بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جانوروں کو مختلف ادویات اور ٹیکے لگانے کا حکم


سوال

میں چھوٹے پیمانے پر ایک ڈیری اور کیٹل فارم چلاتا ہوں، جہاں گائیں اور بھینسیں دودھ کے لیے اور قربانی کے لیے دونوں مقاصد سے پالی جاتی ہیں، حال ہی میں مجھے کچھ ٹیکوں یا امپلانٹس کے بارے میں معلومات ملی ہیں جیسےSynovex H, Revalor H, اورRalgro، جو بعض ممالک میں جانوروں کی خوراک میں رغبت بڑھانے، وزن میں اضافہ کرنے، اور دودھ کی پیداوار میں بہتری کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

میری معلومات کے مطابق، پاکستان کی سپریم کورٹ نے دودھ دینے والے جانوروں میں ہارمون کے انجکشنز کے استعمال پر پابندی لگا رکھی ہے، لیکن دودھ نہ دینے والے جانوروں، اور  خصوصاً قربانی کے لیے پالے جانے والے جانوروں میں ان کے استعمال کے بارے میں واضح رہنمائی موجود نہیں۔

اسی پس منظر میں، میں درج ذیل سوالات کے بارے میں آپ کی شرعی رہنمائی چاہتا ہوں:

1.کیا شرعی لحاظ سے ایسے ہارمون والے ٹیکے یا امپلانٹس (جیسےSynovex H, Revalor H, Ralgro) دودھ نہ دینے والے جانوروں (جو قربانی کے لیے پالے جا رہے ہوں) کو اس نیت سے لگانا جائز ہے کہ ان کی خوراک بہتر ہو جائے، وزن مناسب بڑھے، اور وہ تندرست حالت تک پہنچ جائیں؟

2.بعض اوقات کچھ جانور صحیح طرح سے نہیں بڑھتے یا کمزور رہ جاتے ہیں، اور چونکہ وہ بول نہیں سکتے، اس لیے ہمیں ان کی اصل تکلیف معلوم نہیں ہوتی،  تو کیا ان صورتوں میں ان کو معتدل مقدار میں ایسے ٹیکے دینا جائز ہوگا تاکہ وہ اپنی قدرتی حالت یا صحت دوبارہ حاصل کر سکیں  نہ کہ ان کا وزن ضرورت سے زیادہ بڑھایا جائے؟

3.بعض ذرائع کے مطابق، ایسے ٹیکوں یا امپلانٹس کا اثر کچھ عرصے بعد ختم ہو جاتا ہے یا گوشت میں بہت معمولی حد تک اثر باقی رہتا ہے، اگر ان کا استعمال اعتدال کے ساتھ کیا جائے اور رمضان یا عیدالاضحی سے کافی پہلے روک دیا جائے، تو کیا ان جانوروں کی قربانی یا گوشت کھانا جائز ہوگا؟

4.پاکستان میں ان ٹیکوں کے بارے میں حکومتی یا شرعی سطح پر کوئی واضح ہدایت یا اجازت موجود نہیں، تو کیا بہتر یہ ہوگا کہ احتیاط (اِحتیاطاً پرہیز) کے طور پر ان کا استعمال بالکل ترک کر دیا جائے؟

میں یہ تمام سوالات صرف اس نیت سے پوچھ رہا ہوں کہ ہمارا فارم شرعی اصولوں اور اخلاقی معیارات کے عین مطابق رہے۔

جواب

2،1-  صورتِ مسئولہ  میں  جانوروں کو مزید تندرست کرنے اور ان کے  علاج کے لیے انجیکشن اور امپلانٹس کا استعمال کرنا  جائز ہے بشرطیکہ مذکورہ انجیکشن اور امپلانٹس ایسے ہوں  کہ وہ حلال اجزاء پر مشتمل ہوں، کوئی حرام چیز ان کا جزء نہ ہو، ان کے استعمال پر حکومتی سطح پر پابندی  نہ ہو، جانوروں کے ماہرین کے نزدیک جانوروں کے لیے مضرِ  صحت  نہ ہوں، اور ان کے استعمال کی وجہ سے انسانوں کی صحت پر کوئی مضر اثربھی  نہیں پڑتا ہو ۔

3- ایسے جانوروں کی قربانی جائز ہے اور ان کا گوشت کھانا بھی جائز ہے۔

4- ایسے ٹیکوں کا استعمال جن سے متعلق حکومت کی جانب سے پابندی ہونے یانہ ہونے کی وضاحت نہیں، تو سائل لگاسکتا ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة  أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني."

(كتاب الإيمان، باب قول النبي ﷺ:من غشنا فلیس منا، ج:1، ص:69، ط:دار الطباعة العامرة)

فتاوی شامی میں ہے:

"جواز خصاء البهائم بالمنفعة وهي إرادة سمنها أو منعها عن العض ... لا بأس بكي البهائم للعلامة."

(كتاب الحضر و الإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:388، ط:سعيد)

احکام القرآن لظفر احمد عثمانی   میں ہے:

"طاعة الأمير فيما لا يخالف الشرع" 

"مسئلة : و هذا الحكم أى وجوب طاعة الأمير مختص بما لم يخالف أمره الشرع، يدل عليه سياق الآية ، فإن الله تعالى أمر الناس بطاعة أولى الأمر بعد ما أمر هم بالعدل في الحكم تنبيهاً على أن طاعتهم واجبة ما داموا على العدل."

(تفسير سورة النساء، الآية: 59، ج: 2، ص: 292، ط:ادارة القرآن والعلوم الاسلامية)

موسوعۃ الفقہ الاسلامی میں ہے:

"حكم الأطعمة: الأصل في جميع الأطعمة الحل إلا النجس، والضار، والخبيث، والمسكر، والمخدر، وملك الغير.فالنجس كله خبيث وضار، فهو محرم."

(الباب الثالث عشر، كتاب الأطعمة والأشربة، باب الأطعمة، ج:4، ص:283، ط:بیت الأفکار الدولیة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101235

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں