
چودہ اگست کے دن عام طور پر لوگ بہت زیاداہ فضول خرچی کرتے ہیں اور خرافات میں مبتلا ہوتے ہیں، میں جس مدرسہ میں پڑھائی کرتی ہوں اس میں اسکول بھی ہے اور چودہ اگست منایا جاتا ہے، با لکل عام اسکول کی طرح اور اس میں سب شرکت کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا چودہ اگست منانا، جائز ہے ؟ اس میں شرکت کرنا درست ہے ؟
واضح رہے کہ آزادی یقیناً ایک نعمت ہے، اور کسی نعمت کے حصول پر خوشی ومسرت کا اظہار کرنا شرعی حدود و قیود میں رہتے ہوئے جائزہے، مسلمانوں کے ہاں خوشی عاجزی اور بندگی کی صورت میں ادا کی جاتی ہے، جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ کے موقع پر انتہائی تواضع اختیار فرماکر اُمت کی تربیت فرمائی، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اور آپ نے اہل مدینہ کو تہوار مناتے دیکھا، تو اس کے متبادل خوشی کے دو دن مقرر فرمائے: عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر، جن میں خوشی منانے کا پاکیزہ انداز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو تعلیم فرمادیاہے۔ جب کہ آتش بازی ، چراغاں اور دیگر واہیات کے ذریعے جشن منانا دیگر اقوام کا طریقہ ہے۔
مذکورہ دونوں معیاروں کو سامنے رکھ کر عاجزی وبندگی کے ساتھ اسلامی حدود میں رہتے ہوئے خوشی کا اظہار کرنا درست ہوگا، اور غیروں کے طریقے کے مطابق مذکورہ افعال کا ارتکاب کرکے جشن مناناشرعاً درست نہیں ہوگا۔
لہذا خوشی کے موقع پر بھی ناچ گانا،موسیقی،اسراف، نیز جشن کے نام پر مرد عورت کا اختلاط شرعاً جائز نہیں ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں گر مذکورہ ناجائز امور میں سے کوئی عمل پایا جائے، تو ایسی تقریب میں شرکت کرنا جائز نہیں ہوگی اور شرعی حدود و قیود میں رہ کر تقریب منعقد کی جائے تو شرکت جائز ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے :
"ومن يستحل الرقص قالوا بكفره ... ولا سيما بالدف يلهو ويزمز." (قوله: ومن يستحل الرقص قالوا بكفره) المراد به التمايل والخفض والرفع بحركات موزونة كما يفعله بعض من ينتسب إلى التصوف.
وقد نقل في البزازية عن القرطبي إجماع الأئمة على حرمة هذا الغناء وضرب القضيب والرقص. قال ورأيت فتوى شيخ الإسلام جلال الملة والدين الكرماني أن مستحل هذا الرقص كافر، وتمامه في شرح الوهبانية. ونقل في نور العين عن التمهيد أنه فاسق لا كافر".
(کتاب الجھاد،مطلب المعصیة تبقی بعد الردة، ج : 4 ص : 259، ط : سعید)
و فیہ ایضاً:
"وفي السراج: ودلت المسألة أن الملاهي كلها حرام ويدخل عليهم بلا إذنهم لإنكار المنكر، قال ابن مسعود: صوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية: استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه عليه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه» وأشعار العرب لو فيها ذكر الفسق تكره اهـ أو لتغليظ الذنب كما في الاختيار أو للاستحلال كما في النهاية. [فائدة]"
(کتاب الحظر و الإباحة،ج : 6 ص : 348، ط : سعید)
روح المعانی میں ہے:
"ولهو الحديث على ما روي عن الحسن كل ما شغلك عن عبادة الله تعالى وذكره من السمر والأضاحيك والخرافات والغناء ونحوها."
(سورۃ لقمان،ج : 11 ص : 66 ط: دار الکتب العلمیة)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «من تشبه بقوم فهو منهم» " رواه أحمد، وأبو داود. (من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب."
(كتاب اللباس، الفصل الثاني ،ج : 8 ص 222، ط: مكتبة حنفية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100416
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن