بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جو کام جس کے ذمے ہو وہی اس کے نفع کا حق دار ہے ،کیا یہ حدیث ہے یا کوئی فقہی عبارت ؟


سوال

جو کام جس کے ذمے ہو وہی اس کے نفع کا حق دار ہے ،کیا یہ حدیث ہے یا کوئی فقہی عبارت ؟

جواب

جو کام جس کے ذمے ہو وہی اس کے نفع کا حق دار ہے ، اسی کی دوسری تعبیر یہ ہے کہ نفع ضمان (ذمہ داری)کے ساتھ مربوط ہے، یہ ایک  فقہی قاعدہ ہے،اور نبی ﷺ کی حدیث سے ماخوذ ہے، جسے فقہاء نے مختلف الفاظ سے مختلف کتابوں میں ذکر کیا ہے۔ 

 مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع، وابن إدريس، عن ابن أبي ذئب، عن مخلد بن خفاف، عن عروة، عن عائشة، قالت: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن الخراج بالضمان."

(کتاب البیوع والأقضية، فصل في رجل يشتري العبد فيستغلھا، ج:4، ص:373، ط:مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة)

ترجمہ :

”حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:کہ  اللہ کے رسول ﷺنے  فیصلہ فرمایا : کہ نفع ضمان کے ساتھ  مربوط ہے۔“

القواعد والضوابط الفقہیہ  فی الضمان المالی میں ہے:

"وأما قاعدة (الغرم بالغنم):فإنها وإن جاءت على عكس قاعدة (الخراج بالضمان) - أي الغنم بالغرم - في اللفظ إلا أن المعنى فيهما متفق، وقد ذكر العلماء لهذه القاعدة صيغا كلية ونصوصا فقهية أسوقها كما يلي:

١ - «الغرم بالغنم»:

نص على هذه الصيغة كل من: أبي سعيد الخادمي وأصحاب مجلة الأحكام العدلية

٢ - «من كان الشيء له كانت نفقته عليه»:

نص على هذه الصيغة شيخ الإسلام ابن تيمية .

٣ - «من ملك الغنم كان عليه الغرم»:

نص على هذه الصيغة يوسف بن عبد الهادي .

٤ - «النقمة بقدر النعمة»:

نص على هذه الصيغة أصحاب مجلة الأحكام العدلية .

٥ - «كل مشترك نماؤه للشركاء ونفقته عليهم ونقصه عليهم»."

(المبحث الأول: قاعدة: الخراج بالضمان وقاعدة: الغرم بالغنم، المطلب الأول: في صيغ القاعدة، ص: ٢٠٣ - ٢٠٤، ط: دار كنوز إشبيلية للنشر والتوزيع، السعودية)

 فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709100905

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں