بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اور جیز کیش کے ذریعے رقوم کی منتقلی کی شرعی حیثیت


سوال

جاز  کیش یا ایزی پیسہ سے ہم بینک اکاؤنٹ میں کسی کو پیسے بھیجتے  ہیں،تو اس کی شرعی حیثیت  کیا ہے؟

جواب

جاز کیش یا ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے کسی بینک اکاؤنٹ میں رقوم کی ترسیل جائز ہے،البتہ ترسیل زر پر الگ سے اضافی رقم لینا جائز نہیں،ہاں ترسیل زر پر جاز کیش یا ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے اگر ٹیکس یا سروس چارجز کٹتے ہوں،تو وہ رقم منتقل کروانے والے سے الگ سے وصول کی جاسکتی ہے۔

جیسا کہ فتاویٰ شامی میں ہے:

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام ... (ولا يستحق المشترك الأجر ‌حتى يعمل كالقصار ونحوه) كفتال وحمال ودلال وملاح."

(كتاب الإجارة، ‌‌باب الإجارة الفاسدة، مطلب في أجرة الدلال، ج: 6، ص: 63 - 64، ط: ایچ ایم سعيد)

مجمع  الضمانات میں ہے:

"الأجير على نوعين: أجير مشترك ... فالأجير المشترك هو الذي ‌يستحق ‌الأجرة ‌بالعمل لا بتسليم النفس كالقصار والصباغ."

(باب مسائل الإجارة، القسم الثاني في الأجير،‌‌ المقدمة في الكلام على الأجير المشترك والأجير الخاص، ص: 27، ط: دارالكتاب الإسلامي)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"وأما شرائط الصحة ‌فمنها ‌رضا ‌المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا ... ومنها أن تكون الأجرة معلومة."

(کتاب الاجارۃ، الباب الأول فی تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها، ج: 4، ص: 411، ط: دار الفکر)

وفیه أیضاً:

"ونوع ‌يرد ‌على ‌العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة وما أشبه ذلك، كذا في المحيط."

(كتاب الإجارة،‌‌ الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها، ج: 4، ص: 409، ط: رشیدیة)

وفیه أیضاً:

"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد ‌بغير ‌سبب شرعي."

(كتاب الحدود، الباب السابع في حد القذف والتعزير،‌‌ فصل في التعزير، ج: 2، ص: 167، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707101201

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں