بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جس بستی میں عرصے سے جمعہ جاری ہو، وہاں جمعہ جاری رکھنے پر اشکال کا جواب


سوال

 کافی عرصہ سے ہاں چھوٹی چھوٹی بستیوں میں نماز جمعہ شروع ہو چکا ہے۔ اگر کسی کو کہا جائے کہ احناف کے نزدیک چھوٹی بستی میں نماز جمعہ درست نہیں ہے۔ اس کو ختم کر دیں تو وہ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ ابھی ختم کرنے میں فتنہ و فساد کا خطرہ ہے اس لیے فی الحال رہنے دیجئے۔ اورمفتی کفایت الله صاحبؒ کا حوالہ دیتے ہیں کیوں کہ وہ فرماتے ہیں کہ اگر جمعہ بند کرنے میں فساد کا اندیشہ ہو تو پھر اس کو بند کرنا جائز نہیں۔

ملاحظہ ہوں: مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ: "اگر نماز جمعہ وہاں عرصہ سے قائم ہے اب اس کو بند کرنے میں مذهبی و دینی فتنہ ہے اس لئے اس کو موقوف کرنا درست نہیں بلکہ اس مسئلے میں امام شافعی رحمہ اللہ کے قول یا امام مالک رحمہ اللہ کے قول کے موافق عمل کر لینا جائز ہے۔" ( کفایت المفتی ج/3 ، ص / 328)

حالانکہ دلائل کے اعتبار سے چھوٹی بستی میں احناف کے نزدیک نماز جمعہ درست نہیں، اگر کسی نے پڑھ لیا تو ظہر کا اعادہ لازم ہے۔دیکھئے دلائل : 

"عن على رضى الله تعالى عنہ انہ قال: لا جمعة ولا تشريق الافي مصر جامع"۔

وفي البدائع : لا يصح اداء الجمعۃ الا في المصر(بدائع الصنائع ج 1 ص 259)

وفي الجواهر: لوصلوا في القرى لزمهم اداء الظهر(شامی ج 2 ص 138)

لیکن ان دلائل کے باوجود اکثر حضرات کہتے ہیں کہ مفتی کفایت اللہ صاحب کوئی معمولی شخصیت نہیں تھے جب انہوں نے جواز کا فتویٰ دیا ہے، تو ضرور اس میں گنجائش ہوگی، حالاں کہ علامہ شامی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخصیت کی شہرت کی وجہ سے مدلل بات کو رد کرنے کو ناجائز اور جہل عظیم احکام شرعیہ کو ٹھکرانے میں تہور قرار دیا ہے: "قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی : وقد كنت مرة افتیت بمسئلة في الوقف موافقا لما هو المسطور في عامة الكتب وقد اشتبه فيها الأمر على الشيخ علاء الدين الحصكفى عمدة المتاخرين فذكر في الدر المختارعلی خلاف الصواب فوقع علی جوابی الذی افتیت بہ بید جماعۃ من مفتی البلاد ، کتبوا فی ظہرہ بخلاف ما افتيت به موافقين لما وقع في الدر المختار وزاد بعض هؤلاء المفتيین :ان هذا الذي في العلائي هو الذي عليه العمل لانه عمدة المتاخرين وانه ان كان عندكم خلافه لا نقبل منكم فانظر الى هذا الجهل العظيم والتهور فى الاحكام الشرعیۃ والاقدام علی الفتیا بدون علم و بدون مراجعۃ ، ولیت ھذا القائل راجع حاشية العلامة الشيخ ابراهيم الحلبي على الدر المختارفانہ اقرب ما يكون اليه فقد نبه فيها على إنه ما وقع للعلائي خطأ في التعبير. (شرح عقود رسم المفتى، ص:17، ط: البشرى) دیکھیے ! علامہ علاء الدين حصکفی رحمہ الله تعالی کو خود علامہ شامی رحمہ الله تعالى " عمدة المتاخرين" فرماتے ہیں، پھر بھی ان کی غیر مدلل اور خلاف صواب رائے پر جمود اور صحیح اور مدلل بات کے انکار کو جہل عظیم اور احکام شرعیہ کو ٹھکرانے میں تہور اور دیدہ دلیری و بے باکی فرما رہے ہیں!

جواب

اصل ِ مذہبِ حنفیہ میں تو چھوٹی بستیوں میں جمعہ کی نماز جائز نہیں ہے، اگر کسی چھوٹی  بستی میں (جہاں جمعہ کی شرائط نہ پائی جارہی ہوں) جمعہ کی نماز اد اکرلی گئی، تو ظہر کی نماز اعادہ کرنا لازم ہوگا اور مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف ہے اور انہوں نے  مذہبِ حنفی سے ہٹ کر  جمعہ فی القری کے جواز کا فتوی   ہرگز نہیں دیا۔

البتہ  اتنی بات ضرور ہے کہ اگر کسی جگہ جمعہ کی نماز کئی سالوں سے جاری ہو اور اس کو موقوف کرنے میں شدید فتنہ اور فساد کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ نے یہ فتوی دیا ہے کہ جمعہ کی نماز کو موقوف کرنے کے بجائے، اسے جاری رکھا جائے؛ کیوں کہ  اس کو موقوف کرنے میں جو خرابی آئے گی، وہ ان خرابیوں سے کئی گنا زیادہ ہے جو جمعہ کی نماز   جاری رکھنے کی صورت میں آئیں گی۔ اور اس بات کی تائید شمس الأئمہ حلوانی رحمہ اللہ کے ایک فتوے سے بھی ہوتی ہے، جو انہوں نے طلوع شمس کے وقت فجر کی نماز کے بارے میں دیا،  جب ان سے پوچھا گیا کہ : "سست اور کاہل لوگ فجر کی نماز طلوع شمس کے وقت میں ادا کرتے ہیں، تو کیا ہم ان کو اس سے روک سکتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں،  ان کو نہ روکو، کیوں کہ اگر ان کو  اس سےروکا جائے گا، تو وہ سِرے سے نماز پڑھنا  ہی چھوڑ دیں گے۔"

نیز شریعت کا اصول ہے کہ اگر کسی معاملہ میں کئی بڑی خرابیوں کا سامنا ہو، تو اس میں سے اہون کو اختیار کر کے باقی کو چھوڑ دیا جاتاہے، تاہم اس فتوی کی بناء پر کسی بستی میں نئے سِرے سے جمعہ کی نماز شروع کرنا یا چھوٹی بستیوں میں جمعہ کی نماز کو جائز سمجھنا درست نہیں ہے۔

چنانچہ کفایت المفتی کی عبارت ملاحظہ ہو:

"گاؤں میں جمعہ کا صحیح ہونا نہ ہونا مجتہدین میں مختلف فیہ ہے، حنفیہ کے نزدیک جواز جمعہ کے لیے مصر ہونا شرط ہے، لیکن مصر کی تعریف میں اختلاف عظیم ہے، تاہم جس مقام میں کہ زمانہ قدیم سے  جمعہ قائم ہے، وہاں جمعہ کو ترک کرانے میں جو مفاسد ہیں وہ ان مفاسد سے بدرجہا زیادہ سخت ہیں جو  سائل نے جمعہ پڑھنے  کی صورت میں ذکر کیے ہیں، جو لوگ جمعہ کو جائز سمجھ کر جمعہ پڑھتے ہیں، ان کا فرض ادا ہوجاتا ہے، نفل کی جماعت یا جہر بقرات نفل نہار یا ترک فرض لازم نہیں آتا۔"

کفایت المفتی، ج:3، ص:231، ط:دار الاشاعت)

البحر الرائق میں ہے:

"قال في التجنيس سئل شمس الأئمة الحلواني أن ‌كسالى ‌العوام يصلون الفجر عند طلوع الشمس أفنزجرهم عن ذلك قال لا؛ لأنهم إذا منعوا عن ذلك تركوها أصلا وأداؤها مع تجويز أهل الحديث لها أولى من تركها أصلا اهـ."

(كتاب الصلاة، باب العيدين، ج:2، ص:173، ط:دار الكتاب الاسلامي)

رد المحتار میں ہے:

"واستشهد له بما في التجنيس عن الحلواني أن ‌كسالى ‌العوام إذا صلوا الفجر عند طلوع الشمس لا يمنعون لأنهم إذا منعوا تركوها أصلا، وأداؤها مع تجويز أهل الحديث لها أولى من تركها أصلا."

(كتاب الصلاة، باب العيدين، ج:2، ص:171، ط:سعيد)

عمدۃ القاری میں ہے:

"العاشر: ‌إذا ‌تعارضت ‌مفسدتان يجوز دفع أعظمهما بارتكاب أخفهما، كما في خرق الخضر السفينة لدفع غصبها وذهاب جملتها."

(كتاب العلم، ج:2، ص:195، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100106

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں