
میرے بھائی شرعی حیثیت سے بال کٹنگ کی ویڈیو بناتے ہیں، مطلب ایک سائیڈ کٹنگ یا ڈاڑھی کی کٹنگ بھی نہیں کرتے، پھر اُس ویڈیو کو ٹک ٹاک پر ڈال کر پیسے کماتے ہیں، کیا یہ جائز ہے ؟جب کہ میری اُن سے کئی مرتبہ بحث ہوئی ہے، وہ ایک مفتی صاحب کا حوالہ دیتے ہیں بقول اُن کے جائز ہے، اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری ویڈیوز پر جو کچھ غلط اشتہارات غلط چلتے ہیں ، ہم اُس کمائی کو حلال کرنے کےلیے اُس کا صدقہ نکال دیتے ہیں، یہ طریقہ بھی بقول اُن کے مفتی صاحب نے بتایا ہے۔ اور تصاویر سازی پر اُن کا مؤقف یہ ہے کہ یہ عکس ہے، جن کو خود بہت سارے حضرات نے جائز کہا ہے، اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ خود بہت بڑے مفتی حضرات کی تصویر اور ویڈیوز موجود ہیں۔آپ حضرات بتائیں کیا فرماتے ہیں؟ ہم خود کفیل نہیں، اگر ایسی رقم گھر میں استعمال ہوتی ہے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے ،یا تو گھر سے نکل جائیں اور والد صاحب سے بغاوت کر دیں ،یا اُس رقم کے استعمال میں ہم بھی شامل ہو جائیں۔آپ حضرات کیا فرماتے ہیں؟ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اگر میں یہ رقم اپنے اوپر خرچ ہونے دیتا ہوں تو کیا میرا نماز اور روزہ اور باقی اعمال قبول ہوں گے؟ جیسے خاص دعاء کے متعلق سنا ہے کہ ناجائز اور حرام لقمہ کھانے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی۔
"عن النّعمان بن بشير -رضي الله عنه- قال: سمعتُه يقول: سمعتُ رسول الله -صلّى الله عليه وسلّم- يقول: - وأهوى النّعمان بإصبعيه إلى أذنيه - إنّ الحلال بيِّن، وإن الحرام بيِّن، وبينهما مشتبهات لا يعلمهنّ كثير من النّاس، فمن اتّقى الشُّبُهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشُّبُهات وقع في الحرام، كالرّاعي يرعى حول الحِمَى، يوشك أن يرتع فيه، ألا! وإنّ لكلّ ملك حِمىً، ألا! وإنّ حِمَى الله محارمه، ألا! وإنّ في الجسد مضغة، إذا صلحتْ صلح الجسد كلّه، وإذا فسدتْ فسد الجسد كلّه، ألا! وهي القلب".
(صحيح مسلم، كتاب المساقاة، باب أخذ الحلال وترك الشبهات، 3/1219، رقم: 1599، ط: دار إحياء التراث - بيروت)
"رد المحتار"میں ہے:
"قال الشّيخ عبد الوهاب الشّعرانيّ في "كتاب المنن": وما نُقل عن بعض الحنفيّة من أنّ الحرام لا يتعدّى إلى ذمّتين سألتُ عنه الشّهاب ابن الشَّلَبيّ، فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أمّا من رأى المكّاس يأخذ من أحد شيئاً من المَكْس، ثُمّ يعطيه آخر، ثُمّ يأخذه من ذلك الآخر، فهو حرام".
(رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، 6/385، ط: سعيد)
"الفتاوى الهندية"میں ہے:
"آكل الرّبا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يُقبل ولا يأكل ما لم يخبره أنّ ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالاً لا بأس بقبول هديّته والأكل منها، كذا في "الملتقط".
(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، 5/343، ط: رشيدية)
’’فتاوی محمودیہ ‘‘میں ہے:
’’اگر اس کا مال بالکل حرام ہے، یا غالب مال حرام ہے، تو اُس کا کھانا آپ کے لیے جائز نہیں، اپنا انتظام کہیں اور کریں، اور اگر اُس کا اکثر مال حلال ہے اور کم مقدار میں حرام ہے اور وہ سب مخلوط ہے تو آپ کو اُس کے کھانے کی گنجائش ہے، اگر محض مشتبہ ہے تو پھر پریشان ہوکر تشویش میں نہ پڑیں‘‘۔
(فتاوی محمودیہ، باب المال الحرام ومصرفہ،۱۸/۴۴۵، ط: ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101874
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن