بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 محرم 1448ھ 07 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

جدہ کا رہائشی مدینہ جاکر وہاں سے بغیر احرام حرم جانے کا حکم


سوال

 میری صورتِ حال یہ ہے کہ میں جدہ کا رہائشی ہوں، یعنی حلی ہوں، میں جدہ سے مدینہ منورہ زیارت کے لیے گیا، اور میری نیت صرف زیارتِ مسجدِ نبوی ﷺ اور روضہ رسول ﷺ کی تھی اور واپسی پر مکہ مسجد الحرام سے ہوتے ہوئے جدہ اپنے گھر آنے کی تھی عمرہ کا کوئی ارادہ نہ تھا، مدینہ سے مکہ آتے وقت ہم میقاتِ آبیار علی پر رکے، وہاں میرے والد صاحب نے احرام باندھا، عمرہ کی نیت کی اور عمرہ ادا کیا، میں، میری والدہ اور بیوی کا عمرہ کا ارادہ نہیں تھا سو ہم نے نہ احرام باندھا، نہ عمرہ کی نیت کی، نہ ہی عمرہ کیا۔ ہم تینوں کا صرف نفلی طواف کا ارادہ تھا۔ میری والدہ اور بیوی نے صرف نفلی طواف کیا۔ میرے ساتھ دس سال سے کم عمر کے بچے بھی تھے۔ میں نے میقات سے مکہ داخل ہونے کے بعد صرف مسجد حرام میں نمازیں ادا کیں اور نفلی طواف نہیں کیا، والد صاحب کے عمرہ اور والدہ محترمہ اور بیوی کے نفلی طواف کے بعد ہم سب واپس جدہ آگئے۔

میرا سوال1. غیر مرید للنسک شخص کا میقات پر رک کر بغیر احرام کے حرم میں داخل ہو کر صرف نمازیں پڑھنا اور نفلی طواف کرنا، کیا اس پر دم لازم ہے؟

2. کیا مندرجہ ذیل عبارتیں اور حدیث میری صورت پر منطبق ہوتی ہیں؟ الف: عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: وقت رسول الله ﷺ لأهل المدينة ذا الحليفة، ولأهل الشام الجحفة، ولأهل نجد قرن المنازل، ولأهل اليمن يلملم، فهن لهن ولمن أتى عليهن من غير أهلهن لمن كان يريد الحج والعمرة، فمن كان دون ذلك فمهله من أهله، وكذا حتى أهل مكة يهلون منها، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے جحفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل، اور یمن والوں کے لیے یلملم میقات مقرر فرمایا، یہ میقاتیں ان کے لیے ہیں اور ان کے لیے بھی جو ان سے گزرے، بشرطیکہ وہ حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں اور جو ان میقاتوں سے اندر رہتا ہو، اس کا میقات اس کا گھر ہی ہے، یہاں تک کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں۔

ب: الفتاوی الهندیة 1/220، ومن مر بالميقات غير مريد للنسك لم يلزمه الإحرام اور جو شخص میقات سے گزرے اور اس کا نسک کا ارادہ نہ ہو تو اس پر احرام لازم نہیں ہے۔

ج:ردالمختار 2/461،ومن مر بالميقات غير مريد للنسك لم يلزمه الإحرام، ولو دخل مكة بلا إحرام وصلى وطاف جاز، ولا دم عليه اور جو شخص میقات سے گزرے اور اس کا نسک کا ارادہ نہ ہو تو اس پر احرام لازم نہیں ہے، اور اگر وہ بغیر احرام کے مکہ داخل ہو اور نماز پڑھے اور طواف کرے تو جائز ہے، اور اس پر کوئی دم نہیں ہے۔ براہِ کرم کتاب و سنت کے مطابق کوئی واضح جواب عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب

آپ کے اس سوال کا جواب فتوی نمبر :144711100116 ميں ديا جا چكا ہے ،حدیث کے علاوہ دیگر جوحوالہ جات آپ نے ذکر کیےہیں ،  وہ حوالہ جات  اصل کتاب میں موجود نہیں ہیں،باقی مذکورہ حدیث شوافع کا مستدل ہے ،جب کہ احناف کے  نزدیک اگر کوئی شخص کسی بھی نیت سے حرم جانے کا ارادہ رکھتا ہو تو اس پر میقات سے احرام باندھنا لاز م ہے ،بغیر احرام جانے کی صورت میں اس پر دم لازم ہوگا ، احناف کامستدل فقہی نصوص کے ساتھ ساتھ  درج ذیل روایات ہیں  :

"وبهذا الإسناد قال: أخبرنا ابن عيينة، عن عمرو، عن أبي الشعثاء: أنه رأى ابن عباس يرد من جاوز الميقات غير محرم۔۔۔۔۔۔عن ابن عباس قال: إذا ‌جاوز ‌الوقت ‌فلم ‌يحرم، فإن خشي أن يرجع إلى الوقت فإنه يحرم، وأهرق لذلك دما."

(معرفة السنن والآثار،‌‌ ‌‌باب من أمر بالميقات من أهله أو كان دونه، ج:7، ص:100، ط:جامعة الدراسات الإسلامية)

  احناف کے دلائل ایسی روایات پر مشتمل ہیں جن میں مطلوبہ حکم صریح الفاظ (منطوق) کے ساتھ مذکور ہے، جب کہ شوافع حدیث کے مفہوم مخالف سے استدلال کرتے ہیں  اور  اصولِ فقہ کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جب منطوق اور مفہومِ مخالف میں تعارض ہو تو منطوق کو ترجیح دی جاتی ہے، کیونکہ منطوق کی دلالت مفہوم کی دلالت سے زیادہ قوی اور واضح ہوتی ہے، نیز میقات سے احرام باندھنے کا حکم کعبۃ اللہ کی تعظیم کی وجہ سے ہے، لہذا چاہے حج و عمرہ کی نیت سے جائیں یا کسی اور مقصد سے ،سب کے لیے حکم یکساں ہونا چاہیے ،لہٰذا  احناف کا موقف زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے۔

بذل المجہود میں ہے :

"(ممن كان يريد الحج والعمرة) قال الشوكاني (1): وقد اختلف في جواز المجاوزة لغير عذر، فمنعه الجمهور، وقالوا: لا يجوز إلا بإحرام، من غير فرق بين من دخل لأحد النسكين أو لغيرهما، ومن فعل أثم، ولزمه دم. وروي عن ابن عمر - رضي الله عنه -، والناصر- وهو الأخير من قولي الشافعي، واحد قولي ابن عباس : أنه لا يجب الإحرام إلا على من دخل لأحد النسكين، لا على من أراد مجرد الدخول، انتهى.

استدل الأولون بحديث رواه ابن أبي شيبة في "مصنفه"، والطبراني في "معجمه"، واللفظ لابن أبي شيبة: عن ابن عباس أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "لا تجاوز الوقت إلا بإحرام".

وروى الشافعي في "مسنده": أخبرنا ابن عيينة عن عمرو، عن أبي الشعثاء أنه رأى ابن عباس يرد من جاوز الميقات غير محرم. ومن طريق الشافعي رواه البيهقي في "المعرفة" .

ورواه ابن أبي شيبة في "مصنفه": حدثنا وكيع، عن سفيان، عن حبيب بن أبي ثابت، عن ابن عباس، فذكره، حدثنا ابن علية، عن أيوب، عن عمرو بن دينار، عن جابر، نحوه، وكان جابر هذا أبو الشعثاء وروى إسحاق بن راهويه في "مسنده": أخبرنا فضيل بن عياض، عن ليث بن أبي سليم، عن عطاء، عن ابن عباس قال: إذا جاوز الوقت فلم يحرم حتى دخل مكة رجع إلى الوقت فأحرم، فإن خشي إن رجع إلى الوقت فإنه يحرم ويهريق لذلك دما.

فهذه المنطوقات أولى من المفهوم المخالف في قوله: "ممن أراد الحج والعمرة" إن ثبت أنه من كلامه عليه السلام دون كلام الراوي."

(كتاب المناسك، باب في المواقيت، ج:7، ص:39، ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)

فتح القدیر میں ہے :

"قوله لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا يجاوز أحد الميقات إلا محرما» ) روى ابن أبي شيبة في مصنفه: حدثنا عبد السلام بن حرب عن خصيف عن سعيد بن جبير عن ابن عباس - رضي الله عنهما - أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال «لا يجاوز الوقت إلا بإحرام» وكذلك رواه الطبراني.

وروى الشافعي في مسنده: أخبرنا ابن عيينة عن عمرو عن أبي الشعثاء أنه رأى ابن عباس - رضي الله عنهما - يرد من جاوز الميقات غير محرم، ورواه ابن أبي شيبة في مصنفه: حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن ابن عباس - رضي الله عنهما - فذكره. وروى إسحاق بن راهويه في مسنده: أخبرنا فضيل بن عياض عن ليث بن أبي سليم عن عطاء عن ابن عباس - رضي الله عنهما - قال إذا جاوز الوقت فلم يحرم حتى دخل مكة رجع إلى الوقت فأحرم، وإن خشي إن رجع إلى الوقت فإنه يحرم ويهريق لذلك دمافهذه المنطوقات أولى من المفهوم المخالف في قوله ممن أراد الحج والعمرة إن ثبت أنه من كلامه - عليه الصلاة والسلام - دون كلام الراوي۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(قوله ولأن وجوب الإحرام لتعظيم هذه البقعة) يعني وجوب الإحرام من الميقات المتقدم على البقعة لتعظيم البقعة على ما قدمنا في أول الفصل."

(كتاب الحج، ج:2، ص:426، ط:دارالفكر)

فیض الباری میں ہے :

"قوله: (ممن أراد الحج والعمرة) تمسك به الشافعية على أن الإحرام إنما يجب على من دخل مكة معتمرا أو حاجا، أما من لم يردهما، بل أراد التجارة أو غيرها، فليس عليه إحرام. ويجب عليه الإحرام عندنا مطلقا، لأنه لتعظيم البقعة المباركة، فيستوي فيه الحاج وغيره، فكان الإحرام عندنا لازم لمن دخلها. وأما عند الشافعية فموقوف على إرادته إحدى العبادتين."

(كتاب الحج، باب مهل أهل مكة للحج والعمرة، ج:3، ص:174، ط:دارالكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101188

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں