
جامعہ کے فتویٰ نمبر 144605102081 سے متعلق ایک اور راہنمائی چاہیے کہ بچوں کے حلال بسکٹ اور میٹھی چیزیں ان کو راغب کرنے کے لیے کارٹون ، جانوروں کی شکل کی ہوتی ہیں اور ان چیزوں پر کوئی تصویر نقش نہیں ہوتی ہے، کیا ان کو کھانا بھی صحیح ہے؟
کھانے پینے کی وہ اشیاء جو جانوروں کی شکل کی ہوں اور ان پر تصویر نقش نہ ہوں تو خریداری سے مقصودان اشیاء کی خریداری ہوتی ہے ،تصاویر کی نہیں،لہذا خریدنے والا گناہ گارنہیں ہوگا، بلکہ بنانے والے ہوں گے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ حلال بسکٹ اور میٹھی چیزیں اگر حلال اجزاء سے تیارکردہ ہیں اورمضرصحت نہیں توایسی چیزیں کھانا جائز ہے ۔البتہ اس طرح کی اشیاء کے کثرتِ استعمال کی وجہ سے عام لوگوں کی دلوں سے اس کی قباحت اور شناعت کم ہوسکتی ہے، نیز اس کے استعمال میں اس کے بنانے والے کی حوصلہ افزائی بھی ہے، جب کہ اس کی حوصلہ شکنی ضروری ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسی اشیاء کے استعمال سے اجتناب کیا جائے۔
شرح السیر الکبیر میں ہے:
"ألا ترى أن المسلمين يتبايعون بدراهم الأعاجم فيها التماثيل بالتيجان، ولا يمتنع أحد عن المعاملة بذلك. وإنما يكره هذا فيما يلبس أو يعبد من دون الله من الصليب ونحوها.
وحكم هذه الأشياء كحكم ما لو أصابوا برابط وغيرها من المعازف. فهناك ينبغي له أن يكسرها ثم يبيعها أو يقسمها حطبا. قال: إلا أن يبيعها قبل أن يكسرها ممن هو ثقة من المسلمين يعلم أنه يرغب فيها للحطب لا للاستعمال على وجه لا يحل، فحينئذ لا بأس بذلك.لأنه مال منتفع به. فيجوز بيعه للانتفاع به بطريق مباح شرعا."
(أبواب سهمان الخيل والرجالة في الغنائم، باب ما يحمل عليه الفيء وما يجوز فعله بالغنائم في دار الحرب، ص: 1051، ط: الشركة الشرقية)
فیض الباری میں ہے:
"قلتُ: إن المصنف، وإن لم يتضح له سبيل التوفيق، لكني أقول: إن عائشة لما قالت له: «إني اشتريتها لتجلس عليها»، انتقل النبيُّ صلى الله عليه وسلّم من مؤلة التصاوير إلى مسألة عمر التصوير، وذلك لأنه لو سكت عليه لجاز أن يَتوهم أحدٌ أن تلك التصاوير إذا كانت جائزة، فلعله يجوز عملها أيضاً، ولا ريب أنه ينبغي للنبيِّ أن يزيح مثل هذه الأوهام، لئلاتفضي إلى الأغلاط، فنبَّه على أن تلك التصاوير وإن جازت لامتهانها، لكنَّ عملَها حرام، كما إذا لم تكن مُمتنهة.ألا ترى إلى قوله: «إن أصحاب هذه الصور»... إلخ، فلم يقل في التصاوير شيئاً، ولكنه ذكر الوعيدَ فيمن صورها. أما قوله: «و أن الملائكة لاتدخل بيتاً فيه الصور»، فليس حكماً على تلك التصاوير المعينة، بل حكماً على جنسها، وإن لم يتحقق في هذا الفرد."
(باب من كره القعود، ج:5، ص:112، ط.دارالكتب العلمية)
جواہر الفقہ میں ہے:
"بچوں کی گڑیا:
مسئلہ: - مٹی کی تصویریں یا ایسی مورتیاں جو باقی رہنے والی نہیں، اسی طرح مٹھائی یا دوسری کھانے کی چیزیں اگر بشکل تصویر بنائی گئی ہوں تو ان کا استعمال اور خرید و فروخت بھی بچوں کے عام کھلونے اور گڑیوں کی طرح جائز ہوگا یا نہیں؟ کتب حنفیہ میں اس کے متعلق کوئی تصریح نہیں، اور بلوغ القصد والمرام میں فتح الباری سے اس بارہ میں اختلاف اقوال نقل کرنے کے بعد عدم جواز کی ترجیح نقل کی ہے، اس لئے یہ سب تصویر یں نا جائز الاستعمال ہیں( بلوغ القصد ص: 19)
مسئلہ:- اور عہود محمد یہ میں ہے کہ بچوں کو اس کی اجازت نہ دینی چاہئے کہ وہ کھانے کی چیزیں بشکل تصویر بنائیں یا مختلف رنگ کے مصور نقشے خریدیں بلکہ جس کو حق تعالی وسعت عطا فرمائیں اُس کے لئے مناسب ہے کہ مٹھائی وغیرہ کے جو کھلونے بازاروں میں فروخت ہوتے ہیں اُن کو خرید کر توڑ دے اور لوگوں کوکھلا دے۔( از بلوغ القصد والمرام ص: 22)"
(تصویر کے شرعی احکام ، بچوں کی گڑیا، ج:7،ص:260،ط:دارالعلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144606100853
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن