
ایک علاقے کے پہاڑوں میں زمرد کے قیمتی پتھر ہیں، ایک پہاڑ میں مختلف مقامات پر کھدائی ہوتی ہے، کھدائی کرنے والے اس ملبے کو بوری میں ڈال کر بوری کو دو سو یا تین سو یا پانچ سو میں فروخت کرتے ہیں پھر غریب عوام بوریاں خرید کر پانی کے ساتھ دھو کر اس میں قیمتی پتھر زمرد ڈھونڈتے ہیں، کبھی بوریاں بالکل خالی نکل آتی ہیں اور کبھی اس میں زمرد کے چھوٹے ذرات نکل آتے ہیں، سوال یہ ہے کیا دو سو یا تین سو یا پانچ سو پر بوری خریدنا جائز ہے جب کہ یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ اس میں زمرد ہو گا؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مٹی کی بوریوں کی خرید وفروخت جائز ہے اگرچہ اس میں زمرد کا ہونا یقینی نہیں ہے۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"سوال: کچھ لوگ سناروں سے خاک خرید کر اس سے سونا چاندی نکالتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟
الجواب حامداً ومصلیاً: جائز ہے۔"
(نقدی کی بیع کا بیان، ج:16، ص:254، ط:ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100752
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن