
میری شادی کو بیس سال اور پانچ مہینے ہوئےہیں، پندرہ سال پہلے میرے شوہر نے کسی وجہ سے مجھے کہاتھاکہ میں" تمہیں طلاق دینے والاہوں"تین دفعہ کہا ،اس کے بعدبھی کئی دفعہ وہ مجھے طلاق کے بارے میں کہہ چکاہےکہ "میں تمہیں طلاق دےدوں گا"،وہ مجھ پر جسمانی تشدد بھی کرتاہے،میری جوان بیٹی کوبھی گھر سے نکالاہے، اب میں نے اپنی بیٹی کو اپنی ماں کے گھر بھیج دیاہے،میں ایک جگہ نوکری کرکے گھرکی تمام ذمہ داریاں خود سنبھالتی ہوں۔اب سوال یہ ہےکہ:
کیا ہمارے درمیان طلاق ہوئی ہے یانہیں ؟اگر ہوئی ہے تو عدت کا کیا حکم ہے؟جب کہ میں نوکری کرتی ہوں اورظاہری اسباب میں ہمارا گزر بسر اسی پر ہوتاہے،اس لیے میں عدت میں نہیں بیٹھ سکتی ہوں۔
اور اگر طلاق نہیں ہوئی ہےتومیں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی کیوں کہ وہ مجھے بالکل نان نفقہ نہیں دیتاتو اس وقت جدائی کا کیا طریقہ ہے؟
واضح رہےکہ "طلاق دینے والا ہوں"یا"طلاق دے دوں گا"کے الفاظ مستقبل میں طلاق دینے کے ارادہ ودھمکی پردلالت کرتے ہیں، جس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،لہٰذاصورت مسئولہ میں سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے،نکاح بدستور قائم ہے۔
رہی بات نان ونفقہ کی ،تواس کی ادائیگی سائلہ کے شوہر پرشرعاًلازم ہے،پس اگرشوہر نان ونفقہ نہ دیتا ہو،تو سائلہ بذریعہ عدالت نان ونفقہ کی ادائیگی کا شوہر کو پابند کرواسکتی ہے،اس کے بعد بھی اگر وہ نان ونفقہ نہ دے،توسائلہ کے لیےشوہر سے طلاق یا خلع طلب کرنے کی اجازت ہے۔
اور اگر نباہ کی بھی کوئی صورت نہ بن پائے اور شوہر طلاق بھی نہ دے اور نہ ہی خلع پر راضی ہو، تو سائلہ کسی مسلمان جج کی عدالت میں نان نفقہ نہ دینے اورجسمانی تشددکرنے کی بناء پرفسخِ نکاح کامقدمہ دائرکرے، اس کے بعد عدالت میں دو شرعی گواہوں کے ذریعے اپنے نکاح کوثابت کرکےشوہرکے تعنت یعنی نان ونفقہ نہ دینے اورجسمانی تشددکرنے کودوگواہوں کے ذریعے ثابت کرے کہ شوہرنہ گھربسانے پرآمادہ ہے،نہ ہی نان ونفقہ دیتاہے اور، اس کے بعدعدالت شوہرکو حاضرہونے کاحکم دے گی، اگرشوہرعدالت میں حاضرہوکرنان ونفقہ دینے اورگھربسانےپرآمادہ ہوجائے تو ٹھیک ہے، اور اگر وہ حاضرنہ ہویاحاضرہوکرحقوقِ زوجیت ادا کرنے اورنان ونفقہ دینے کے لیے تیار نہ ہو تو ان دونوں صورتوں میں عدالت کونکاح فسخ کرنے کااختیار حاصل ہوگا ، عدالت کے فسخِ نکاح کا فیصلہ سنا نے کے بعد سائلہ اپنی عدت (مکمل تین ماہواریاں) گزارکر دوسری جگہ نکاح کرسکے گی،لیکن سائلہ کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت سےیکطرفہ خلع حاصل کرے،اگر اس نے عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کر بھی لی تو یہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہوگا،سائلہ کا نکاح اپنے شوہر سے ختم نہیں ہوگا۔
المحيط البرہانی میں ہے:
"قوله: أطلق، لا يكون طلاقا في أنه دائر بين الحال والاستقبال فلم يكن تحقيقا مع الشك حتى أن موضع علمت استعماله للحال كان تحقيقا."
(كتاب الطلاق، الفصل السابع والعشرون في المتفرقات، ج:3، ص:472، ط:دار الكتب العلمية)
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ:
"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام"
(کتاب الطلاق ،ج:1،ص:38،ط:دار المعرفۃ)
بدائع الصنائع ميں ہے:
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول ؛ لأنه عقد علي الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول".
(کتاب الطلاق، فصل واماالذی یرجع الی المرأۃ، ج:3، ص:145، ط:سعيد)
فتاوی هنديه ميں هے:
"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية."
(كتاب الطلاق ، الباب الثامن في الخلع وما في حكمه ، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج:1، ص:488، ط:دار الفكر)
حیلہ ناجزۃ میں ہے :
"والمتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمیر ما نصه : إن منعھا نفقة الحال فلها القیام فإن لم یثبت عسرہ أنفق أو طلق و إلا طلق علیه، قال محشیه : قوله وإلا طلق علیه أي طلق علیه الحاکم من غیر تلومإلي أن قال: وإن تطوع بالنفقة قریب أو أجنبي فقال ابن القاسم: لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبدالرحمن: لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهی وهو الذي تقضیه المدونة؛ کما قال ابن المناصب، انظر الحطاب، انتهی."
(ص:150، ط:دار الإشاعت)
فتاوی مفتی محمود میں ہے:
محمد گلزار کے پہلے وہ الفاظ کہ اگرلڑکی فوت ہوگئی تو میں تم کو طلاق دے دوں گا۔یہ تو صرف طلاق کی دھمکی ہے۔
(کتاب الطلاق، ج:7، ص:218، ط:جمعیت پبلیکیشنز)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101508
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن