
ایک آدمی پانی میں ڈوب کر مر گیا، اب اس کے ورثاء کا پتہ نہیں ہے، اس مرنے والے کی وراثت میں مال(سونا) ہے، سوال یہ ہے کہ اس مال کو مسجد میں استعمال کرسکتے ہیں یا سرکار کو دینا ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں سب سے پہلے تو ڈوبنے والے شخص کےعلاقے یا شہر میں اس کے ورثاء کے بارے میں خوب تحقیق کی جائے، اور تحقیق کے دوران اس کا مال امانت کے طور پر حفاظت کے ساتھ رکھا جائے، مکمل تحقیق اور تلاش کے باوجود اگر واقعتاً میت كے قریبی یا دور کے کسی بھی وارث کا علم نہ ہو (ددھیال، ننھیال میں سے کسی رشتہ دار کا علم نہ ہو)، وہ شادی شدہ بھی نہ ہو تو اس کے سارے مال کا مستحق وہ ہوگا جس کے لیے اس نے موت کے بعد سارے مال کی وصیت لکھی ہواور اگر کسی کے لیے وصیت نہیں لکھی تو بیت المال کے انتظام میں فساد کی وجہ سے اب اس مال کا مصرف فقراء ہیں، یہ سونا فروخت کرکے فقراء کے درمیان رقم تقسیم کردیا جائے گا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ورابعها الضوائع مثل ما لا … يكون له أناس وارثونا... ورابعها فمصرفه جهات … تساوى النفع فيها المسلمونا.
(قوله: الضوائع) جمع ضائعة أي اللقطات، وقوله: مثل ما لا إلخ مثل تركة لا وارث لها أصلا أو لها وارث لا يرد عليه كأحد الزوجين... وأما الرابع فمصرفه المشهور هو اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم فيعطى منه نفقتهم وأدويتهم وكفنهم وعقل جنايتهم كما في الزيلعي وغيره. وحاصله أن مصرفه العاجزون الفقراء فلو ذكر الناظم الرابع مكان الثالث ثم قال وثالثها حواه عاجزونا ورابعها فمصرفه إلخ لوافق ما في عامة الكتب (قوله: تساوى) فعل ماض والنفع منصوب على التمييز كطبت النفس أي تساوى المسلمون فيها من جهة النفع."
(كتاب الزكاة، باب العشر، 2/ 338، ط: سعيد)
مجمع الانہر میں ہے:
"(ثم بيت المال) أي إذا لم يوجد أحد من المذكورين توضع التركة في بيت المال على أنها مال ضائع فصار فيئا لجميع المسلمين فيوضع هناك، وليس ذلك بطريق الإرث."
(كتاب الفرائض، 2/ 748، ط: دار إحياء التراث العربي)
الفقہ الاسلامی اودلتہ میں ہے:
"توضع التركة في بيت مال المسلمين إذا لم يوجد أحد من المراتب السابقة كلها، لا على أنها إرث عند الحنفية والحنابلة، وإنما على أنها من الأموال الضائعة التي لا يعرف لها مالك، أو على أنها فيء، فيصرف المال في المصالح العامة وينفق منه على المحتاجين، فإذا ظهر وارث، وأقام الدليل على إرثه، استرد التركة من بيت المال."
(الباب السادس: الميراث، الفصل السابع: أنواع الوارثين وعددهم ومراتبهم،بيت المال، 10/ 7744، ط: دار الفكر)
کفایت المفتی میں ہے:
سوال:ایک مسلمان بے وارث کا کچھ مال اور نقد رہ گیا ہے، صاحب موصوف انتقال کر گئے ہیں، اب کچھ نقد اور کچھ سامان چھوڑ گئے ہیں، مرتے وقت کچھ نصیحت و غیرہ نہیں کی، یہاں کے مسلمانوں میں تفرقہ پڑا ہوا ہے، کچھ کہتے ہیں کہ مرحوم جو روپیہ نقد اور سامان چھوڑ گئے ہیں یہ سب مسجد کے کاروبار پر خرچ کیا جاوے اور بعض کہتے ہیں کہ مرحوم نے وقف تو نہیں کیا مسجد کے لیے، مسجد پر خرچ کرنا جائز نہیں ؟
جواب:مرحوم کا کوئی قریب یا بعید کاوارث موجود ہو تو مر حوم کا مال اس کا حق ہے، اگر وہ کہیں باہر کے تھے تو ان کے وطن سے تحقیق کی جائے اور تکمیلِ تحقیق تک مال امانت رکھا جائے، اس کے بعدبیت المال میں دے دیا جائے، لیکن چوں کہ اب بیت المال نہیں ہے، تو میت کی طرف سے کسی بھی کارِ خیر میں خرچ کردیا جائے۔
(کتاب الفرائض، پہلا باب:میراث کے احکام، فصلِ چہارم:لاوارث کا ترکہ، 8/ 295، ط:دارالاشاعت)
امداد الفتاوی میں ہے:
امور خیر میں صرف کرنا بیت المال کے قائم مقام ہے
”سوال(۴۴۳) : قدیم ۴/۳۵۵ - ترکہ کی تقسیم میں لکھتے ہیں کہ جب کوئی وارث نہ ہو تو بیت المال میں داخل کر دیا جاوے، آج کل ایسی صورت میں کہاں صرف کیا جاوے اور ردعلی الزوجین آج کل جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب:امور خیر میں صرف کرنا قائم مقام بیت المال کے ہے، اور رد علی الزوجین اس وقت جائز ہے جب کہ زوجین مصارف بیت المال میں سے ہوں ۔ ۲۵/ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۱ھ (حوادث۱،۲)۔“
(کتاب الفرائض، 4/ 355، ط: مکتبۂ دار العلوم ، کراچی)
احسن الفتاوی میں ہے:
لاوارث کی امانت کا حکم
”سوال : زید نے تین ہزار روپے بطور امانت بکر کے پاس رکھے ، زید کا انتقال ہو گیا، اس کا کوئی شرعی وارث نہیں ، اب اس رقم کو مسجد یا مدرسہ میں لگایا جائے یا کسی فقیر پر صدقہ کیا جائے شرعا بهتر مصرف کیا ہے ؟ بینوا توجروا .
الجواب باسم ملهم الصواب: اس رقم کا صحیح مصرف بیت المال ہے، اس زمانہ میں چوں کہ بیت المال کا انتظام نہیں، لہذا اس کا مصرف مساکین ہیں ، مسجد یا مدرسہ میں لگانا جائز نہیں ، مسکین کی ملک میں دینا لازم ہے ، طلبہ و مجاہدین کو دینا زیادہ باعث اجر ہے ۔
قال العلامة التمرتاشى رحمه الله تعالى : ثم المقرله بنسب لم يثبت ثم الموصى له بما زاد على الثلث ثم فى بيت المال (رد المحتارص: ٤٨٧، ج: ۵) والله سبحانه وتعالى اعلم - ۱۸ ذی القعده ۹۵ھ۔“
(کتاب الوصیۃ والفرائض، 9/ 303-304، ط: ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144602100139
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن