
میں نے ایک کاغذ پر 113 مرتبہ "بسم اللہ الرحمن الرحیم" پرنٹ کیا تھا، جو ایک بزرگ کے مجربات کے طور پر بتایا گیا تھا کہ اسے اپنے پاس رکھنے سے مصیبتوں سے حفاظت ہوتی ہے۔ اب وہ کاغذ میرے پاس موجود ہے اور میں نے اسے دیوار پر بھی لگایا ہوا تھا۔ اب میرے دل میں یہ سوال ہے کہ کیا مجھے اس کاغذ کو اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہیے یا ادب کے ساتھ اسے ضائع کر دینا چاہیے؟ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرما دیں کہ میرے لیےکون سا عمل بہتر اور درست ہے؟
صورت مسئولہ میں جب تک مذکورہ کاغذ صحیح سالم رہے ،اس وقت تک اسے ادب واحترام کے ساتھ محفوظ رکھا جائے،البتہ اگر مذکورہ کاغذ بوسیدہ ہوگیا ہو ،تو متبرک اوراق کی طرح محفوظ کر کے ایسے اداروں کو دے دیں جو کہ ان کو محفوظ جگہ دفن کرتے ہوں یا محفوظ طریقہ سے سمندر برد کرتے ہوں۔
فتاوی عالمگیری میں ہے :
"ولو كتب القرآن على الحيطان والجدران بعضهم قالوا: يرجى أن يجوز، وبعضهم كرهوا ذلك مخافة السقوط تحت أقدام الناس، كذا في فتاوى قاضي خان".
(کتاب الکراھیة،الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلة والمصحف، ج:5،ص: 323،ط:دارالفکر ،بیروت)
المحیط البرہانی میں ہے:
"وإذا صار المصحف خلقاً بحيث لا يقرأ منه لا يحرق؛ إليه أشار محمد رحمه الله في «السير» في باب ما يوجد من الغنيمة، فيكره قسمته، وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، ومن أراد دفنه ينبغي أن يلفه بخرقة طاهرة، ويحفر لها حفرة ويلحد ولا يشق؛ لأنه متى شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير واستخفاف بكتاب الله تعالى، وإن شاء غسله بالماء حتى يذهب ما به، وإن شاء وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد المحدثين، ولا تصل إليه النجاسة تعظيماً لكلام الله تعالى".
(کتاب الاستحسان والکراھیة،الفصل الخامس فی المسجد والقبلة والمصحف، ج:5،ص: 321،ط:دار الکتب العلمیة )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101199
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن