بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جانور پالنے کے لیے دینا


سوال

ایک شخص ایک جانور خرید کر کسی دوست کو دیتا ہے کہ تم اس کی دیکھ بھال کرو جب اس کو بیچیں گے تو نفع دونوں کا آدھا آدھا ہوگا، آیا یہ معاملہ شرعا درست ہے؟جب کہ پیسے صرف ایک ہی شخص کے ہیں  جو  جانور خریدتا ہے دوسرے کے اس میں کچھ پیسے نہیں ہیں،وہ صرف     جانور کے فروخت ہونے  تک  اس کی دیکھ بھال کرے گا اور چارے وغیرہ  کا خرچہ اسی کا ہوگا جس نے خرید کر دیا ہے  اور اگر چار ہ وغیرہ کا  خرچہ اس کا ہو جو دیکھ بھال کرتا ہے تو پھر کیا حکم ہے؟ اگر نفع  تقسیم کرنے کی صورت شرعا درست ہے  تو پھر  دیکھ بھا ل  کرنے والا اجرت کا مستحق ہوگا  یا نہیں؟

جواب

کسی کو جانور پالنے  کے لیے  دینا شرعا  اجرت کا معاملہ ہے،اور اجرت کے معاملے میں  شرعا  اجرت کا متعین ہونا ضروری ہے، اجرت متعین کیے بغیر معاملہ درست نہیں ہوتا،مذکورہ صورت میں  جانور کتنے کا فروخت ہوگا،  یہ  معلوم نہیں، لہذا اجرت مجہول ہوگئی ، اس کو  ماہانہ یا سالانہ کوئی متعین  اجرت پر دینا  چاہیے تھا۔اگر چہ اس کی ادائیگی جانور کے بکنے  پر  ہی کی جائے،لہٰذا احناف کے نزدیک یہ صورت ناجائز ہے، اب اگر  اجرت طے کیے بغیر یہ کام کرلیا ہو   تو شرعا اس کا  حل یہ ہے کہ  جس نے جانور پالا ہے ، اتنی مدت جانور  کی دیکھ  بھال  کی مارکیٹ میں جو اجرت بنتی ہے وہ دینی  چاہیے،جانور بیچنے کے بعد جو نفع ہوا وہ مالک کا ہوگا ۔

واضح رہے کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ابتلاءِ شدید  کی صورت میں سوال  میں ذکر کردہ معاملہ میں جواز  کی گنجائش کا قول اختیار کیا ہے۔ (امداد الفتاوی۔3/342) یعنی  اگر کسی علاقے میں یہ طریقہ عام ہے تو عمومِ بلویٰ کی وجہ سے فقہِ حنبلی کے مطابق گنجائش ہوگی،لہذا اگر کسی علاقے میں ابتلاءِ عام کی صورت میں  کسی نے یہ معاملہ کرلیا ہو تو  اس کو ناجائز نہیں کہا جائے گا، البتہ ابتداءً ایسا معاملہ نہیں کیا جائے۔

خلاصۃ الفتاوی ہے :

"رجل دفع بقرةً إلى رجل بالعلف مناصفةً، وهي التي تسمى بالفارسية "كاونيم سوو" بأن دفع على أن ما يحصل من اللبن والسمن بينهما نصفان، فهذا فاسد، والحادث كله لصاحب البقرة، والإجارة فاسدة".

(خلاصة الفتاوی:۳/۱۱4۔کتاب الإجارة، الجنس الثالث في الدواب ... ومایتصل بها، ط/قدیمی)فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100161

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں