بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیاجھینگا کھاناحلال ہے۔


سوال

جھینگا مچھلی کھانا کیسا ہے ؟ بعض کہتے ہیں کہ جھینگا مکروہ ہے ،کیا جھینگا مچھلی کےسالن میں سے صرف شوربہ اور آلو وغیرہ کاکھانا ،جھینگا نہیں کھانا تو کیایہ  جھینگا کھانے جیسا ہی ہوگا ؟

جواب

جھینگےکی حلت اورحرمت کی بنیاد اس بات پرہے کہ یہ مچھلی ہےیا نہیں،  جولوگ اس کو مچھلی قراردیتے ہیں وہ اس کی حلت کے قائل ہیں اورجولوگ اس کو مچھلی قرارنہیں دیتے وہ اس کی حرمت کے قائل ہیں۔ہمارے دارالافتاء کے اکابرین کے نزدیک جھینگا مچھلی کی قسم ہے اور اس کا  کھاناحلال ہے۔

  تفصیل کے لیے ’’جواھر الفتاوی‘‘ جلد 3  ،( مولفہ :مفتی عبد السلام چاٹگامی صاحب ) ملاحظہ فرمائیں۔

باقی جھینگا کھانا ضروری  نہیں ہے، اگر کسی کو  طبعی طور پر اس سے  کراہت ہوتی ہےتو وہ نہ کھائے، اس  میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

 حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ امداد الفتاوی میں جھینگےکے بارے میں لکھتے ہیں :

"بہر حال احقر کو اس وقت اس کے سمک ہونے میں بالکل اطمینان ہے۔ "

(ج:  4، ص:104،ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی ) 

مفتی عبد السلام چاٹگامی صاحب رحمہ اللہ  مفصل تحقیق کے بعد  لکھتے ہیں :

"اس وجہ سے ہماری تحقیق اور رائے یہ ہے کہ جھینگا پہلے زمانے سے مچھلی تھی اور آج بھی مچھلی ہے اور پہلے زمانے میں اس کی حلت چلی آرہی ہے ۔"

(جواھر الفتاوی" جلد 3: ص: 603، ط: اسلامی کتب خانہ) 

تاج العروس میں ہے:

"الإربيان سمك بيض كالدود"

(ج: 7، ص: 143،ط: ليبيا)

القاموس المحيط ميں هے:

"الإربيان سمك كالدود"

(ج: 4، ص: 332، ط: مصر)

الصحاح میں ہے:

"الإربيان سمك من الأسماك"

(ج: 3، ص: 974، ط: مصر)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100002

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں