بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رمضان 1442ھ 22 اپریل 2021 ء

دارالافتاء

 

جھینگے کھانے کا حکم


سوال

جھینگے کھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

 جھینگے  کی حلت اورحرمت  کی بنیاد اس بات پرہے کہ یہ مچھلی ہےیا نہیں؟  جولوگ اس کو مچھلی قراردیتے ہیں وہ اس کی حلت کے قائل ہیں،  اورجولوگ اس کو مچھلی قرارنہیں دیتے وہ اس کی حلت کے قائل نہیں ہیں۔ علمِ لغت اورعلمِ حیوانات کے ماہرین اس کو مچھلی قراردیتے ہیں اوراکثرعلماء کی رائے بھی یہی ہے، ہمارے دارالافتاء کا بھی یہی موقف ہے کہ جھینگا کھاناحلال ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203201509

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں