
میرے بیٹے کا اپنی بیوی سےجھگڑا ہوا، دوران جھگڑا بیٹے نے غصے میں یہ جملہ کہا کہ”میں نے تجھے طلاق دی“یہ صرف ڈرانا تھا، اس کے بعد وہ غصہ میں نچلی منزل میں گیاتو دوسرے بیٹےنے اس کو ہاتھ سے پکڑاتو اس نے کہا کہ”میں نے اس کو دے دی ہے، بولو جائے!“، یہاں بھی طلاق کا ارادہ نہیں تھا، بیٹے کا کہنا ہے کہ صرف ڈرانے کے لئے میں نے یہ کہا تھا، نیز بیوی نے صرف پہلے والے الفاظ سنے ہیں، بیٹا آئس کا نشہ کرتا ہے، ہر وقت نشہ میں رہتا ہے، سوال یہ ہے کہ اس تمام صورتحال میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں اگر واقع ہوئی ہے تو کتنی ہوئی ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے بیٹے نےاپنی بیوی کو جھگڑے کے دوران یہ جملہ”میں نے تجھے طلاق دی“ کہا اور پھراس کے بعد اپنے بھائی کو یہ کہنا کہ”میں نے اس کو دے دی ہے، بولو جائے!“پہلے جملے کی خبر دینے کے لیے تھاتو اس سے سائل کے بیٹے کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہے، اس طلاق کے بعد عدت یعنی مکمل تین ماہواریاں( اگر حمل نہ ہو، حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک) گزرنے سے پہلے تک سائل کے بیٹے کو رجوع کرنے کا اختیار ہے، اگر سائل کے بیٹےنےعدت گزرنے سے پہلے رجوع کرلیا تو نکاح برقرار رہے گا،عدت کے اندر رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی کو زبان سے کہہ دے کہ میں نے رجوع کرلیا،اس سے قولی طور پر رجوع ہوجائے گا،اور اگر زبان سے کچھ نہ کہے بلکہ بیوی سے تعلق قائم کرلے یاخواہش و رغبت سے اسے چھوئے یابوسہ لے لے اس سے بھی رجوع ہوجائے گا۔حاصل یہ ہے کہ قولاً یاعملاً رجوع کرلیناکافی ہے، البتہ قولی رجوع کرنا اوراس پر گواہان قائم کرنا مستحب ہے،لیکن اگرسائل کے بیٹےنے عدت گزرنے سے پہلے رجوع نہیں کیا تو عدت کی مدت پوری ہوتے ہی نکاح ختم ہو جائے گا پھر رجوع کرنا جائز نہیں ہوگا،تاہم عدت گزرنے کے بعد اگر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نئے سرے سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب وقبول کے ساتھ نکاح کرنا ہو گا، اور دونوں صورتوں میں آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔
فتاو ی عالمگیری میں ہے:
"و هو كأنت طالق و مطلقة و طلقتك و تقع واحدة رجعية و إن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئًا، كذا في الكنز."
(كتاب الطلاق، الباب الثانی فی ایقاع الطلاق، ج:1، ص:354، ط:دارالفکر بیروت)
وفیه ایضا:
"ولو قال لامرأته أنت طالق فقال له رجل ما قلت فقال طلقتها أو قال قلت هي طالق فهي واحدة في القضاء كذا في البدائع"
(كتاب الطلاق، الباب الثانی فی ایقاع الطلاق، ج:1، ص:355، ط:دارالفکر بیروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس.
(قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل... (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائماً قبل انقضائها. اهـ. ... (قوله: كمس) أي بشهوة، كما في المنح."
(کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:3، ص:398/397، ط:سعید)
وفیه ایضا:
"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب."
(کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:3، ص:409، ط:سعید)
فتح القدیر میں ہے:
"إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض… والرجعة أن يقول: راجعتك أو راجعت امرأتي أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها شهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة…. ويستحب أن يشهد على الرجعة شاهدين فإن لم يشهد صحت الرجعة."
(کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:4، ص:161/159/158، ط:دار الفکر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد ، فأما زوال الملك ، و حل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا."
(كتاب الطلاق، فصل في بيان حكم الطلاق، ج:3، ص:180، ط:دارالکتب العلمیة بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101885
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن