بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1448ھ 22 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

جوتوں پر مسح کرنا/جوتوں میں نماز پڑھنے کا حکم


سوال

ہم یہاں کینیڈا میں رہتے ہیں،اور سردیوں میں کافی زیادہ منفی سینٹی گریڈ ہو جاتا ہے۔ میرے والد صاحب ٹرک چلاتے ہیں اور اس صورت میں اکثر تسلی سے کسی مسجد میں اتر کر نماز پڑھنے کی سہولت نہیں ہوتی۔ ایسی ٹھنڈ میں اگر موزہ نہ پہنا ہو تو کیا پاؤں پھر بھی دھونا ضروری ہے؟ یا جوتے کے اوپر جو واٹر پروف ہوتے ہیں ان پر مسح کیا جا سکتا ہے؟ مزید یہ کہ اگر دھونا ہی ہے تو کیا محض فرض پورا کرنے کے لیے ہاتھ گیلا کر کے پورے پاؤں پر صرف مل دیا جائے تا کہ پاؤں ٹھنڈے نہ ہوں،کافی ہے؟

دوسرا بعض روایات میری نظر سے گزری کہ جن میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ ایسے الفاظ سے کہ جوتوں میں نماز پڑھا کرو، یہود جوتوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔ اسی طرح یہ بھی کہیں پڑھا کہ احناف کے نزدیک مکروہ ہے یا جوتا پاک ہونا لازمی ہے۔لہذا بعض دفعہ یہاں کینیڈا میں گرمیوں یا سردیوں میں یا ہلکی بارش یا برف میں ایسے باہر گھاس پر ہی نماز پڑھنی پڑتی ہے جہاں مسجد دور ہو، تو کیا تب جوتے کے ساتھ نماز جائز ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ جن موزوں پر شرعا مسح کرنے کی اجازت دی گئی ہے ،ان میں درج ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

1-وہ موزے چمڑے کے ہوں یا چمڑے کا نہ ہو، مگر اتنے موٹے ہوں کہ ان میں پانی نہ چھنے۔

2- بغیر باندھےوہ پنڈلیوں کو ڈھانپے رہیں۔

3-تین میل تک مسلسل ان میں چلا جاسکے اور وہ نہ پھٹیں۔

لہذا اگر مذکورہ شرائط جوتوں میں پاۓ جائیں تو ان پر بھی مسح کرنا جائز ہے،البتہ عام جوتوں پر (جن میں ٹخنے ظاہر ہوتے ہیں) مسح کرنا جائز نہیں۔نیز موزے نہ ہونے کی صورت میں پاؤں پر صرف گیلا ہاتھ پھیرنا جائز نہیں ہے بلکہ پاؤں کا دھونا ضروری ہے۔مذکورہ صورت حال میں بہتر یہی ہے کہ چمڑے کے موزے پہنے جائیں۔

عام زمین یا گھاس وغیرہ پر نماز پڑھنے کی صورت میں جوتوں کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے،بشرطیکہ جوتے پاک ہوں،اور پاؤں کی انگلیاں جوتوں کے ساتھ ملے ہوۓ ہوں،اگر جوتے ناپاک ہوں یا پاؤں کی انگلیاں جوتوں سے ملے ہوۓ نہ ہوں،تو ان میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہوگا،کیونکہ سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کا زمین کے ساتھ متصل ہونا ضروری ہے،جبکہ اس صورت میں انگلیاں زمین سے متصل نہیں ہوں گی۔ نیز مسجد میں جوتوں سمیت جانا چونکہ مسجد کی تلویث کا باعث ہے ،اس لیے فقہاء نے مسجد میں جوتوں سمیت نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(شرط مسحه) ثلاثة أمور: الأول (كونه ساتر) محل فرض الغسل (القدم مع الكعب) أو يكون نقصانه أقل من الخرق المانع، فيجوز على الزربول لو مشدودا إلا أن يظهر قدر ثلاثة أصابع،وجوز مشايخ سمرقند ستر الكعبين باللفافة.

(و) الثاني (كونه مشغولا بالرجل) ليمنع سراية الحدث، فلو واسعا فمسح على الزائد ولم يقدم قدمه إليه لم يجز ولا يضر رؤية رجله من أعلاه.(و) الثالث (كونه مما يمكن متابعة المشي) المعتاد (فيه) فرسخا فأكثر".

(كتاب الطهارة، باب المسح علی الخفین،  ج1، ص:263-261، ط:ایچ ایم سعید)

وفیه أیضا:

"(قوله وصلاته فيهما) أي في النعل والخف ‌الطاهرين ‌أفضل مخالفة لليهود تتارخانية.وفي الحديث " «صلوا في نعالكم، ولا تشبهوا باليهود» رواه الطبراني كما في الجامع الصغير رامزا لصحته. وأخذ منه جمع من الحنابلة أنه سنة ولو كان يمشي بها في الشوارع، لأن النبي - صلى الله عليه وسلم - وصحبه كانوا يمشون بها في طرق المدينة ثم يصلون بهاقلت: لكن إذا خشي تلويث فرش المسجد بها ينبغي عدمه وإن كانت طاهرة. وأما المسجد النبوي فقد كان مفروشا بالحصى في زمنه - صلى الله عليه وسلم - بخلافه في زماننا، ولعل ذلك محمل ما في عمدة المفتي من أن دخول المسجد متنعلا من سوء الأدب تأمل۔"

(کتاب الصلاۃ ،ج:1،ص:657، ط:سعید)

الموسوعة الفقهيةمیں ہے:

"وقال الكاساني: ‌قد ‌ثبت ‌بالتواتر أن النبي صلى الله عليه وسلم ‌غسل رجليه في الوضوء، لا يجحده مسلم، فكان قوله وفعله بيان المراد بالآية ."

(الموسوعة الفقهية الکویتیه،‌‌فروض الوضوء،‌‌ الفرض الرابع غسل الرجلين، ج:43، ص:352، ط:دارالسلاسل )

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولو سجد ولم يضع قدميه على الأرض لا يجوز ولو وضع إحداهما جاز مع الكراهة إن كان بغير عذر".

(كتاب الصلاة، الباب الرابع في صفة الصلاة، ج:1، ص:70، ط:دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144801101378

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں