
میرا نکاح ہوا تھا ،اور خلوت صحیحہ بھی ہوچکی تھی، لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی تھی، نکاح کے تقریبا تین ماہ بعد میری اہلیہ نے دو مرتبہ نہایت معمولی اور چھوٹی باتوں پر مجھ سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کیا، میں نے دونوں مرتبہ واضح اور صاف الفاظ میں طلاق اور خلع دینے سے انکار کیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ایک معمولی بات پر میری اہلیہ نے تیسری مرتبہ طلاق کا مطالبہ کیا اس مرتبہ وہ اپنے مطالبے پر قائم رہیں ،اور کہا کہ میں آپ کے نکاح میں نہیں رہنا چاہتی ،مجھے بس طلاق چاہیے، میں نے پھر بھی طلاق دینے سے انکار کیا، اور تجویز دی کہ معاملہ دونوں خاندانوں کے بزرگوں کے درمیان بیٹھ کر حل کیا جائے۔
اس کے بعد میری اہلیہ نے اپنی والدہ کے ساتھ مل کر اپنے گھر والوں کے سامنے میرے متعلق متعدد ایسی باتیں بیان کیں ،جو حقیقت کے خلاف تھیں ،اور ان الزامات کے حق میں ان کے پاس کوئی ثبوت بھی موجود نہیں تھا،بس مجھے بدنام کرنے کے لیے مجھ پر جھوٹے الزام لگائے، مزید یہ کہ اپنے گھر والوں کے سامنے ایک قسم کی باتیں بیان کیں ، جبکہ عدالت میں جا کر ان سے مختلف دعوے کیے یعنی خاندان کے سامنے بیان کردہ وجوہات اور عدالت میں پیش کی گئی وجوہات ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔
بعد اذاں انہوں نے عدالت میں خلع کا مقدمہ دائر کیا، میں نے عدالت میں تمام دستیاب ثبوت پیش کیے جن سے واضح ہوتا تھا کہ میرے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور جھوٹے ہیں، میں نے واٹس ایپ پیغامات اور دیگر شواہد بھی عدالت میں جمع کروائے، اس کے باوجود چند ہی دن بعد عدالت نے میری اہلیہ کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کر دی ،جس دن عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کی میں اس دن عدالت میں موجود نہیں تھا،اور مجھے اس فیصلے کا پیشگی علم بھی نہیں تھا، میں نے کبھی بھی زبانی یا تحریری طور پر خلع پر رضامندی ظاہر نہیں کی، نہ میں نے خلع قبول کی اور نہ ہی کسی دستاویز پر اس حوالے سے دستخط کیے۔
واضح رہے کہ ہمارا کوئی ایسا جھگڑا بھی نہیں ہوا بلکہ محبت کی شادی تھی بس وہ چھوٹی چھوٹی بات سے ناراض ہو جاتی تھیں ، میں ان کو مناتا تھا، بس پھر انہوں نے یہ اصرار کیا کہ اب میں اپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور انہوں نے جھوٹ بول کر عدالت سے خلع لے لی۔
1۔اب میرا سوال یہ ہے کہ اسلامی شریعت میں کیا شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت خلع دے سکتی ہے ؟اگر شوہر خلع پرراضی نہ ہو ورنہ ہی زبانی یا تحریری طور پر اس کی اجازت دے تو کیا عدالت کا یک طرفہ خلع دینا معتبر ہے؟
کیا اس طرح عدالت کی طرف سے دی گئی خلع سے نکاح ختم ہو جاتا ہے ؟یا نکاح برقرار رہتا ہے؟
2۔کیا اسلام میں عورت کو صرف اپنی خواہش کی بنیاد پر بغیر کسی معقول اور شرعی وجہ کے نکاح ختم کرنے کا حق دیا گیا ہے؟ اگر عدالت نے شوہر کے پیش کردہ شواہد اور ثبوتوں کے باوجود خلع کی ڈگری جاری کر دی ہو تو اس کے شرعی اثرات کیا ہوں گے؟ کیا یہ نافذ ہوگی ؟
3۔ اگر کوئی عورت اس طرح عدالت سے خلع حاصل کرنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح اور شادی کر لے تو کیا وہ نکاح شرعا صحیح ہوگا؟ یا ناجائز ہوگا ؟
واضح رہے کہ انسانی زندگی کے لیے نکاح ایک نہایت ضروری اور مقدس رشتہ ہے، یہ رشتہ باقی رکھنے اور زندگی بھر ساتھ نبھانے کے لیے قائم کیا جاتا ہے، توڑنے کے لیے نہیں کہ عام معاملات کی طرح جب چاہے باقی رکھے اور جب چاہے ختم کر دے، نکاح ایسا رشتہ ہرگز نہیں ہے، بلکہ شریعت مطہرہ کا اصل منشا اور حکم یہی ہے کہ اس نکاح کو قائم اور باقی رکھا جائے۔
1۔شرعا خلع کی صحت اور نفاذ کے لیے فریقین (میاں بیوی) کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، لہذا خلع شرعا معتبر ہونے کے لیے بیوی کی جانب سے اپنے مہر کے عوض خلع کا مطالبہ کرنا، اور شوہر کا اس مطالبے کو تسلیم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ شوہر کی رضامندی، اجازت اور قبولیت کے بغیر یک طرفہ بنیاد پر عدالت کی طرف سے دی گئی خلع شرعا معتبر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے نکاح ختم ہوتا ہے۔
اگر عورت نے عدالت میں شوہر کے خلاف کوئی دعوے یا الزامات پیش کیے ہیں، تو شرعی قانون کے مطابق عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے ان دعووں کو شرعی گواہوں کے ذریعے عدالت میں سچ ثابت کرے۔ اگر عورت اپنے الزامات کو گواہوں سے ثابت نہ کر سکے اور عدالت صرف اس کے یک طرفہ بیان حلفی کی بنیاد پر خلع یا تنسیخ کی ڈگری جاری کر دے، تو ایسے فیصلے سے شرعا نکاح ختم نہیں ہوتا۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی نے چونکہ سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر بذریعہ عدالت یک طرفہ خلع حاصل کی ہے، اور عدالت کی مکمل کارروائی میں سائل کے پیش کردہ شواہد کے برعکس صرف بیوی کے بیان حلفی پر اکتفا کیا گیا ہے، اس لیے شرعا یہ خلع واقع نہیں ہوا اور نہ ہی اس فیصلے کو شرعی فسخ نکاح قرار دیا جا سکتا ہے۔ سائل کی بیوی تاحال سائل ہی کے نکاح میں برقرار ہے، اور سائل بحیثیت شوہر تاحال اس پر اپنا شرعی حق رکھتا ہے۔
2۔ اسلام میں عورت کو صرف اپنی نفسانی خواہش یا بغیر کسی معقول اور شرعی وجہ کے نکاح ختم کرنے کا کوئی حق نہیں دیا گیا۔ اگر عدالت نے شوہر کے پیش کردہ شواہد اور عدم رضامندی کے باوجود خلع کی ڈگری جاری کر دی ہو، تو یہ شرعا نافذ نہیں ہوگی، کیونکہ شرعی ضابطوں کے بغیر دی جانے والی خلع سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔
3۔ چونکہ مذکورہ خاتون تاحال سائل ہی کے نکاح میں ہے اور اپنے پہلے شوہر کے عقد سے آزاد نہیں ہوئی، لہذا اس حالت میں اس خاتون کا کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا شرعا باطل ہوگا۔ جب تک سائل خود زبان یا تحریر سے اس عدالتی فیصلے کو قبول نہ کر لے، یا مستقل طور پر طلاق نہ دے دے، تب تک وہ خاتون کسی دوسری جگہ نکاح کرنے کے لیے آزاد نہیں ہے۔ اگر شوہر طلاق دے دے یا عدالتی خلع کو تسلیم کر لے، تو اس کے بعد خاتون پر عدت گزارنا لازم ہوگا اور عدت مکمل ہونے کے بعد ہی اس کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا حلال ہوگا۔
اس صورت حال میں دونوں خاندانوں کے بڑوں کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملات سلجھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اورمسائل حل کرانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"و أما ركنه فهو الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة و لا يستحق العوض بدون القبول الخ."
(کتاب الطلاق،باب الخلع، ج:3، ص: 154، ط : سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے :
"و أما ركنه فهو كما في البدائع : إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة و لا يستحق العوض بدون القبول الخ."
( کتاب الطلاق،باب الخلع ، ج: 3، ص:441، ط: سعید)
المبسوط للسرخسي میں ہے :
"و الخلع جائز عند " السلطان و غيره، لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود الخ"
(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج :6، ص:173، ط : مطبعة السعادۃ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101043
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن