بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جھوٹی قسم کا نکاح اور اسلام پر اثر


سوال

میرے اور میری بیوی کے درمیاں کچھ ایسے واقعات اور حوادثات رونما ہوئے جن کو کسی کے سامنے ذکر کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، جن کو کسی کے سامنے ذکر کرنا پورا خاندان کی بے عزتی ہے،میری بیوی نے ایسے واقعات کو باہر عورتوں کے ساتھ ذکر کیاتھا، مجھے بعد میں اس کا پتہ چلا، تو میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ آپ نجی واقعات کو باہر کی عورتوں کے ساتھ ذکر کیاہے، تو اس نے کلمہ طیبہ پڑھ کر قسم اٹھائی کہ میں قسم کھاتی ہوں کہ میں نے کسی کے سامنے یہ  ذکر نہیں کیا، اور کہا کہ قرآن پر ہاتھ رکھنے کے لیے تیار ہوں، تو میں خاموش ہوگیا، بعد میں اس نے اعتراف کیا کہ میں نے دوسری عورتوں کے ساتھ یہ باتیں ذکر کی تھیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اس طرح جھوٹی قسم اٹھانے سے نکاح تو نہیں ٹوٹا اور کیا اس طرح جھوٹی قسم اٹھانے سے دائرہ اسلام سے خارج تو نہیں ہوتا؟

نوٹ : میں اس کے بعد اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں کہ ”میں مکمل ہوش وحواس میں تمہیں تین شرائط کے ساتھ باقاعدہ تین طلاق دیتا ہوں“۔

واضح رہے کہ تین شرائط سے مراد  ایک ساتھ تین طلاقیں دینا ہے، کوئی اور شرط مراد نہیں۔

جواب

واضح رہے کہ   جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے ۔یہ اللہ تعالی کے نام کے بے حرمتی ہے اور ایسا شخص اپنے گناہ کے  اندر ڈوب جاتا ہے۔ حدیث شریف میں  اس پر سخت وعید آئی ہے، لیکن  جھوٹی قسم کھانے سے نہ نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے اور نہ ہی اسلام سے خارج ہوتا ہے۔ 

نیز سائل کے  مذکورہ جملہ  سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر سائل پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی، نکاح ختم ہو گیا، اب رجوع اور تجدید نکاح کی گنجائش نہیں۔

صحیح البخاری میں ہے:

"حدثنا محمد بن مقاتل: أخبرنا النضر: أخبرنا شعبة: حدثنا فراس قال: سمعت الشعبي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (الكبائر: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، ‌واليمين ‌الغموس)."

ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

"کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا، اور جھوٹی قسم کھانا (یعنی یمینِ  غموس)"

(کتاب الایمان والنذور،  باب:الیمین الغموس، ج:6، ص: 2457، ط:دار ابن کثیر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ".

(کتاب الطلاق ،فصل :حکم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100070

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں