بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جھوٹ بولنے پر فرشتوں کا ایک میل دور چلے جانے والی روایت کی تحقیق


سوال

إذا كذب العبد تباعد عنه الملك ميلا من نتن ما يخرج من فيه

اس روایت کی اسنادی حیثیت کیا ہے؟  اور کیا اس کو بیان کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

سوال میں مذکور روایت  سنن ترمذی، المعجم الاوسط  للطبرانی ،ودیگر  میں منقول ہے۔

سنن ترمذی میں ہے:

حدثنا يحيى بن موسى، قال: قلت لعبد الرحيم بن هارون الغساني: حدثكم عبد العزيز بن أبي رواد، عن نافع، عن ابن عمر، أن النبي صلى الله عليه وسلَّم قَال:" إِذَا كَذَبَ الْعَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْهُ الْمَلَكُ مِيلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِهِ "،قال يحيى: فأقرَّ به عبْد الرحيم بْنُ هارُونَ، فقَال: نعم، قال أبو عيسى: هذا حديث حسن غريب، لا نعرفه إلا من هَذَا الوجه، تَفرَّد به عبد الرَّحِيم بن هارون.

(سنن الترمذي، كتاب البر والصلة، باب ما جاء في الصدق والكذب، رقم الحديث:2088، رقم الصفحة:84/4، مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1430ه )

ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو (رحمت کے )فرشتے اس  جھوٹ کی بدبو  کی وجہ سے ایک میل دور تک چلے جاتے ہے"۔

المعجم الاوسط للطبرانی میں ہے:

عن ابن عمر، عن النّبي صلى الله عليه وآله وسلَّم، قَال: " إِذَا ‌كَذَبَ ‌الْعَبْدُ كَذِبَةً، تَبَاعَدَ مِنْهُ الْمَلَكُ مَسِيرَةَ مِيلٍ، مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِهِ".

(المعجم الأوسط للطبرانی،باب الميم، من إسمه محمد، رقم الحدیث:7398، رقم الصفحة: 245/7، دار الحرمين، القاهرة، 1415ه)

اس حدیث کی سند میں ایک راوی عبد الرحیم بن ہارون ہیں، جن کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل نے تضعیف نقل کی ہے:

"قال أبو حاتم : مجهول لا أعرفه،وقال الدارقطني : متروك الحديث، يكذب ، وذكره ابن حبّان في كتاب " الثقات " . وقال: يعتبر بحديثه إذا حدث عن الثقات من كتابه ، فإن فيما حدث من حفظه بعض المناكير."

(تهذيب الكمال في أسماء الرجال، جمال الدين أبو الحاج المزي، باب العين،مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى: 1422ه: 44/18)

ان  اقوال  کی روشنی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کی سند  محدثین کے نزدیک ضعیف درجے کی ہے، البتہ اس روایت کے معنوی شواہد  موجود ہیں، جن ميں جھوٹ کی مذمت اور اس کی برائی ذکر کی گئی ہے،  جن سے اس روایت کے مفہوم کو تقویت ملتی ہے۔ 

مسند احمد ميں هے:

أن عائشة قالت: مَا كَانَ خُلُقٌ أَبْغَضَ إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْكَذِبِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَكْذِبُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم الْكَذِبَةَ، فَمَا يَزَالُ فِي نَفْسِهِ عَلَيْهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ  قَدْ أَحْدَثَ مِنْهَا تَوْبَة.

(مسند الإمام أحمد، مسند النساء، مسند عائشة رضي الله عنها، رقم الحديث:25183، رقم الصفحة: 101/42، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى: 1421ه)

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہیں، فرماتی ہیں: کہ"  صحابہ کرام رضی اللہ عنھم  کے نزدیک جھوٹ سے زیادہ مبغوض کوئی خصلت نہ تھی، اورجب کوئی شخص  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھوٹ بولتا، تو جھوٹ سے نفرت کی وجہ سے جھوٹے سے اس وقت تک اعراض فرماتے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے" ۔

سنن ترمذی میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "عَليْكُمْ بالصِّدْقِ، فَإنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إلى البِرِّ، وإنَّ البِرَّ يَهْدِي إلى الجَنَّةِ، وما يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ ويتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّيقًا، وإِيَّاكُمْ والكَذِبَ، فإنَّ الكَذِبَ يَهْدِي إلى الفُجُورٍ، وإنَّ الفجور يَهْدِي إلى النّارٍ، وما يَزَالُ العَبْدُ يكذِبُ ويَتَحرَّى الكَذِبَ حَتَّى يكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا."

(سنن الترمذي، كتاب البر والصلة، باب ما جاء في الصدق والكذب، رقم الحديث:2087، رقم الصفحة:84/4، مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1430ه)

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سچ بولو، اس لیے کہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے، آدمی ہمیشہ سچ بولتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ گناہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور گناہ جہنم میں لے جاتا ہے، آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے"

مذکورہ تفصیل  سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال میں مذکور روایت اگرچہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، تاہم معنوی شواہد اور فضائل کے ابواب سے متعلق ہونے کی وجہ سے اس کو بیان کرنا درست ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100589

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں