
1:ہمارے علاقے میں کچھ دینی پروگرامات ہوتے ہیں،لیکن ابھی تک میں ان پروگراموں اور اجلاسوں میں شریک نہیں ہوا ہوں؛کیونکہ وہ پروگرام یا اجلاس زیادہ تر مساجد میں ہوتے ہیں اور ان میں ابھی باقاعدگی کے ساتھ خاص کر موبائل ویڈیو کی ترتیب اور اس کے لئے پوری ٹیم ہوتی ہے ،جب منع کرتے ہیں تو جواب یہ ملتا ہے کہ یہ وقت کا اہم تقاضہ اور ضرورت ہے۔
آیا ان مجالس کے پروگرام اور اجلاس میں میرے لیے شرکت جائز ہے یا نہیں؟ جہاں باقاعدگی اور پابندی کے ساتھ اب ویڈیو کے لیے اپنی پوری ٹیم ہوتی ہے۔
2: بعض علاقوں میں یہ ترتیب شروع ہوئی ہے کہ دستار بندی اور اصلاحی پروگراموں میں پوسٹر پر مقرر کی تصویر ہوتی ہے، اس صورت کی وضاحت فرمائیں۔
3:یہ جملہ کس حد تک ٹھیک ہے کہ اب یعنی اس وقت خاص کر موبائل ویڈیو کے ذریعے باطل کا مقابلہ کرنا ہے،میرا تعلق عصری تعلیمی ادارے سے ہے،جب کم عمر نوجوان علماء کرام سے موبائل ویڈیو کے بارے میں پوچھتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ اختلافی مسئلہ ہے؟ آیا موبائل تصاویر یا ویڈیو جائز ہے،یا اس کی کوئی حد ہے،یا بالکل جائز نہیں ہے؟
1:صورت مسئولہ میں سائل اپنی استطاعت کے مطابق ان مجالس میں تصویر سازی سے لوگوں کو منع کرتارہے البتہ جہاں آپ کا اختیار نہ ہو اور ایسی مجالس میں شرکت ضروری ہو، تو تصویر کے گناہ ہونے کا استحضار رکھتے ہوئے، حتی الامکان اس سے بچا جائے، اگر پھر بھی آپ کی اجازت کے بغیر آپ کی تصویر لے لی جائے تو آپ گناہ گار نہیں ہوں گے، بلکہ تصویر لینے والا گناہ گار ہوگا۔
2: کسی شدید ضرورت کے بغیر جاندار کی تصویر بنانا یا بنوانا حرام ہے،خواہ تصویر کسی بھی قسم کی ہو، کپڑے یا کاغذ پر بنائی جائے یا در و دیوار پر، قلم سے بنائی جائے یا جدید آلات جیسے کیمرہ،موبائل وغیرہ سے، لہذا پوسٹروں پر تصاویر لگانا شرعاً،ناجائز اور حرام ہے۔
3:دین کی نشرواشاعت کے لیے شریعت نے ہمیں جائز راستے اختیار کرنے کاحکم دیا ہے،ناجائز راستوں سے دین کی نشرواشاعت کا شریعت نے ہمیں مکلف نہیں بنایا ہے،نیزشریعت مطہرہ نے کسی مسلمان کو باطل سے مقابلہ کرنے کے لیے ناجائز اور حرام راستہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی ہے بالخصوص جب دیگر جائز راستے موجود ہوں؛ لہذا ویڈیو و تصاویر بنانے کو وقت کی ضرورت قرار دینا یا باطل کے مقابلے کا ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أشد الناس عذاباً يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله»."
(مشكاة المصابيح، ( باب التصاویر، ج:2، ص:385، ط: قدیمي)
ترجمہ:" حضرت عائشہ ؓ ، رسول کریمﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:" قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں"۔
(مظاہر حق جدید(4/229) ط: دارالاشاعت)
عمدۃ القاری میں ہے:
"قال أصحابنا وغيرهم تصوير صورة الحيوان حرام أشد التحريم وهو من الكبائر وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فحرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله وسواء كان في ثوب أو بساط أو دينار أو درهم أو فلس أو إناء أو حائط وأما ما ليس فيه صورة حيوان كالشجر ونحوه فليس بحرام وسواء كان في هذا كله ما له ظل وما لا ظل له وبمعناه قال جماعة العلماء مالك والثوري وأبو حنيفة وغيرهم."
(كتاب اللباس، باب عذاب المصورين يوم القيامة، ج:22، ص:70، ط:دار إحياء التراث العربي)
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"تصویرکشی اور تصویر سازی کسی جان دار کی کسی حال میں جائز نہیں ہے، صرف غیرذی روح بے جان چیزوں کی تصاویر بناسکتے ہیں۔"
(جواہر الفقہ (جدید)،تصویر کے شرعی احکام، ج:7، ص:231، ط:مکتبہ دارالعلوم)
کفایت المفتی میں ہے:
"سوال: مسلمان خواہ عالم ہویاجاہل امیر ہو یا غریب اپنی تصویر کھنچواسکتا ہے یا نہیں ؟
جواب: تصویر کھینچنا اور کھنچوانا منع ہے، کھنچوانا اگر کسی ضرورت پر مبنی ہو مثلاً پاسپورٹ کے لیے تو مباح ہے، نیز فوٹو کی تصویر تو صاحبِ تصویر کے علم وارادے کے بغیر بھی کھنچ جاتی ہے، اس میں صاحبِ تصویر پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔"
(کتاب الحظر والاباحۃ،بیسواں باب ، فوٹو، مصوری اور تصویر، ج:9، ص:238، ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101196
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن