بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جس لڑکی سے بھی میری شادی ہو اسے طلاق کہنے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص یہ کہہ دے  کہ جس لڑکی سے بھی میری شادی ہو تو اسے طلاق، جب کہ یہ نیت یہ ہو کہ تمام عمر شادی نہیں کروں گا ، تو کیا ایسے شخص کے لیے نکاح کی گنجائش یا صورت نکل سکتی ہے یا وہ  مجرّد ہی رہے۔؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر  کوئی  شخص  نکاح سے پہلے یہ جملہ کہے کہ : ” جس لڑکی سے بھی میری شادی ہو تو اسے طلاق“ تو جس بھی  عورت  سے یہ نکاح کرے گا  اس پر  ایک طلاقِ بائن   واقع ہوجائے گی اور یہ تعلیق ختم ہوجائے گی،  اس کے بعد باہمی رضامندی سے دوبارہ تجدید نکاح کرنا جائز ہوگا، اور آئندہ اس کو دوطلاقوں کا حق ہوگا۔

اللباب میں ہے:

"وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح، مثل أن يقول: إن تزوجتك فأنت طالقٌ، أو كل امرأة أتزوجها فهي طالقٌ، وإن أضافه إلى شرطٍ وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالقٌ.(وإذا أضافه) أي الطلاق (إلى) وجود (شرط وقع عقيب) وجود (الشرط) وذلك (مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق) ، وهذا بالاتفاق، لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط، ويصير عند وجود الشرط كالمتكلم بالطلاق في ذلك الوقت".

(کتاب الطلاق،3/ 46، ط: المكتبة العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102119

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں