بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 محرم 1448ھ 26 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جوائنٹ فیملی میں آمدنی کے تناسب سے گھر کے خرچ کی تقسیم کا شرعی و اخلاقی اصول


سوال

ہم سب بھائی اور والدین ایک ساتھ رہتے ہیں،جوائنٹ فیملی ہیں اور گھر کا خرچہ دو بھائی مل کرکرتے ہیں ،مگر ایک بھائی کی ماہانہ تنخواہ 55000(پچپن  ہزار) ہے اور دوسرے بھائی کی ماہانہ تنخواہ تقریباًڈیڑھ لاکھ ہے،لیکن جس بھائی  کی تنخواہ  پچپن ہزار ہے ،ان سے بڑے بھائی نے کہا جن کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ ہے کہ ہم دونوں  گھر کے خرچہ کی پچاس فیصد ترتیب رکھیں گے،یعنی جتنا بھی گھر کا خرچہ ہوتا ہے دونوں ففٹی دیں گے،تو اس پر چھوٹے بھائی راضی ہوگئے تھے، ان کو شروع میں اتنا اندازہ نہیں تھاکہ گھر کا کتناخرچہ ہوتا ہے،بہرحال گذارہ چلتا رہا،لیکن جب گھر کا خرچہ بڑھاتقریباً60سے 70 ہزار روپے ماہانہ  ہونے لگا،تو چھوٹے بھائی اب پریشان ہیں،کہ میرے 35000تو گھر میں چلے جاتے ہیں تو میرا پرسنل خرچہ بھی ہے ،بیوی بچوں پر بھی خرچ کرنا ہوتا ہے،تو میرے لیے ففٹی ففٹی گھر کے لیے دینا مشکل ہورہا ہے،کچھ بھی نہیں بچ رہا،جب کہ بڑے بھائی کی تنخواہ چوں کہ ڈیڑھ لاکھ ہے ،تو ان کے لیے تو 35000نکالنا کوئی مشکل نہیں ۔

اب سوال یہ ہےکہ: جس کی جتنی تنخواہ ہے اسی حساب سے وہ دے گایا ففٹی دینا ضروری ہوگا۔

نیز جوائنٹ فیملی سسٹم میں خرچ کرنے کا اصول بتائیں کس اصول کے تحت خرچہ تقسیم کیا جائے،اور گھر کا خرچ کیسے چلایا جائے؟

نوٹ: دونوں بھائی تنخواہ دار ہیں ،ایک کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ ہے،اوردوسرے کی تنخواہ پچپن ہزار ہے،اس کے علاوہ کسی بھائی کا کوئی اور روزگار نہیں ہے، 

زیرکفالت افراد:ایک بھائی کی ایک بیوی اور دو بچے ہیں اور دوسرے بھائی کی ایک بیوی اور ایک بچہ ہے۔

جواب

واضح رہے کہ  شریعت میں    اگروالدین اپنے نفقہ کے خود کفیل نہ ہوں، اور ان کے پاس اپنی کوئی ذاتی آمدنی یا مال نہ ہو،تو ان دونوں كا نفقہ ان كےصاحب ِاستطاعت ِ  اولادكے ذمہ   واجب ہے ،  اور یہ نفقہ بقدر کفایہ ہے، یعنی جس قدر  اولاد اپنے اہل وعیال پر کھانے پینے ،لباس پوشاک اور رہنے سہنے کا خرچہ برداشت  کر تے ہیں ،اسی قدراپنے والد ین پربھی  خرچ کرناواجب ہے ،اگر ایک ہی بیٹا ہو تو تمام خرچ اسی کے ذمے ہوگا، اور اگر ایک سے زائد بیٹے ہوں تو نفقے کی ذمہ داری تمام بیٹوں  کے ذمے ہے ،البتہ جو بیٹا جس قدر زیادہ مالدار ہے ، اسی حساب سے نفقہ کا زیادہ تر حصہ اسی کے ذمہ ہے۔

اسی طرح والدین کے علاوہ ہر بھائی  (بیٹے) پر اپنے زیرِ کفالت افراد کے حساب سے مشترکہ اخراجات میں حصہ ڈالنا ضروری ہے۔ زیادہ آمدنی والے بھائی کا دوسرے کو برابردینے کا پابندکرنا درست نہیں ہے۔

البتہ بہتر اورمناسب یہی ہے کہ دونوں بھائی باہمی رضامندی اور مشاورت سے ایسی ترتیب بنائیں،جس میں ہر ایک کی آمدنی، کفالت یافتہ افراد، اور گھریلو ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کے لیے مشترکہ خرچ کا مناسب تناسب (فیصد) طے کر لیا جائے۔

اگر کسی بھائی کی آمدنی زیادہ ہے تو بہتر یہ ہے کہ وہ اللہ کی رضا، والدین کی خدمت اور صلہ رحمی کے جذبے سے زیادہ حصہ ادا کرے، اور جس کی آمدنی کم ہے، اس پر بقدرِ وسعت کم حصہ رکھنا مناسب ہوگا۔

البتہ اگر دوسرے بھائی( جس کی تنخواہ زیادہ ہے)کی طرف سے کسی بھی طرح رضامندی پیدا نہ ہو اور وہ اصرار کرے کہ سب کو برابر حصہ ہی دینا ہوگا، تو ایسی صورت میں گھر کے مشترکہ خرچ اور بیوی بچوں کے ذاتی خرچ کو علیحدہ کر لیا جائے، تاکہ ہر بھائی اپنے اہل و عیال کے اخراجات کا خود ذمہ دار ہو، اور والدین کے خرچ میں حسبِ استطاعت شریک رہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من نفس عن مؤمن كربة من ‌كرب ‌الدنيا، نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة، ومن يسر على معسر، يسر الله عليه في الدنيا والآخرة، ومن ستر مسلما، ستره الله في الدنيا والآخرة، والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه."

(كتاب الذكر والدعاء والتوبة والإستغفار، ج:4، ص:2074، ط: عيسى البابي الحلبي وشركاه، القاهرة)

ترجمہ: "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی حاجت پوری کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی حاجت پوری کرے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان پر تنگی آسان کرے گا، اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی فرمائے گا، جو کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا اللہ اس کے عیوب کو دنیا اور آخرت میں چھپائیں گے اور اللہ تعلیٰ بندے کی مدد کرتے رہتے ہیں جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے."

السنن الكبرى ميں ہے:

"عن أبي حرة الرقاشي ، عن عمه ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه."

(كتاب الغضب، باب من غصب لوحا فأدخله في سفينة أو بنى عليه جدارا، ج:6، ص: 166 ، رقم : 11545 ، ط : دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وكذا ‌لو ‌كان ‌للفقير ‌ابنان أحدهما فائق في الغنى والآخر يملك نصابا فهي عليهما سوية خانية، وعزاه في الذخيرة إلى مبسوط محمد، ثم نقل عن الحلواني قال مشايخنا: هذا لو تفاوتا في اليسار تفاوتا يسيرا، فلو فاحشا يجب التفاوت فيها بحر."

(کتاب الطلاق، ‌‌باب النفقة، مطلب في نفقة الأصول، ج:3، ص:623، ط:دارالفکر بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"كذا في فتاوى قاضي خان قال الشيخ الإمام شمس الأئمة قال مشايخنا - رحمهم الله تعالى - إنما تكون النفقة عليهما على السواء ‌إذا ‌تفاوتا ‌في ‌اليسار تفاوتا يسيرا، وأما إذا تفاوتا تفاوتا فاحشا فيجب أن يتفاوتا في قدر النفقة كذا في الذخيرة."

 (كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الخامس في نفقة ذوي الأرحام، ج:1، ص:565، ط:دارالفکر بیروت)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: و لأبويه وأجداده وجداته لو فقراء) أي تجب النفقة لهؤلاء... وشرط الفقر؛ لأنه لو كان ذا مال فإيجاب النفقة في ماله أولى من إيجابها في مال غيره... وأطلق في الابن ولم يقيده بالغنى مع أنه مقيد به لما في شرح الطحاوي ولا يجبر الابن على نفقة أبويه المعسرين إذا كان معسرا."

(كتاب الطلاق، باب النفقة، نفقة الأبوين والأجداد والجدات، ج: 4، ص: 349،348، ط: دار الكتب العلمية)

البحر الرائق میں ہے:

"لما في الذخيرة وغيرها من أنه ليس في النفقة عندنا تقدير لازم، لأن المقصود من النفقة الكفاية، وذلك مما يختلف فيه طباع الناس وأحوالهم، ويختلف باختلاف الأوقات أيضا، ففي التقدير بمقدار إضرار بأحدهما."

(كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:4، ص:190، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"نفقة الأولاد الصغار على الأب ‌لا ‌يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة."

(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر،  الفصل الرابع فی نفقة الأولاد، ج:1، ص:560، ط:رشیدیه)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر ... (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقاً وزمن."

(قوله: لطفله) هو الولد حين يسقط من بطن أمه إلى أن يحتلم، ويقال: جارية، طفل، وطفلة، كذا في المغرب. وقيل: أول ما يولد صبي ثم طفل ح عن النهر (قوله: يعم الأنثى والجمع) أي يطلق على الأنثى كما علمته، وعلى الجمع كما في قوله تعالى: {أو الطفل الذين لم يظهروا} [النور: 31] فهو مما يستوي فيه المفرد والجمع كالجنب والفلك والإمام - {واجعلنا للمتقين إماما} [الفرقان: 74]- ولاينافيه جمعه على أطفال أيضاً كما جمع إمام على أئمة أيضاً فافهم.... (قوله: كأنثى مطلقاً) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة ... (قوله: وزمن) أي من به مرض مزمن، والمراد هنا من به ما يمنعه عن الكسب كعمى وشلل، ولو قدر على اكتساب ما لايكفيه فعلى أبيه تكميل الكفاية."

(کتاب الطلاق، باب النفقة، ج:3، ص:612، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والنفقة الواجبة المأكول والملبوس والسكنى."

(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الأول في نفقة الزوجة، ج:1، ص:549، ط:رشيدية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس."

(کتاب الطلاق، باب النفقات، ج: 3 ص:572، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"لا ‌يجوز ‌لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(کتاب الحدود، فصل فی التعزیرا، ج:5، ص:44، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101104

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں