
جوتوں کے تلوں پر عتیق یا زارا لکھا ہو، اسے پہننے کا حکم؟
واضح رہے کہ حروفِ تہجی قابلِ احترام ہیں ؛ اس لیے ان حروف کو ایسی جگہ لکھنا جس سے ان کی بے ادبی کا اندیشہ ہو ، درست نہیں ہے ، فقہاء کرام نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ اگر تیر کے نشانہ کی جگہ (ہدف) پر ابوجہل، فرعون وغیرہ کا نام لکھاہوتو اس پر تیر کا نشانہ لینا حروف کی حرمت کی وجہ سے مکروہ ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر جوتوں کے تلوں پر "زارا" لکھا ہو، اگرچہ یہ ایک برانڈ کا نام ہے اور اس سے کوئی مقدس معنی مراد نہیں ہوتا، لیکن چونکہ یہ حروفِ تہجی پر مشتمل ہے اور جوتوں کے تلوے زمین پر لگتے ہیں، اس لیے ان حروف کی بے ادبی کا اندیشہ پایا جاتا ہے، لہٰذا ایسے جوتے پہننے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اور اگر جوتوں کے تلوں پر "عتیق" لکھا ہو تو یہ قرآنِ کریم کا لفظ ہے، اس لیے اسے ایسی جگہ لکھنا جہاں اس کی بے ادبی کا امکان ہو، زیادہ قباحت کا باعث ہے، پس ایسے جوتوں کا استعمال درست نہیں ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"إذا كتب اسم فرعون أو كتب أبو جهل على غرض يكره أن يرموا إليه؛ لأن لتلك الحروف حرمة، كذا في السراجية."
(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، ج: 5، ص: 323، ط: دار الفكر بيروت)
وفيه أيضاً:
"ولو كتب القرآن على الحيطان و الجدران، بعضهم قالوا: يرجى أن يجوز، و بعضهم كرهوا ذلك مخافة السقوط تحت أقدام الناس، كذا في فتاوي قاضيخان."
(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، ج:5، ص:323، ط:دار الفكر بيروت)
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
"قال الطيبي فيه دليل على وجوب تنحية المستنجي اسم الله تعالى واسم رسوله والقرآن اهـ وقال الأبهري وكذا سائر الرسل اهـ وقال ابن حجر استفيد منه أنه يندب لمريد التبرز أن ينحى كل ما عليه معظم من اسم الله تعالى أو نبي أو ملك فإن خالف كره لترك التعظيم اهـ وهو الموافق لمذهبنا كما في شرح المشكاة قال بعض الحذاق ومنه يعلم كراهة استعمال نحو ابريق في خلاء مكتوب عليه شيء من ذلك اهـ وطشت تغسل فيه الأيدي."
(كتاب الطهارة، فصل فيما يجوز به الاستنجاء، ص:54، ط:دار الكتب العلمية بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101340
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن