
میری زمین پر میں نے گائے،بکریوں وغیرہ کے لیے سبز چارہ (پھل، گھاس وغیرہ)اگایا ہے۔ اس کا زیادہ تر حصہ تو میں اپنے جانوروں کے کھانے کے لیے استعمال کرتا ہوں، لیکن کبھی کبھار اس میں سے کچھ حصہ فروخت بھی کر لیتا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ: 1. کیا اس چارے پر عشر واجب ہوگا؟ 2. اگر وہ زمین بارش کے پانی سے سیراب ہویا ٹیوب ویل سے، تو کیا حکم مختلف ہوگا؟ 3. اگر اس فصل سے حاصل شدہ آمدنی بہت کم ہو تو بھی عشر دینا ضروری ہوگا؟ 4. ایسی زمین جس پر صرف جانوروں کے لیے گھاس اگائی جائے، اور کچھ بھی نہ بیچا جائے، کیا اس پر بھی عشر لازم ہے؟
واضح رہے کہ زمین کی ہر اس پیداوار میں عشر واجب ہے جو مقصود ہو ،خواہ وہ تھوڑی ہو یازیادہ،فروخت کرنے کے لیے اگائی جائے یا گھریلو استعمال کے لیے اگائی جائے۔
1۔4۔ صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی زمین میں جو پھل یا گھاس وغیرہ اگائی ہے ان میں عشر واجب ہے خواہ وہ خود استعمال کرے، جانوروں کے لیے بطور چارہ استعمال کرے یا فروخت کرے۔البتہ چارہ کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر چارہ مقصودی طور پر اگایا جائےاور دیگر پیداوار کی طرح اس کی حفاظت کی جائے اوردوسروں کو اس کے استعمال سے منع کیا جائے تو اس میں بھی عشر واجب ہوگا، اور اگر چارہ خود مقصود نہ ہو، بلکہ دیگر پیداوار کے ساتھ ضمنی طور پر خود اُ گ جائے تو ایسی صورت میں اس پر عشر واجب نہیں ہو گا،نیزفروخت کرے یا نہ کرے دونوں صورتوں میں یہی حکم ہے۔
2۔3۔اگر عشری زمین کو سارا سال یا سال کا اکثر حصہ ایسے پانی سے سیراب کیا جاتاہو کہ جس پر خرچہ نہ آتاہو (مثلاًبارش ندی وغیرہ کے ذریعہ سیراب کیا جاتا ہو) تو ایسی زمین میں عشر یعنی پیداوار کا دسواں حصہ واجب ہو گا، اور اگر عشری زمین کو سال کا اکثر حصہ ایسے پانی سے سیراب کیا جاتاہو کہ جس پر خرچہ آتاہو(مثلاًٹیوب ویل یا خریدے ہوئےپانی سےسیراب کیا جاتاہو) تو اس زمین پر نصف عشر یعنی پیداوار کابیسواں حصہ واجب ہو گا۔ نیز زمین کی پیداوار سے حاصل شدہ آمدنی کم ہو یا زیادہ دونوں صورتوں میں حکم یکساں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ويجب العشر عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - في كل ما تخرجه الأرض من الحنطة والشعير والدخن والأرز، وأصناف الحبوب والبقول والرياحين والأوراد والرطاب وقصب السكر والذريرة والبطيخ والقثاء والخيار والباذنجان والعصفر، وأشباه ذلك مما له ثمرة باقية أو غير باقية قل أو كثر هكذا في فتاوى قاضي خان سواء يسقى بماء السماء أو سيحا يقع في الوسق أو لا يقع هكذا في شرح الطحاوي۔۔۔۔۔۔۔۔۔وما سقي بالدولاب والدالية ففيه نصف العشر، وإن سقي سيحا وبدالية يعتبر أكثر السنة فإن استويا يجب نصف العشر كذا في خزانة المفتين. "
(کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زكاة الزرع والثمار، ج:1،ص:186، ط: دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) تجب في (مسقي سماء) أي مطر (وسيح) كنهر (بلا شرط نصاب) راجع للكل (و) بلا شرط (بقاء)۔۔۔مجاز (إلا فيهما) لا يقصد به استغلال الأرض (نحو حطب وقصب) فارسي (وحشيش)
(قوله: إلا فيما لا يقصد إلخ) أشار إلى أن ما اقتصر عليه المصنف كالكنز وغيره ليس المراد به ذاته بل لكونه من جنس ما لا يقصد به استغلال الأرض غالبا وأن المدار على القصد حتى لو قصد به ذلك وجب العشر كما صرح به بعده."
(کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج:2، ص:326۔327، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101038
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن