بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

منگیتر سے نکاح پر معلق تین طلاق کا حکم اوراس صورت میں فضولی کے نکاح کا حکم


سوال

ایک آدمی کی کسی عورت کے ساتھ منگنی ہو گئی تواس نے کہا  کہ :”جس عورت کے ساتھ میری منگنی ہوئی ہے اگر میں نے اس سے نکاح کیا تو اس کو تین طلاق“

تو اب سوال یہ ہے کہ:

1۔کیا اس عورت سے نکاح کرنے کی صورت میں طلاق ہو جائے گی؟اگر طلاق ہوگی تو کتنی؟

2۔اس کے علاوہ کوئی صورت ہو جس کی وجہ سے طلاق نہ ہو؟

جواب

1۔صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص  اپنی منگیتر سے جب کبھی نکاح کرے گا، اس کے درج ذیل الفاظ :”جس عورت کے ساتھ میری منگنی ہوئی ہے اگر میں نے اس سے نکاح کیا تو اس کو تین طلاق“ کی وجہ سے  اس عورت پر تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی، اور وہ مذکورہ شخص پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی اس کے بعد شوہر  کے لیے اس سے رجوع یا نکاح حرام ہوگا،اور  اس عورت کے لیے عدت گزارے بغیر کسی اور سے نکاح کرنا جائز ہوگا۔

2۔طلاق سے بچنے کی ایک صورت ہے کہ مذکورہ شخص اپنی منگیتر سے نہ از خود نکاح کرے، نا کسی کو نکاح کا وکیل بنائے  بلکہ کوئی دوسرا شخص -جسے اس نے وکیل بھی نہ بنایا ہو - اپنی طرف سے اس عورت کا نکاح اس آدمی سے کر دے، اور بعد میں وہ شخص اس پر زبانی اجازت دے کر نافذ کرنے  کی بجائے عملاً اس نکاح کو نافذ کر دے، مثلاً مہر ادا کر دے یا حقوقِ زوجیت ادا کرنے لگے، تواس صورت میں نکاح شرعاً نافذ بھی ہوجائے گااور طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔

الدر المختار مع الرد میں ہے: 

"(شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) (، أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق)وكذا كل امرأة ويكفي معنى الشرط إلا في المعينة باسم أو نسب أو إشارة فلو قال: المرأة التي أتزوجها طالق تطلق بتزوجها."

(کتاب الطلاق، ‌‌باب التعليق، ج:3، ص:344، ط:سعید)

وفیه أيضًا:

"قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق) يا زانية (ثلاثا) فلا حد ولا لعان لوقوع الثلاث عليها وهي زوجته ثم بانت بعده وكذا أنت طالق ثلاثا يا زانية إن شاء الله تعالى تعلق الاستثناء بالوصف بزازية»(وقعن) لما تقرر أنه متى ذكر العدد كان الوقوع به، وما قيل من أنه لا يقع لنزول الآية في الموطوءة باطل محض منشؤه الغفلة عما تقرر أن العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص السبب وحمله في غرر الأذكار على كونها متفرقة فلا يقع إلا الأولى فقط.(وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية)."

(کتاب الطلاق، ‌‌باب طلاق غير المدخول بها، ج:3، ص:284، ط:سعید)

شرح مختصر الکرخی میں ہے:

"قال أبو الحسن رحمه الله تعالى: إذا قال [الرجل] لامرأته وهو لم يدخل بها: أنت طالق، بانت منه ولا عدة عليها، وإنما يلزمها العدة لقوله تعالى: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا} [الأحزاب: 49] ولأن العدة موضوعة للاستبراء، وقبل الدخول لا استبراء فلا معنى للعدة، ولا يلزم المتوفى عنها زوجها قبل الدخول؛ لأن عدة الوفاة لم توضع للاستبراء وإنما وضعت على وجه [العبادة] بدلالة أنها تجب بالشهور مع القدرة على الحيض، ولأن الموت أجري مجرى الدخول في إكمال المهر، فهو كالخلوة التي أجريت مجرى الدخول، وإذا ثبت أنه لا عدة عليها، فالرجعة إنما تثبت مع بقاء العدة، فوزان مسألتنا عقيب [طلاق] المدخول بها إذا انقضت عدتها، ولأنه لم يبق حق من حقوق الملك، والرجعة إنما تثبت مع بقاء حقوق الملك، قال: ولا تحل [له] إلا بنكاح مستقبل؛ لأن النكاح لمّا زال وأحكامه صارت أجنبية، فلا تحل إلا بعقد جديد."

(کتاب الطلاق، ‌‌باب طلاق غير المدخول بها، ج:3، ص:555، ط:دار أسفار - الكويت)

الدر المختار مع الرد میں ہے: 

"(قوله وكذا كل امرأة) أي إذا قال: كل امرأة أتزوجها طالق، ‌والحيلة ‌فيه ما في البحر من أنه يزوجه فضولي ويجيز بالفعل كسوق الواجب إليها."

(کتاب الطلاق، ‌‌باب التعليق، ج:3، ص:345، ط:سعید)

کفایت المفتی میں ہے:

”نکاح کی طرف اضافت کر کے تعلیق کی‘ تو شرط پائے جانے سے طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں؟

(سوال) ایک غیر  شادی شدہ حنفی شخص نے جو مذاہب اربعہ کو حق مانتا ہے یہ کہا کہ اگر وہ یہ کام کرے تو اگر نکاح کرے تو اس کی بیوی پر تین طلاق  ایسی صورت میں اگر وہ شخص امام شافعیؒ کے مذہب پر  عمل کرلے تو کیا شرعاً اس کو اجازت ہے اگر نہیں ہے تو امام اعظمؒ کے مذہب کی بنا پر نکاح کی صورت کیا  ہے نیز اگر بجائے لفظ اگر کے وہ لفظ یہ کہے کہ جب کبھی وہ نکاح کرے یعنی لفظ ( کلما) تو اس کی بیوی پر تین طلاق تو کیا ایسی مجبوری کی صورت میں امام شافعیؒ کے مذہب پر عمل کرسکتا ہے اگر کرسکتا ہے تو کیا فتوی مفتی شرط ہے  اگر وہ شخص خود بھی عالم  ہو تو کیا اپنے رائے کے مطابق امام شافعیؒ کے قول پر عمل کرسکتا ہے اگر کسی نے مجبوری کے ماتحت کرلیا تو گناہ ہوگا یا نہیں اگر ہوگا تو کس قسم کا گناہ ؟  المستفتی نمبر۲۶۷۹ محمد صالح و عبدالرحمن جامع مسجد امروہہ ( مراد آباد ) ۲ رجب ۱۳۶۰؁ھ م ۲۸ جولائی ۱۹۴۱؁ء

(جواب ۳۰۶)  ’’ اگر‘‘ اور ’’ جب کبھی ‘‘  دونوں صورتوں میں یمین کے بعد نکاح کرنے سے منکوحہ پر تین طلاقیں پڑ جائیں گی اور یمین منحل ہوجائے  گی  (۱)دوسرے  نکاح میں طلاقیں نہیں پڑیں گی (۲) کلما کا مطلب یا تو تکرار لفظ’’ جب‘‘ سے پیدا ہوگا مثلاً یوں کہے ’’ جب میں نکاح کروں‘‘  یا لفظ بھی لانے سے مثلاً یوں کہے    ’’ جب بھی نکاح کروں‘‘ (۳)اور ان دونوں صورتوں میں مخلصی کی صورت یہ ہے کہ خود نکاح نہ کرے بلکہ کوئی فضولی اس کے امر اور اجازت کے بغیر اس  کا نکاح کردے اور یہ اجازت بالقول نہ دے بلکہ اجازت بالفعل دے مثلاً مہر ادا کردے یا منکوحہ سے وطی کرلے تو طلاق نہیں پڑے گی۔  (۴)محمد  کفایت اللہ کان اللہ لہ‘ دہلی“

(کتاب الطلاق، ج:6، ص:323، ط:دار الاشاعت)

فتاوی فریدیہ میں ہے:

”جس عورت سے میں نکاح کروں وہ مجھ پر مطلقہ ثلاثہ ہو“ کا حکم اور فضولی کا نکاح

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) ایک شخص نے کہا کہ جس عورت سے میں نکاح کروں تو خدا کی قسم اگر میں اس کو نزدیک ہو جاؤں تو وہ مجھ پر حرام ہو۔ (۲) یا یہ کہا کہ جو عورت میں نے کی وہ مجھ پر تین بار طلاق سے طلاق ہو ، اب اگر اس آدمی کیلئے نکاح فضولی کیا جائے تو طلاق واقع ہوگی؟ بینوا توجروا

المستفتی: عبد الواسع اکبر پوره ۷/۹/۱۹۷۵

الجواب:جب فضولی عقد نکاح کرے اور یہ شخص قبول بالفعل کرے یعنی مہر معجل دے دے وغیرہ تو طلاق کے وقوع سے بچ جائے گا، كما في رد المحتار : ۶۸۱قوله: وكذا كل امرأة) أي إذا قال: كل امرأة أتزوجها طالق، ‌والحيلة ‌فيه ما في البحر من أنه يزوجه فضولي ويجيز بالفعل كسوق الواجب إليها.

 اور سوال اول کی صورت میں بھی ایلاء یا طلاق سے بچنے کا یہی حیلہ ہے اور بینونت خفیفہ کی صورت میں تجدید نکاح بھی مخرج اور حیلہ ہے ، كما مر . وهو الموفق۔“

(کتاب الطلاق، باب تعلیق الطلاق، ج:5، ص:419، ط:دار العلوم صدیقیہ )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100657

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں