بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جس لڑکےکو والد سامان لانے کے لئے رقم دیں تو باقی بچ جانے والی رقم وہ لڑکا خود استعمال کرسکتا ہے یا نہیں


سوال

1۔اگر ایک متحدہ خاندان میں دو بھائی ہوں اور ان کے بیٹے ہوں ، ایک بھائی گھر کا سربراہ ہو اور اس سربراہ کا بیٹا گھر کی سبزی اور دیگر ضرورت کی چیزیں لاتا ہے،جب ابو اس کو ہزار روپیہ دیتا ہے تو وہ کوئی بھی سامان لاتا ہے اور اس میں کچھ پیسے بچ جاتے ہیں ،مطلب 100 یا 150 اور وہ بیٹاوہ پیسے اپنے جیب میں ڈال دیتا ہے، اپنے ابو کو واپس نہیں دیتا تو کیا یہ شخص گنہگار ہوگا یا نہیں؟کیا اس پیسوں میں اس کے کزن لوگوں کا بھی حق ہےیا اسے اس پیسوں میں سے اپنے کزن کو بھی دینے چاہیے؟ اور ہاں اس کے ابو اور کزن،چاچا کو پتہ ہوتا ہے کہ فلاں  بچہ کے ساتھ کچھ پیسے بچ جاتے ہیں جو وہ اپنے ضروریات میں استعمال کرتا ہے۔

2۔ ایک سوال یہ کہ اب تک جتنے بھی پیسے اس نے استعمال کئے ہیں کیا وہ کزن اور چاچا کو لوٹانے پڑیں گے؟

جواب

1۔صورت مسئولہ  میں  جس لڑکے کو اس کے والد یا چاچاگھر کی ضرورت کا سامان لینے کے لئے پیسے دیتےہیں تو سامان خریدنے کے بعد جو پیسے بچ جائیں،اس لڑکے پر لازم ہے کہ باقی پیسے اپنےو الد یا چاچا کو واپس کرے،واپس نہ کرنے کی صورت میں وہ لڑکا خائن(خیانت کرنے والا) شمارہوگا  اور گناہگار ہوگا،البتہ اگر  والد یا چاچا  کی طرف سے باقی تھوڑے بچ جانے والے پیسوں کے استعمال کی  صراحتا اجازت ہو ،یا دلالۃ اجازت ہو اس طور پر کہ ان کو معلوم ہوکہ اتنے پیسوں کا  سامان آئے گا اور باقی یہ خود استعمال کرلے گا   اور وہ اس پر تسامح کرتے ہوں تو پھر یہ لڑکا خائن شمار نہیں ہوگا اور اس کو باقی پیسے واپس کرنا لازم نہیں ہوگا۔

2۔اگر صراحتا یا دلالۃ اجازت  کے ساتھ پیسے استعمال کئے ہیں تو وہ واپس کرنا لازم نہیں ہوں گے ،صراحتا یا دلالۃ اجازت کے بغیر جو پیسے استعمال کئے تھے تو  وہ تمام پیسے (اگر حتمی مقدار معلوم نہ ہو تو غالب گمان سے مقدار متعین کرلیں)  اپنے والد / چاچا( جس نے خرچہ کے لئے پیسے دئے تھے ) کو واپس کرنا ضروری ہوں گے یا ان سے معاف کرانا ضروری ہوگا۔

شرح المجلۃ میں ہے: 

"(المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان. والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضا في حكم الوديعة) . ضابط: الوكيل أمين على المال الذي في يده كالمستودع."

(كتاب الوكالة،الباب الثالث في بيان احكام الوكالة ، المادة 1463، ج:3، ص:561، ط:دارالجيل)

وفيه ايضاّ:

"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل ...لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة".

(كتاب الوكالة، الباب الثالث في بيان احكام الوكالة،المادة:1467،ج:3،ص:573،ط:دارالجیل)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"وليس للمودع حق التصرف والاسترباح في الوديعة."

(كتاب الوديعة ج:11، ص:122، ط:دارالمعرفة)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144707101348

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں