بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جس بالغ طالب علم کی داڑھی نہ آئی ہو اس کی امامت کا حکم


سوال

ہم مدرسے میں سبق پڑھتے ہیں اور نماز بھی وہاں پر ادا کرتے ہیں تو ہمارے کچھ ساتھی طلباء جو بالغ ہیں اور ان کی عمر 15 سال تک ہے اور ابھی ان کی داڑھی نہیں ہے، ہمارے استاذ ان کو امامت کے لیے آگے کرتے ہیں تاکہ ان طلباء کی تربیت ہو اور امامت میں تجربہ ہو۔

سوال یہ ہے کہ ہم جب اس کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں تو ہماری تو داڑھی ہوتی ہے، تو کیا یہ نماز ہو جائے گی؟ کیا داڑھی والے شخص کی موجودگی میں بغیر داڑھی والا نماز پڑھا سکتا ہے؟

جواب

امامت کے لیے امام کا بالغ ہونا شرعا ضروری ہے۔  اور جس لڑکے میں کم از کم بارہ سال(قمری حساب سے) کی عمر میں علامات ِ بلوغ(احتلام ،انزال وغیرہ) ظاہر ہوجائیں وہ شرعاً بالغ ہےاور اس کاامام بننا درست ہے۔ اسی طرح اگر کسی لڑکے میں علاماتِ بلوغ(احتلام ،انزال وغیرہ)ظاہر نہ ہوں لیکن  اس کی عمر پندرہ سال(قمری حساب)ہوجائے تو شرعاً وہ بھی بالغ شمار ہوگا اور اس کی امامت درست ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں  ایسے بالغ طلبہ جن کی ابھی داڑھی نہ آئی(لیکن  علاماتِ بلوغ ظاہر ہوچکی ہوں یا قمری حساب سے پندرہ سال کے ہوں)کا امام بننا اور داڑھی والے طلبہ یاافرادکا ان کی اقتدا میں نماز ادا کرنا شرعاً جائز ہے۔
البتہ یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ اگر مسجد  مدرسہ  سے متصل یا قریب ہو تو مسجد ہی میں جماعت کے ساتھ  نماز پڑھنی چاہیے ؛ اس لیے  کہ مسجد کا ثواب مسجد  ہی میں باجماعت نماز پڑھنے سے حاصل ہو گا، مدرسہ میں باجماعت نماز پڑھنے سے  مسجد کی نماز  کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔

اگر کسی عذر(بچوں کی کثرت وغیرہ)کی وجہ سے مدرسہ میں جماعت کرائی جارہی ہو تو بھی کم از کم بالغ طلبہ کو مسجد ہی کی جماعت میں شامل ہونا چاہیےاور نابالغ طلبہ کی مدرسہ میں جماعت کروالی جائےاور چند اساتذہ یا بالغ طلبہ ان کی نگرانی کرلیں۔ 
فتاوی ہندیہ میں ہے:

"بلوغ ‌الغلام بالاحتلام أو الإحبال أو الإنزال، والجارية بالاحتلام أو الحيض أو الحبل، كذا في المختار. والسن الذي يحكم ببلوغ الغلام والجارية إذا انتهيا إليه خمس عشرة سنة عند أبي يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وعليه الفتوى".

(كتاب الحجر، الباب الثاني في الحجر للفساد، الفصل الثاني في معرفة حد البلوغ، ج:5، ص:61، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: فإن لم يوجد فيهما) أي في الغلام والجارية شيء مما ذكر إلخ مفاده: أنه لا اعتبار لنبات العانة خلافا للشافعي، ورواية عن أبي يوسف، ولا اللحية".

(كتاب الحجر، فصل، ج:6، ص:153، ط: سعيد)

وفیہ أیضاً:

"وشروط الإمامة للرجال الأصحاء ستة أشياء: الإسلام ‌والبلوغ ‌والعقل ‌والذكورة ‌والقراءة والسلامة من الأعذار كالرعاف والفأفأة والتمتمة واللثغ وفقد شرط كطهارة وستر عورة".

(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:550، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706102219

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں