
پردہ کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ، لیکن آج کل شرعی پردہ ہوتا ہے اور نہ ہی ہمارے گھر کا ماحول ایسا ہے،بلکہ رسمی پردہ ہی ہوتا ہے۔ہمارے گھر میں بھی ایسا ہی ہے ۔ میں نے جب شرعی پردہ کا سوچا اور میں نےسب سے بات بھی کی ،تو کوئی ساتھ نہیں دیتا۔ سب ڈرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر کر سکتی ہو تو کر لو ، ایسا نہ ہو کے بعد میں مشکل ہو اور چھوڑ دو، میری شادی جوائنٹ فیملی میں ہوئی ہے۔ اور میرے ۳ دیور ہیں گھر زیادہ بڑا نہیں ہے۔ آمنا سامنا بھی بہت ہے۔ میں ویسے نماز کی طرح دوپٹہ لے کر رکھتی ہوں۔ لکن چہرہ کھلا ہوتا ہے۔ جب ک چہرے کا بھی پردہ ہے۔ اور گھر کا ماحول شرعی نہیں ہے ، اور میرے لیے ایسا ماحول بنانا بھی مشکل ہے۔ اور میرے شوہر الگ گھر کی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔ تو میں چہرے کا پردہ کیسے کروں ؟میں نے ہر طرح سے سوچ کر دیکھا کہ ایسے ہو جائے یا ویسے ،لیکن مشکل ہے ۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ یہ میری ضد بن گئی ہے لیکن پردہ تو فرض ہے نا۔ پھر ضد کیسے جو ہو سکتی ہے۔ پھر ذہن میں یہی آتا ہے کہ جیسے بازار میں پردہ کر کے اپنی خریدو فروخت کرتی ہو۔ ویسے ہی گھر میں آنے جانے والے کو توکچھ کہہ نہیں سکتی۔ اپنےچہرے پر نقاب کر کے اپنا کام کرتی رہو۔ میری یہ مشکل آسان کریں کہ ان معاملات میں میرے لیے کیا آسانی ہے؟ اور میرے لیے مشکل یہ بھی ہے کہ میں اپنے کمرے میں بھی سارا دن نہیں رہ سکتی ۔ گرمیوں میں تو میرے کمرے میں بہت گرمی ہوتی ہے دومنٹ بھی رہنا دشوار ہوتا ہے تو میرا سارا دن نیچے ہی گزرتا ہے۔ کچن بھی الگ نہیں ہے میرا۔ سب ساتھ ہے۔ اور گرمیوں میں سب چھت پر سوتے ہیں چارپائیاں دور دور ہوتی ہیں لکن ایسا کوئی پردہ نہیں ہوتا ۔
دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ آج کل شادی بیاہ میں کچھ لڑکیاں پردہ کرتی ہیں جن کو شوخ لباس مطلب کہ جاذب نظر لباس پہنا ہوتا ہے، اورساتھ ہی میچنگ کا نقاب کیا ہوتا ہے، تو یہ کس حد تک جائز ہے چہرہ بیشک چھپا ہوا ہے، لباس بھی تنگ یا باریک نہیں ،لکن شوخ لباس ہے زینت تو ظاہر ہو رہی ہے۔ تو ایسے پردہ کا کیا حکم ہے۔ صحیح ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو پھر شادی بیاہ میں کیسے پردہ کریں ۔
اجتماعی گھر (جوائنٹ فیملی جس میں عورت کے نامحرم یعنی دیور، جیٹھ بھی رہتے ہوں) میں بھی باوجود سخت مشکلات کے پردہ کا حکم ختم نہیں ہوتا، بلکہ پردہ کرنا لازمی اور ضروری ہوتا ہے،البتہ ایسے گھر میں چونکہ چہرہ کا نقاب کر کے پردہ کرنا مشکل ہوتا ہے،توشرعاًاس بات کی گنجائش ہے کہ عورت کام کاج کے دوران سرپربڑی چادر یا دوپٹہ رکھ کر کام کرے،اگرنامحرم کے آنےکامحسوس ہو تواپنا رخ دوسری طرف کر لے،اور نامحرموں کو اس بات کی پابندی کرنی چاہیے کہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے اپنی آمد کے بارے میں آگاہ کریں،خواہ بیل بجا کر یا کھنکھار کر،پھر بھی اگر غیر ارادی نگاہ پڑ جائے،تو اس پر عنداللہ مؤاخذہ نہیں ہوگا، لیکن اس بات کا خاص اہتمام کرنا چاہیے کہ نامحرم رشتہ داروں کے ساتھ خلوت میں بالکل اختلاط نہ ہو، اور بے جا ہنسی مذاق سے بھی اجتناب ہو،اسی طرح اکھٹے محرم نامحرم بیٹھ کر کھانا کھانے سے اجتناب بھی ضروری ہے۔
(2)واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیا ہے، جو کہ عورت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا انعام ہے، اسی پردے میں عورت کی عزت ہے، یہی عورت کی حیا کی حفاظت کا ذریعہ ہے، اس لیے اس بات کا تقاضا یہ ہے کہ جب عورت کسی ضرورت کے لیے گھر سے نکلے تو اس کو چاہیے کہ ایک تو مکمل پردے کے ساتھ باہر نکلے، دوسرا یہ کہ باہر نکلتے وقت ایسا برقعہ نہ پہنے جس سے اس کا پردہ نہ ہوتا ہو، حیا کی حفاظت نہ ہوتی ہو، اور جو مردوں کو اپنی جانب متوجہ کرے، کیوں کہ جس طرح بے پردہ ہوکر نکلنا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے، اسی طرح فیشن والے برقعہ پہن کر باہر نکلنا بھی اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔
لہٰذافیشن والے یاکڑھائی والے ایسےبرقعے جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کریں ایسے برقعے پردے کے مقصد کے خلاف ہیں جب کہ پردے کا حکم اللہ تعالی کا حکم ہے اور اس کی روح اور مقصد پر عمل کرنا ایک مسلمان عورت دینی ذمہ داری ہے۔لہٰذا ایک باحیا عورت کا برقعہ انتہائی سادہ ہو، اس میں ایسے نقش ونگار اور زیب وزینت یا ایسا رنگ نہ ہو جو جاذبِ نظر ہونے کی وجہ سے مردوں کی توجہ کا سبب بنے۔
برقعہ چست وباریک نہ ہو کہ اس سے جسم کی ہیئت اور نشیب وفراز ظاہر ہو، بلکہ ڈھیلا ڈھالا ہو، جس سے جسم کے اعضاءنمایاں نہ ہوتے ہوں۔
برقعہ اس قدر بڑا ہو جس میں جسم اچھی طرح چھپ جائے۔
برقعہ مردوں کے لباس کے مشابہ نہ ہو، اسی طرح کافروں یا دین بیزار عورتوں کے فیشنی برقعہ کے مشابہ بھی نہ ہو، کیوں کہ ان لوگوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
برقعہ پرمہکنے والی خوشبو بھی نہ لگائی جائے، جو کہ مردوں کے لیے فتنے کا سبب بنے۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «صنفان من أهل النار لم أرهما، قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات، رءوسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة، ولا يجدن ريحها، وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا»"
؛(کتاب اللباس والزینة،باب النساء الكاسيات،ج:3،ص:1680،الرقم:2128،ط:دارإحياء التراث)
ترجمہ:ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ جنہیں میں نے نہیں دیکھا ایک قسم تو ان لوگوں کی ہے کہ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کوڑے ہیں جس سے وہ لوگوں کو مارتے ہیں اور دوسری قسم ان عورتوں کی ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں وہ سیدھے راستے سے بہکانے والی اور خود بھی بھٹکی ہوئی ہیں ان عورتوں کے سر بختی اونٹوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں وہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پا سکیں گی جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت(یعنی دور) سے محسوس کی جا سکتی ہے۔"
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
:روي عن عبد الله قال الجلباب الرداء ...وقال ابن عباس ومجاهد تغطي الحرة إذا خرجت جبينها ورأسها خلاف حال الإماء وحدثنا عبد الله بن محمد قال حدثنا الحسن قال أخبرنا عبد الرزاق قال أخبرنا معمر عن أبي خيثم عن صفية بنت شيبة عن أم سلمة قالت لما نزلت هذه الآية يدنين عليهن من جلابيبهن خرج نساء من الأنصار كان على رؤسهن الغربان من أكسية سود يلبسنهاقال أبو بكر في هذه الآية دلالة على أن المرأة الشابة مأمورة بستر وجها عن الأجنبيين وإظهار الستر والعفاف عند الخروج لئلا يطمع أهل الريب فيهن."
(تفسير سورة الأحزاب،آيت:59،ج:5،ص:245،ط:دارإحياء التراث)
وفیہ ایضا :
"وقوله تعالى: {ولا يضربن بأرجلهن ليعلم ما يخفين من زينتهن} روى أبو الأحوص عن عبد الله قال: "هو الخلخال"، وكذلك قال مجاهد: "إنما نهيت أن تضرب برجليها ليسمع صوت الخلخال" وذلك قوله: {ليعلم ما يخفين من زينتهن} . قال أبو بكر: قد عقل من معنى اللفظ النهي عن إبداء الزينة وإظهارها لورود النص في النهي عن إسماع صوتها; إذ كان إظهار الزينة أولى بالنهي مما يعلم به الزينة، فإذا لم يجز بأخفى الوجهين لم يجز بأظهرهما; وهذا يدل على صحة القول بالقياس على المعاني التي قد علق الأحكام بها، وقد تكون تلك المعاني تارة جلية بدلالة فحوى الخطاب عليها وتارة خفية يحتاج إلى الاستدلال عليها بأصول أخر سواها. وفيه دلالة على أن المرأة منهية عن رفع صوتها بالكلام بحيث يسمع ذلك الأجانب; إذ كان صوتها أقرب إلى الفتنة من صوت خلخالها; ولذلك كره أصحابنا أذان النساء; لأنه يحتاج فيه إلى رفع الصوت والمرأة منهية عن ذلك، وهو يدل أيضا على حظر النظر إلى وجهها للشهوة; إذ كان ذلك أقرب إلى الريبة وأولى بالفتنة."
( سورة النور، باب الرجل يطلق امرأته طلاقا بائنا ثم يقذفها، في إباء أحد الزوجين اللعان، ج: 3، ص: 412، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"وإن كان على المرأة ثياب فلا بأس بأن يتأمل جسدها وهذا إذا لم تكن ثيابها ملتزقة بها بحيث تصف ما تحتها، ولم يكن رقيقا بحيث يصف ما تحته، فإن كانت بخلاف ذلك فينبغي له أن يغض بصره اهـ. وفي التبيين قالوا: ولا بأس بالتأمل في جسدها وعليها ثياب ما لم يكن ثوب يبين حجمها، فلا ينظر إليه حينئذ... أقول: مفاده أن رؤية الثوب بحيث يصف حجم العضو ممنوعة ولو كثيفا لا ترى البشرة منه."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج: 6، ص: 366،365، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702102076
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن