے مسجد میں پہنچ جاتاہے کہ سنت قبلیہ اداکرسکے،تو وہ شرعاً گناہ گار نہیں ہوگا۔

لہذاجو حرج سائل نے ذکر کیاہے کہ اذانِ اول اور ثانی کے درمیان وقفہ زیادہ رکھاجاتاہے،اس لیےلوگ اذانِ ثانی سے کچھ وقت پہلے مسجدجاتے ہیں،یہ حرج واقعی قابل توجہ ہے، اس کے لیے یہی صوت اختیارکرنی چاہیے،کہ دونوں اذانوں کے درمیان غیر ضروری  وقفہ نہ رکھاجاۓ،بلکہ حسب ضرورت اور مختصر وقفہ رکھاجاۓ۔

4:جمعہ کی نماز کے متعلق ہمارے ہاں عموماً چارطریقے پاۓ جاتے ہیں:

الف:زوال ہوتے ہی اذانِ اول دی جاتی ہے،اس کے بعد کافی وقفہ دیاجاتاہے،جیسا کہ ڈیڑھ گھنٹہ یا اس سے کچھ زیادہ کم،اس میں اذانِ اول اور بیان کے درمیان وقفہ رکھاجاتاہے،تو یہ طریقہ درست نہیں ہے،یہ طریقہ لوگوں کو تارک واجب بنانے کا باعث ہے۔

ب:زوال کے بعد اذان دی جاتی ہے،اس کے بعد قومی زبان میں تقریر کی جاتی ہے،پھرسنتیں پڑھی جاتی ہیں،اس کے بعد اذان ِثانی،خطبہ اور نماز پڑھی جاتی ہیں،تو یہ طریقہ سب سے بہترہے؛کیوں کہ یہی طریقہ اسلاف سے  ثابت ہے اور امت کے لیے اس میں آسانی بھی ہے،کہ اس میں اذان ِاول اور ثانی کے درمیان وقفہ بھی زیادہ نہیں ہوتا،بلکہ اذانِ اول کے بعد لوگ جمعہ کی تیاری میں مصروف ہوجاتے ہیں،یا جو جمعہ کی تیاری سے فارغ ہوچکاہو،وہ مسجد جاکر امام کا بیان سننے میں مشغول ہوجاتاہے اور اس کے بعد اذانِ ثانی اور خطبہ شروع ہوجاتاہے،تاہم اس میں بیان زیادہ طویل نہ کرنا مناسب ہے۔

ج:ایک طریقہ یہ بھی ہے جو سائل نے  بیان کیاہےکہ اذانِ اول کو مؤخر کرکے پہلے وعظ ہوتاہے، اس کے اختتام پر اذانِ اول ہوتی ہے پھر سنتوں کا وقت دیا جاتا ہے، پھراس کے بعد اذانِ ثانی کہی جاتی ہے اور خطیب خطبہ پڑھتاہے، تو اس طریقہ میں اذانِ اول اور ثانی کے درمیان صرف سنت پڑھنے کا وقفہ ہوتاہے،تویہ طریقہ جائز توہے،تاہم مناسب  اور محتاط وہی دوسرا طریقہ ہےجو ہم نے ذکر کیا ہے؛کیوں کہ اگر یہ طریقہ مناسب ہوتاجو سائل نے ذکر کیاہے،تو  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شخصیات جو کہ سابقین الی الخیرات تھیں وہ اس طریقہ کو ضرور انجام دیتیں، لہذا  یہ  طریقہ سلفِ صالحین کے طرز سے ہٹ کرہے۔(مزید تفصیل کے لیے فتاوی بینات 2/289 کا مطالعہ کیجیے)۔

د:ایک اور طریقہ بھی ہے کہ جس میں جمعہ کی نماز   دیر سے پڑھی جاتی ہے،تواگر کسی ضرورت اور مصلحت کے تحت ایسا کیاجاۓتو ان کے لیے پھر مناسب یہ ہے کہ وہ اذانِ اول کو زوال کے متصل بعد نہ دیں؛کیوں کہ اس میں لوگوں کے لیے سعی پر عمل کرنے کے سلسلے حرج پیدا ہوگا،بلکہ ان کو چاہیے کہ جو وقت بیان کا ہو،اس سے کچھ دیر پہلے اذانِ اول دی جاۓ،اس کے بعد بیان،پھر سنتیں،اذانِ ثانی،خطبہ اور نماز کی ترتیب  بنالیں۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن السائب بن يزيد، قال: «كان الأذان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وعمر، إذا خرج الإمام، وإذا أقيمت الصلاة، فلما كان عثمان زاد النداء الثالث على الزوراء: هذا حديث حسن صحيح."

(ابواب الجمعة ، باب ما جاء فی اذان الجمعة جلد ۲ ص: ۳۹۲ ط: شرکة مکتبة و مطبعة مصطفي البابي الحلبي ، مصر)

سیراعلام النبلاء میں ہے:

"أسامة بن زيد، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن: إن تميما استأذن عمر في القصص سنين، ويأبى عليه، فلما أكثر عليه قال: ما تقول؟ قال: أقرأ عليهم القرآن، وآمرهم بالخير، وأنهاهم عن الشر. قال عمر: ذاك الربح. ثم قال: عظ قبل أن أخرج للجمعة.فكان يفعل ذلك، فلما كان عثمان استزاده، فزاده يوما آخر."

(حرف التاءالمثناۃ فوقھا،فصل  في بقية كبراء الصحابةةج:4،ص: 77،ط:دارالحديث،القاهرة)

مجمع الزوائد میں ہے:

"وعن عمر بن دينار أن تميما الداري استأذن عمر في القصص فأبى أن يأذن له، ثم استأذنه فأبى أن يأذن له، ثم استأذنه فقال: إن شئت وأشار بيده - يعني الذبح -.رواه الطبراني في الكبير، ورجاله رجال الصحيح، إلا أن عمرو بن دينار لم يسمع من عمر."

(کتاب العلم،باب فی القصص،ج:1،ص: 189،ط:مكتبة القدسي،القاهرة)

شرح مشکل الآثار میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من كان مصليا، فليصل ‌قبل ‌الجمعة أربعا، وبعدها أربعا "

(‌‌باب بيان مشكل ما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما يتطوع به بعد صلاة الجمعة من الركوع في الموطن الذي يصلي فيه،ج:10،ص: 299،ط:مؤسسةا لرسالة)

المعجم الكبيرللطبراني میں ہے:

"عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، يركع قبل الجمعة أربعا، وبعدها أربعا لا يفصل بينهن."

(باب العین،‌‌عطية العوفي، عن ابن عباس،ج:12،ص: 129،ط:مكتبة ابن تيمية - القاهرة)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"قال (والتطوع بعد الجمعة أربع لا فصل بينهن إلا بتشهد وقبل الجمعة أربع) أما ‌قبل ‌الجمعة فلأنها نظير الظهر والتطوع قبل الظهر أربع ركعات، وفي حديث ابن عمر رضي الله عنهما «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يتطوع ‌قبل ‌الجمعة أربع ركعات."

(کتاب الصلاۃ،باب مواقیت الصلاۃ،ج:1،ص: 157،ط:مطبعة السعادة - مصر

مجمع الأنهرمیں ہے:

"(‌ويجب ‌السعي وترك البيع بالأذان الأول) والواقع عقيب الزوال لقوله تعالى {إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله وذروا البيع} [الجمعة: 9] وقيل بالأذان الثاني لكن الأول هو الأصح وهو مختار شمس الأئمة لأنه لو انتظر الأذان عند المنبر يفوته أداء السنة وسماع الخطبة وربما يفوت الجمعة إذا كان بيته بعيدا من الجامع."

(کتاب الصلاۃ،باب صلاة الجمعة،ج:1، ص:171، ط: دار إحياء التراث العربي)

الموسوعة الفقهيةمیں ہے:

"وللجمعة أذانان، أولهما عند دخول الوقت، وهو الذي يؤتى به من خارج المسجد - على المئذنة ونحوها - وقد أمر به سيدنا عثمان رضي الله عنه حين كثر الناس.

والثاني وهو الذي يؤتى به إذا صعد الإمام على المنبر، ويكون داخل المسجد بين يدي الخطيب، وهذا هو الذي كان في عهد النبي صلى الله عليه وسلم وعهد أبي بكر وعمر حتى أحدث عثمان ‌الأذان ‌الثاني."

(دخول وقت الصلاة، ج:2، ص:363، ط: دارالسلاسل كويت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وجمعة كظهر أصلا واستحبابا) في الزمانين؛ لأنها خلفه

(قوله: واستحبابا في الزمانين) أي الشتاء والصيف ح، لكن جزم في الأشباه من فن الأحكام أنه لا يسن لها الإبراد. وفي جامع الفتاوى لقارئ الهداية: قيل إنه مشروع؛ لأنها تؤدى في وقت الظهر وتقوم مقامه، وقال الجمهور: ليس بمشروع؛ لأنها تقام بجمع عظيم، فتأخيرها مفض إلى الحرج ولا كذلك الظهر وموافقة الخلف لأصله من كل وجه ليس بشرط."

(کتاب الصلاۃ،ج:1،ص: 367،ط:سعید)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"قال الله تعالى فاسعوا إلى ذكر الله وذروا البيع فاقتضى ذلك وجوب السعي إلى الذكر ودل على أن هناك ذكرا واجبا يجب السعي إليه۔۔۔ويدل على أن المراد بالذكر هاهنا هو الخطبة أن الخطبة هي التي تلي النداء وقد أمر بالسعي إليه فدل على أن المراد الخطبة."

(سورۃ الجمعة،باب وجوب الجمعة،ج:5،ص: 338،ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101868

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں