بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جو بیوی اور اولاد نافرمان ہو اس کے بارے میں شریعت کا حکم


سوال

میں گھر کا بڑا ہوں، اورمیں شادی شدہ صاحبِ اولاد  ہوں، لیکن میری بیوی بچے  مجھ سے لڑتے ہیں، میری نافرمانیاں کرتے ہیں، میرا حکم نہیں مانتے، گھر کا فیصلہ بھی خود کرتے ہیں،  مجھے کسی چیز کا بتاتے بھی نہیں، اور  اب مجھے میرے بیٹے نے مار کر، اور  لڑ کر گھر سے باہر نکال دیا ہے، میں تین سالوں سے  اپنی بہن کے گھر پر رہتا ہوں۔

سوال یہ ہے کہ میری بیوی اور بچوں کا مجھے اپنی زندگی سے بے دخل کرنا اور نافرمانی کرنا کیسا ہے؟

 ایسی بیوی جو شوہر کی نافرمان ہو، اور ایسی اولاد جو باپ کی نافرمان ہو ان کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرآن حدیث میں توحید کے بعد سب سے زیادہ ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم آیا ہے،  یہاں تک کہ والدین کو ”اُف“ تک کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے اور حدیث شریف میں  ہے کہ ”والد کی رضامیں اللہ کی رضا ہےاور والد کی ناراضی میں اللہ کی ناراضی ہے،“ اسی طرح بہت اہتمام کے ساتھ بیوی کو بھی شوہر کی فرماں برداری کا حکم دیا گیاہے، حدیث میں یہاں تک فرمایا:” (بالفرض) اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔“

صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعتاً  درست ہے تو ایسی نافرمان بیوی اور  نافرمان اولاد  کے بارے میں قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں آئیں ہیں، حدیث میں ہے کہ: ”تین آدمی ایسے ہیں جن کی نہ نماز قبول ہوتی ہے، نہ کوئی اور نیکی، ان تین میں سے ایک وہ عورت ہے جس کا شوہر اس سے ناراض ہو۔“ ایک اور حدیث میں ہے کہ: ”فرشتے ایسی عورت پر لعنت کرتے ہیں۔“
اور نافرمان اولاد کے بارے میں حدیث میں مذکور ہے کہ” جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا نافرمان ہو تو اس کے لیے صبح کے وقت جہنم کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کسی ایک کا نافرمان ہو تو ایک دروازہ جہنم کا کھول دیا جاتاہے۔ ایک شخص نے سوال کیا: اگرچہ والدین ظلم کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگرچہ وہ دونوں اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں۔ “

نیز بیوی کا شوہر کو گھریلو معاملات سے بے دخل کرنا اور اولاد کا والد کو  مارنا اور اس سے جھگڑا کر کے  گھر باہر نکالنا نہایت ہی سفاکانہ اور ظالمانہ عمل ہے، اس پر اللہ کی پکڑ سے ڈرنا چاہئے۔

سائل کو چاہیے کہ خاندان کے معزز اور معاملہ فہم لوگوں کو ذریعے معاملہ سلجھانے کی کوشش کرے اور فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ان کے لیے ہدایت اور فرماں برداری کی دعائیں کرتارہے۔

         ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ً وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَارَبَّيَانِي صَغِيرًا} [الإسراء: 23، 24]

         ترجمہ: ”اور تیرے رب  نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی  عبادت مت کرو، اور تم (اپنے)  ماں  باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو،  اگر  تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جاویں، سو ان کو کبھی (ہاں سے) ہوں  بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا ، اور ان سے خوب اَدب سے بات کرنا، اور ان کے سامنے شفقت سے، انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا  کہ اے  پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائیں جیساکہ انہوں  نےمجھ کو بچپن میں پالا پرورش کیا ہے۔“ ( ازبیان القرآن)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

 "عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: من أصبح مطیعاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن کان واحداً فواحداً، ومن أصبح عاصیاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن کان واحداً فواحداً، قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه. رواه البیهقي في شعب الإیمان".

(کتاب الآداب، باب البر والصلة، الفصل الثالث، رقم الحديث: 4943، ج: 3، ص: 1382، ط: المكتب الاسلامى)

ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا مطیع وفرماں بردار ہو تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کوئی ایک (حیات) ہو (اور وہ اس کا مطیع ہو) تو ایک دروازہ کھول دیا جاتاہے۔ اور جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا نافرمان ہو تو اس کے لیے صبح کے وقت جہنم کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کسی ایک کا نافرمان ہو تو ایک دروازہ جہنم کا کھول دیا جاتاہے۔  ایک شخص نے سوال کیا: اگرچہ والدین ظلم کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگرچہ وہ دونوں اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں۔ “

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن أبي أمامة، أن رجلا قال: يا رسول اللّٰه، ما حق الوالدين على ولدهما؟ قال: هما جنتك ونارك."

(مشکاۃ المصابیح، ج: 2، ص: 421، باب البر والصلة، ط: قدیمی)

ترجمہ:  ”حضرت ابو  امامہ رضی  اللہ  تعالی عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا ،  اے  اللہ کے رسول! والدین کا اولاد کے ذمہ کیا حق ہے؟ فرمایا : وہ تیری جنت یا دوزخ ہیں ، (یعنی ان کی خدمت کروگے تو  جنت میں جاؤ گے ،  ان نافرمانی کروگے  تو دوزخ میں جاؤگے)“          (مظاہرِ حق ، 4/486، ط قدیمی)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

 "وعن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل الذنوب يغفر الله منها ما شاء إِلا عقوق الوالدين فإنه يعجل لصاحبه في الحياة قبل الممات."

(مشکاۃ المصابیح، باب البر والصلة، ج: 2، ص:421، ط: قدیمی)

         ترجمہ: ”رسول کریمﷺ نے فرمایا ؛ شرک کے علاوہ تمام گناہ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے جس قدر چاہتا ہے بخش دیتا ہے، مگر والدین کی نافرمانی کے گناہ کو نہیں بخشتا، بلکہ اللہ تعالیٰ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے کو موت سے پہلے اس کی زندگی میں  جلد ہی سزا  دے دیتا ہے۔“ (مظاہرِ حق ، 4/487، ط قدیمی)

حدیث شریف میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمرًا أحدًا أن يسجد لأحدٍ لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها». رواه الترمذي."

(مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء، ص: 281، ط: قديمي)

ترجمہ:”(بالفرض) اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔“

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100512

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں