
انگلینڈ کا ایک ادارہ ہے جو jmg کے نام سے مشہور ہے اور 2007 سے کام کر رہا ہے۔ ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ موبائل میں جے ایم جی کے نام سے ایک ایپ ہے، جس کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد اس میں ایک اکاؤنٹ بنا کر اس میں پیسے ڈالنے ہوتے ہیں۔یہ اکاؤنٹ ابتدا میں مفت تھا، لیکن ہر کوئی یہ کوشش کرتا تھا کہ مہنگا اکاؤنٹ بنائے تو اس کی روک تھام کے لیے ادارے نے اکاؤنٹ میں پیسے ڈالنا لازم کر دیا، اور یہ اکاؤنٹ 4 ہزار سے لے کر ایک کروڑ تک بن سکتا ہے۔اکاؤنٹ بننے کے بعد روزانہ چند آڈیو ٹونز آتے ہیں موبائل رنگ ٹونز کی طرح بغیر کسی ویڈیو اور تصاویر کے، اور ہر آڈیو کو 30 سیکنڈ تک چلانا ہوتا ہے، جس پر روزانہ مخصوص رقم ملتی ہے، اور اکاؤنٹ میں ڈالی گئی اصل رقم اپنی جگہ محفوظ ہوتی ہے، اگر کوئی یہ ادارہ چھوڑنا چاہتا ہے تو ادارہ اس کو یہ اصل رقم واپس کرتی ہے
ایپ استعمال کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ہم ٹونز سنتے نہیں، بلکہ آواز بند کرکے صرف 30 سیکنڈ گذارتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس طریقے پر پیسے کمانا شرعا جائز ہے یا نہیں؟ اور سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟
وضاحت:آڈیو کلب جو دیے جاتے ہیں، وہ ٹونز ہی ہوتے ہیں، اس میں کوئی کام کی بات نہیں ہوتی۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ آڈیو کلپ چلانے پر معاوضہ ملنا عقدِ اجارہ ہے، اور اجارہ کے لیے ضروری ہے کہ معقود علیہ کوئی بامقصد اور مفید عمل ہو، جب کہ یہاں آڈیو ٹونز چلانا ایک بے مقصد اور بے فائدہ عمل ہے، اس لیے اس کمپنی میں رجسٹرڈ ہوکر کمانا جائز نہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس فلا يجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها والاستظلال بها؛ لأن هذه منفعة غير مقصودة من الشجر ولو اشترى ثمرة شجرة ثم استأجر الشجرة لتبقية ذلك فيه لم يجز؛ لأنه لا يقصد من الشجر هذا النوع من المنفعة وهو تبقية الثمر عليها فلم تكن منفعة مقصودة عادة وكذا لو استأجر الأرض التي فيها ذلك الشجر يصير مستأجرا باستئجار الأرض، ولا يجوز استئجار الشجر وقال أبو يوسف: إذا استأجر ثيابا ليبسطها ببيت ليزين بها ولا يجلس عليها فالإجارة فاسدة؛ لأن بسط الثياب من غير استعمال ليس منفعة مقصودة عادة وقال عمرو عن محمد في رجل استأجر دابة ليجنبها يتزين بها: فلا أجر عليه؛ لأن قود الدابة للتزين ليس بمنفعة مقصودة ولا يجوز استئجار الدراهم والدنانير ليزين الحانوت، ولا استئجار المسك، والعود وغيرهما من المشمومات للشم؛ لأنه ليس بمنفعة مقصودة ألا ترى أنه لا يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة والله عز وجل الموفق."
)كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج:4، ص:192، ط: دار الكتب العلمية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية."
)كتاب الإجارة، ج:6، ص:4، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144706101783
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن