بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جس عورت کا دماغی توازن ٹھیک نہ ہو اس کا نکاح کروانا


سوال

ایک عورت  ہے جس کا دماغی توازن درست نہیں، وہ نماز ، روزے وغیرہ بھی نہیں رکھ سکتی، اپنے مخصوص ایام کے متعلق  بھی اس کو آگاہی نہیں ہوتی، اپنی جسمانی صفائی کے لیے کسی نہ کسی کی محتاج ہے، گھریلو کام کاج کے حوالے سے وہ عورت صفائی وغیرہ کرسکتی ہے، لیکن کھانا نہیں بنا سکتی، سوال یہ ہے کہ اس عورت کا نکاح کرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عورت کا نکاح کرنا اس کی باپ کی اجازت سے جائز ہے، مجنونہ کا نکاح باپ کی ولایت سے ہوسکتا ہے۔ لیکن عورت کی معذوری کی تمام تفصیل سے لڑکے کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کا دھوکہ نہ ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وللولي) الآتي بيانه (إنكاح الصغير والصغيرة)، جبرا (ولو ثيبا) كمعتوه ومجنون شهرا۔

قال في النهر: فللولي إنكاحهما إذا كان الجنون مطبقا، وهو شهر على ما عليه الفتوى."

(کتاب النکاح، باب الولي، ج:3، ص:66، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101810

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں