
میرا بیٹا جدہ میں رہتا ہے،وہ اپنا فرض حج ادا کرچکا ہے،اب وہ اپنے نانا(سائلہ کے والد )کی طرف سے حج بدل ادا کرنا چاہتا ہے،جب کہ میرے والد صاحب استطاعت نہیں تھے،نہ انہوں نے کوئی وصیت کی تھی۔
تو ان کی طرف سے حج بدل ادا کیا جاسکتا ہے؟اگر ہاں تو اس نیت کیسے کی جائے؟
اگر حج بدل ادا نہیں کی جاسکتی ہےتو اس نفلی حج میں کیا نیت کرے،اور حج کی ادائیگی کا کیا طریقہ ہوگا؟
واضح رہے کہ اگر کسی شخص پر حج فرض ہو اور وہ خود حج ادا کرنے سے عاجز ہوجائے، یا حج کی ادائیگی سے قبل ہی اس کا انتقال ہوجائے، تو اس کی طرف سے ادا کیا جانے والا حج، حجِ بدل کہلاتا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے والدِ مرحوم پر صاحبِ استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے حج فرض نہیں تھا، اس لیے ان کی طرف سے ادا کیا جانے والا حج، حجِ بدل نہیں کہلائے گا۔
البتہ اگر سائلہ کا بیٹا ان کے ایصالِ ثواب کے لیے حج ادا کرے کہ:میں یہ نانا کے لیے حج کی نیت کر رہا ہوں، تو نانا کی طرف سے حج ہو جائے گا، باقی حج کی ادائیگی کا طریقہ عام حج ہی کی طرح ہوگا۔
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:
"باب الحج عن الغير ولا يجوز إلا عن الميت أو عن العاجز بنفسه عجزا مستمرا إلى الموت، ومن حج عن غيره ينوي الحج عنه."
(كتاب الحج،باب الحج عن الغير،ج:1 ،ص: 257،ط: دار الفكر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"الأصل في هذا الباب أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة كان أو صوما أو صدقة أو غيرها كالحج وقراءة القرآن والأذكار وزيارة قبور الأنبياء - عليهم الصلاة والسلام - والشهداء والأولياء والصالحين وتكفين الموتى وجميع أنواع البر، كذا في غاية السروجي شرح الهداية."
(كتاب المناسك،الباب الرابع عشر في الحج عن الغير،ج:1 ،ص: 170،ط: دار الكتب العلمية)
تبیین الحقائق میں ہے:
"الأصل في هذا الباب أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره عند أهل السنة والجماعة صلاة كان أو صوما أو حجا أو صدقة أو قراءة قرآن أو الأذكار إلى غير ذلك من جميع أنواع البر، ويصل ذلك إلى الميت وينفعه."
(كتاب الحج،باب الحج عن الغير،ج: 2،ص: 83،ط: دار الكتاب الإسلامي)
شرح النقایہ میں ہے:
"وأما حج النفل فيقع عن المأمور اتفاقا، وللآمر الثواب بأن يصير المأمور جاعلا ثواب فعله للآمر، وهذا جائز عند أهل السنة، وهو أن يجعل الإنسان ثواب عمله لغيره، صلاة كان أو صوما أو صدقة أو غيرها، كقراءة القرآن والطواف والعتاق والأذكار ونحوها."
(كتاب الحج،فصل في أحكام الحج عن الغير،ج:1 ،ص: 731،ط: دار الأرقم)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101643
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن