
میں دوتین سال مزدوری کرکے جب دوتین مہینے چھٹیاں گزارنے پاکستان جاتا ہوں توبقدرضرورت وہ مشترکہ کمائی سےجومیری اپنی تنخواہ ہوتی ہے اسے اپنے لیے جیب کے خرچے کے لیے پیسہ رکھ لیتاہوں، اور ان پیسوں سے اپنے بیوی اور بچوں کے لیے کھانے کی اشیاء، پھل گوشت وغیرہ دوکان سے خرید کرلاتا ہوں۔جسےمیں اور میری بیوی اور بچے ایک ساتھ کھاتے ہیں۔جب کہ دیگرراشن کے سامان کے پیسے الگ ہوتے ہیں، ہم اور ہمارے تین بھائی اور ان کے بچے سب جوائنٹ فیملی میں رہتےہیں۔اور کھانا پینا ایک ہی دسترخوان پر ہوتا ہے، اورسب خواتین کے لیے جیب کے خرچے کا ایک مقررہ مقدار ہر مہینے ان کے لیے اور ان کے بچوں کے لیے بھیج دیتے ہیں، لیکن جب ہمارے دوسرے بھائی دوسرے ملکوں سے یا کاروبار کی جگہوں سے چھٹی گزارنے آتے ہیں تووہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔کہ اپنے بچوں کے لیے فروٹ وغیرہ لاکر کھاتے ہیں۔اورگوشت وغیرہ لاکر صرف اپنے ہی بچوں کے ساتھ کھاتےہیں جیساکہ میں، باقی اپنی مرضی ہے کسی کو دیدیں یا خود کھائیں، جب کہ ہمارا ایک بھائی تھوڑامالی طور پر کمزور اور اکثر گھر پر ہی رہتا ہے اورصرف وہ ایسا کرنے سے قاصر رہتا ہے، لیکن جب پیسہ ہاتھ آجائے تو اس کا بھی یہی رویہ ہے، باقی جو گھر کا مشترکہ راشن ہے وہ سب ہی برابر کھاتے ہیں، کپڑے وغیرہ سب کے ایک ہی ہیں جیسے بیماری کا علاج بھی سب کا ایک جیسا توکیا میں ایسا کرسکتا ہوں اور اس میں کوئی حق تلفی اور گناہ تونہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جب سب بھائی مذکورہ عمل پر راضی ہیں اور سب بھائی ہی چھٹیاں گزارتے وقت ایسا ہی کرتے ہیں تو مذکورہ عمل درست ہے، اس میں کسی کی حق تلفی نہیں ہے۔
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف: "لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده" ... وهكذا إذا دفع إنسان شيئا إلى آخر غير واجب عليه أداؤه فله استرداده ما لم يكن أعطاه إياه على سبيل الهبة ووجد ما يمنع من ردها."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة، ج:1، ص:98، ط: دار الجيل)
وفيه أيضا:
"كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير. انظر المادة (1197)."
(کتااب الثانی الإجارۃ، ج:3، ص: 201، ط:دار الجلیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102371
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن