
ایسا گاؤں جہاں پر کوئی ،مستقل دکان نہیں ہےجس سے ہلکی پھلکی ضرورت پوری ہوسکے، البتہ اس گاؤں کے گھر سو سے بھی زیادہ ہے اور ہر گھر میں تقریباًپندرہ بیس افراد ہیں۔
وہاں علماء کرام نماز جمعہ تو نہیں پڑھاتے ہیں مگر عید کی نماز پابندی سے ادا کرتے ہیں۔
شریعت کی نظر میں اس کا کیا حکم ہے؟
جب ان کو عید کی نماز سے منع کیاجاتاہے تو وہ علماء کرام فرماتے ہیں کہ مصلحت کی بناء پر پڑھاتے ہیں،
مصلحت نمبر 1:اگر ہم نماز عید چھوڑیں گے تو لوگ متنفر ہوجائیں گےاور کہیں گے کہ اتنے علماء کرام پہلے سے پڑھایا کرتے تھےاور کہنے لگیں گے کہ کیا شریعت میں یہ حکم کیا ابھی آیاہے۔
مصلحت نمبر2:بعض لوگ ایسے ہیں جو صرف عید کی نماز میں شرکت کرتے ہیں،اگر ہم نماز عید ختم کرتے ہیں تو وہ لوگ اس ایک موقع سے بھی محروم ہوجائیں گے۔
واضح رہے کہ نماز عید کی وہی شرائط ہیں جو کہ جمعہ کی نماز کی ہے،لہذا جس جگہ شرائط کے نہ ہونے کے سبب جمعہ کی نماز نہیں ہوتی وہاں کے باشندوں پر عید کی نماز بھی واجب نہیں ہوتی اور جمعہ وعیدین کی نماز کےصحیح ہونےکےلئےدیگرشرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ نماز جمعہ وعیدین شہر،مضافات شہر یا بڑے گاؤں میں ادا کی جاۓ، اور بڑا گاؤں آج کل کے عرف میں اس کو کہا جاتاہے کہ جس میں زندگی کی تمام تر سہولیات یعنی علاج معالجے،تعلیم کے لیے مدرسہ ،اسکول ،ڈاکخانہ ، فیصلے کے لئے پنچائت وغیرہ، الغرض اتنی سہولیات موجود ہوں جو وہاں کے باشندوں کے لیے کافی ہو ں اور ان کو کسی دوسرے شہر جانے کی ضرورت نہ پڑے،ان تمام سہولیات کے ساتھ وہاں کے باشندوں کی تعداد بھی کم از کم ڈھائی سے تین ہزار ہو تو اس کو بڑا گاؤں کہا جاۓ گا،لہذا صورت مسئولہ میں ذکرکردہ گاؤں میں آبادی بھی بہت کم ہے، اور دیگر ضروریاتِ زندگی بھی میسر نہیں ہیں، لہذا مذکورہ گاؤں والوں پر جمعہ اور عیدین کی نماز نہ ہی لازم اور نہ ہی جائز ہے۔
لوگوں کو مصلحت اور بہتر انداز سے یہ مسئلہ سمجھایا جاۓ کہ جب ہم پر جمعہ کی نماز واجب نہیں ہے تو عید کی نماز بھی واجب نہیں ہے ،مقامی علماء کی ذمہ داری یہی ہے کہ پہلے وہ مل بیٹھ کر شرعی مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کریں، اور پھر عوام الناس کو حکمتِ عملی کے ساتھ اصل مسئلے کی وضاحت کریں، نیز اگر کوئی عید کی نماز پڑھنا چاہے توجس قریبی شہر یا بڑےگاؤں میں عید کی نماز ہوتی ہو،وہاں جاکر وہ عید کی نماز پڑھاکرے۔
البحرالرائق میں ہے:
"(قوله شرط أدائها المصر) أي شرط صحتها أن تؤدى في مصر حتى لا تصح في قرية، ولا مفازة لقول علي رضي الله عنه لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر، ولا أضحى إلا في مصر جامع أو في مدينة عظيمة رواه ابن أبي شيبة وصححه ابن حزم وكفى بقوله قدوة وإماما."
(کتاب الصلاۃ ،باب الجمعۃ ج:2 ص:152،ط:مکتبہ رشیدیہ)
فتاوی شامی میں ہے :
".وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات"
(کتاب الصلاۃ،باب الجمعۃ،ج:2،ص:138،ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"(تجب صلاتهما) في الأصح (على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) المتقدمة (سوى الخطبة) فإنها سنة بعدها.
(قوله: بشرائطها) متعلق ب تجب الأول، والضمير للجمعة وشمل شرائط الوجوب وشرائط الصحة لكن شرائط الوجوب علمت من قوله على من تجب عليه الجمعة، فبقي المراد من قوله: بشرائطها القسم الثاني فقط".
(کتاب الصلاۃ،باب العیدین،ج:2،ص: 166،ط:سعید)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"حنفیہ کے نزدیک جمعہ کے لئے شہر یا قصبہ یا بڑا گاؤں ہونا ضروری ہے، بڑا گاؤں وہ ہے جو اپنی ضروریات روزمرہ، ڈاکخانہ، شفا خانہ، مدرسہ، بازار وغیرہ کے لحاظ سے قصبہ کے مثل ہو اور تین چار ہزار کی آبادی ہوں جو گاؤں ایسا نہیں سے وہاں جمعہ جائز نہیں، بلکہ روزانہ کی طرح جمعہ کے روز بھی ظہر کی نماز پڑھی جائے۔"
( کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ ، فصل فی اشتراط المصر للجمعۃ ج8،ص102،دار الفاروق کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100313
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن