
جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور ان کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر ہونے کی کوئی خبر نہ پہنچی ہو، اور وہ اس حالت میں مر گئے تو کیا وہ جنت میں جائیں گے یا جہنم میں؟
واضح رہے کہ اللہ تعالی کی ذات اور وحدانیت کا علم عقل کے ذریعہ ممکن ہے، لیکن اللہ تعالی کی صفات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور دین اسلام کی دعوت کا علم محض عقل اور غور و فکر کے ذریعہ ممکن نہیں ہے، چوں کہ ان کا علم دیکھے اور سنے بغیر ممکن نہیں ہے، اور اللہ تعالی نے انسان کو اس طاقت اور وسعت کے بقدر مکلف بنایا ہے،اس لیے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ: وہ فرماتے جس شخص تک اللہ تعالی کے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی خبر نہ پہنچی ہو لیکن وہ اپنے عقل و شعور اور غور وفکر کے ذریعہ اپنے خالق حقیقی اللہ رب العزت کو مانتا ہو اور شرک میں مبتلاء نہ ہو تو ایسا شخص آخرت میں نجات کا مستحق ہوگا۔
حوالہ جات:
"مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا." (سورۃ بنی اسرائیل:15)
ترجمہ:”جو شخص (دنیا میں) راہ پر چلتا ہے، وہ اپنے نفع کے لیے راہ پر چلتا ہے اور جو شخص بےراہی کرتا ہے ،سو وہ بھی اپنے ہی نقصان کے لیے بےراہ ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہم (کبھی) سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج لیتے۔“
بدائع الصنائع میں ہے:
"(وجه) قول أبي حنيفة أن وجوب الشرائع يعتمد البلوغ، وهو العلم بالوجوب؛ لأن وجوبها لا يعرف إلا بالشرع، بالإجماع إن اختلفا في وجوب الإيمان، إلا أن حقيقة العلم ليست بشرط بل إمكان الوصول إليه كاف، وقد وجد ذلك في دار الإسلام؛ لأنها دار العلم بالشرائع، ولم يوجد في دار الحرب؛ لأنها دار الجهل بها بخلاف وجوب الإيمان، وشكر النعم، وحرمة الكفر، والكفران ونحو ذلك؛ لأن هذه الأحكام لا يقف وجوبها على الشرع، بل تجب بمجرد العقل عندنا فإن أبا يوسف روى عن أبي حنيفة رحمه الله هذه العبارة فقال: كان أبو حنيفة رضي الله عنه يقول: لا عذر لأحد من الخلق في جهله معرفة خالقه؛ لأن الواجب على جميع الخلق معرفة الرب سبحانه وتعالى وتوحيده؛ لما يرى من خلق السماوات والأرض، وخلق نفسه، وسائر ما خلق الله سبحانه وتعالى فأما الفرائض فمن لم يعلمها، ولم تبلغه، فإن هذا لم تقم عليه حجة حكمية بلفظه."
(كتاب السير،فصل في بيان الأحكام التي تختلف باختلاف الدارين،132/7، ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"ونقلوا عن أبي حنيفة: لو لم يبعث الله تعالى للناس رسولا لوجب عليهم معرفته بعقولهم. وقال البخاريون: لا تعلق لحكم الله تعالى بفعل المكلف قبل البعثة والتبليغ كالأشاعرة وهو المختار، وحكموا بأن المراد من رواية: لا عذر لأحد في الجهل بخالقه، لما يرى من خلق السموات والأرض وخلق نفسه بعد البعثة، وحينئذ فيجب حمل الوجوب في قول الإمام لوجب عليهم معرفته على معنى ينبغي."
(كتاب الجهاد،باب المرتد،258/4، ط: سعید)
احکام القرآں للجصاص میں ہے:
"قوله وما كنا معذبين حتى نبعث رسولا قيل فيه وجهان أحدهما أنه لا يعذب فيما كان طريقه السمع دون العقل إلا بقيام حجة السمع فيه من جهة الرسول وهذا يدل على أن من أسلم من أهل الحرب ولم يسمع بالصلاة والزكاة ونحوها من الشرائع السمعية أنه لا يلزمه قضاء شيء منها إذا علم لأنه لم يكن لازما له إلا بعد قيام حجة السمع عليه وبذلك وردت السنة في قصة أهل قباء حين أتاهم آت أن القبلة قد حولت وهم في الصلاة فاستداروا إلى الكعبة ولم يستأنفوا لفقد قيام الحجة عليهم بنسخ القبلة وكذلك قال أصحابنا فيمن أسلم في دار الحرب ولم يعلم بوجوب الصلاة عليه أنه لا قضاء عليه فيما ترك قالوا ولو أسلم في دار الإسلام ولم يعلم بفرض الصلاة عليه فعليه القضاء استحسانا والقياس أن يكون مثل الأول لعدم قيام حجة السمع عليه وحجة الاستحسان أنه قد رأى الناس يصلون في المساجد بأذان وإقامة وذلك دعاء إليها فكان ذلك بمنزلة قيام الحجة عليه ومخاطبة المسلمين إياه بلزوم فرضها فلا يسقطها عنه تضييعه إياه والوجه الثاني أنه لا يعذب عذاب الاستئصال إلا بعد قيام حجة السمع بالرسول وأن مخالفة موجبات أحكام العقول قبل ورود السمع من جهة الرسول لا توجب في حكم الله عذاب الاستئصال."
(سورة بني إسرائيل،17/5، ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)
تفسیر معارف القرآن از مفتی شفیع رحمہ اللہ میں ہے:
”بعثت رسل کے بغیر عذاب نہ ہونے کی تشریح :اس آیت کی بناء پر بعض ائمہ فقہاء کے نزدیک ان لوگوں کو کفر کے باوجود کوئی عذاب نہیں ہوگا، جن کے پاس کسی نبی اور رسول کی دعوت نہیں پہنچی، اور بعض ائمہ کے نزدیک جو اسلامی عقائد عقل سے سمجھے جا سکتے ہیں، مثلا خدا کا وجود، اس کی توحید وغیرہ ،پس جو لوگ اس کے منکر ہوں گے ان کو کفر پر عذاب ہوگا۔ اگرچہ ان کو کسی نبی اور رسول کی دعوت نہیں پہنچی ہو ۔البتہ عام معاصی اور گناہوں پر سزا ،بغیر دعوت وتبلیغ انبیاء علیہم السلام کے نہیں ہوگی اور بعض حضرات نے اس جگہ رسول سے مراد عام لی ہے، خواہ وہ رسول و نبی ہو، خواہ انسانی عقل کہ وہ بھی ایک حیثیت سے اللہ کا رسول ہی ہے۔“
(سورۃ بنی اسرائیل، آیت:15، ص:456، ج:5، ط:ادارۃ المعارف کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101989
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن