بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جاز کیش اکاؤنٹ کے ذریعہ لوگوں کے لیے رقم بھیجنا اور اکاونٹ میں آئی ہوئی رقم کے بدلہ کیش دینا اور اجرت لینے کا حکم


سوال

میں جاز کیش اور ایزی پیسہ کا کام کرتا ہوں کمپنی کا ایجنٹ نہیں ہوں، مجھے کمپنی کی طرف سے ایک پیسہ بھی نہیں ملتا۔ میں کسٹمر کو بتا کر کہ:

۱) ایک ہزار روپے نکالنے کے بیس روپے چارجز لیتا ہوں۔

۲)  ایک ہزار بھیجنے کے دس روپے چارجز لیتا ہوں اب آیا کہ یہ میرے لیے جائز ہیں یا ناجائز؟

جواب

صورت مسئولہ میں لوگوں کی رقوم اپنے اکاؤنٹ میں  وصول کرکے نقد کی صورت میں ادائیگی کرنا(پہلی صورت)  یا نقد کی صورت میں رقم لے کر مطلوبہ اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنا ( دوسری صورت) اصالۃ قرض لینا اور قرض کی ادائیگی کا معاملہ ہے کیونکہ جب سائل لوگوں سے اکاؤنٹ میں رقم وصول کرتا ہے یا پھر نقد ی وصول کرتا ہے  تو وہ اس شخص کا مقروض بن جاتا ہے پھر پہلی صورت میں  اسے نقدی دے کر اور دوسری صورت میں مطلوبہ اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرکے اس قرض کی ادائیگی کرتا ہے ، لہذا اس عمل پر اجرت لینا شرعا جائز نہیں ہے کیونکہ قرض لینا اور اس کا واپس کرنا ایسی منفعت نہیں ہے جس پر اجرت لینا جائز ہو۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس."

(کتاب الاجارۃ، فصل فی انواع شرائط رکن الاجارۃ،ج:4،ص:192، دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101140

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں