بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 صفر 1448ھ 10 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

جس مسجد میں پانچ نمازیں جماعت کے ساتھ مستقل نہ ہوتی ہوں تو اس میں جمعہ قائم کرنا درست ہے یا نہیں


سوال

کراچی ناردن بائی پاس پر ایک مسجد ہے،اس میں نماز جمعہ کا خطیب اور مستقل مؤذن مقرر ہے،لیکن پنچ وقتی نماز باجماعت کے لئے کبھی مقتدی موجود ہوتے ہیں تو نماز باجماعت اداہوجاتی ہے،جبکہ کبھی مؤذن کے علاوہ کوئی نہیں ہوتا تو مؤذن اکیلا انفرادی نماز پڑھتاہے،لیکن جمعہ کی نماز میں مقتدی کثیر تعداد میں اہتمام سےآتے ہیں،تو کیا اس مسجد میں نماز جمعہ اداہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جمعہ کی مندرجہ ذیل شرائط ہیں:۱۔ شہر یابڑی بستی یا اس کا فنا(مضافات) ہونا۔۲۔ ظہر کا وقت ہونا۔۳۔ ظہر کے وقت میں نمازِ جمعہ سے پہلے خطبہ ہونا۔۴۔ جماعت یعنی امام کے علاوہ کم از کم تین بالغ مردوں کا خطبے کی ابتدا سے پہلی رکعت کے سجدہ تک موجود رہنا۔۵۔اذنِ عام (یعنی نماز قائم کرنے والوں کی طرف سے نماز میں آنے والوں کی اجازت) کے ساتھ نمازِ جمعہ کا پڑھنا۔ پانچ وقت کی نماز کا قیام جمعہ کے لیے شرط نہیں ہے ،لہذا مذکورہ مسجد میں جمعہ پڑھایا جاسکتا ہے،البتہ مذکورہ مسجد کے نمازیوں کو چاہیے کہ وہ مذکورہ مسجد میں پانچوں وقت کی جماعت کا اہتمام یقینی بنائیں اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی آئندہ نہ ہونے دیں۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت".

(کتاب الصلاۃ ، فصل صلاۃ الجمعہ ج نمبر 1 ص نمبر 259، دار الکتب العلمیۃ)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802100864

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں