بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جس شخص کو گیس کی شدت کی وجہ سے دورانِ نماز وضوء ٹوٹنے کا ڈر رہتا ہو اُس کا شرعی حکم


سوال

 میں معدے اور گیس کا مریض ہوں، میرے پیٹ میں گیس گردش کرتی رہتی ہے اور نماز کے دوران بہت زیادہ ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا ڈر رہتا ہے۔  کوئی حل ہو تو ضرور بتا دیں۔

جواب

بصورتِ مسئولہ آپ اولاً کسی ماہر امراض طبیب و ڈاکٹر سے اپنا مکمل علاج و معالجہ کراوئیں ، دوائی اور پرہیز وغیرہ کے ذریعہ اِس بیماری کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ چوں کہ آپ کو مسلسل خروجِ ریح کا مرض لاحق نہیں ہے، بلکہ نماز کو باوضو ادا کرنا ممکن ہے، فقط دورانِ نماز وضوء ٹوٹنے کا ڈر رہتا ہے،لہذا موجودہ صورتحال میں آپ ”شرعی معذور“ نہیں ہیں، لہذا آپ کے لیے نماز کو وضوء کر کے ادا کرنا ضروری ہے، بہتر یہ ہے کہ نماز کی ادائیگی سے قبل چہل قدمی اور قضائے حاجت کا معمول بنائیں، تاکہ اس طرح کی صورتِ حال کی وجہ سے پریشان نہ ہوں اور پھر اطمینان سے نماز ادا کریں۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

 "شرط ثبوت العذر ابتداءً أن یستوعب استمراره وقت الصلاة کاملاً، وهو الأظهر، کالانقطاع لایثبت مالم یستوعب الوقت کله ..."

(كتاب الطهارة، الباب السادس، الفصل الرابع، ج: 1، ص:40، ط: دارالفكر)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100153

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں