بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جاندار کی تصاویراور بتوں کے نام پر مشتمل مونوگرام بنانے کا حکم


سوال

میرا مونوگرام بنانے کا کام ہے، میں باہر ممالک سے اسٹیکر یا  مونوگرام بنانے کے آرڈر لیتا ہوں،اگر کسی گاہک کا   آرڈر صرف جاندار کی تصاویر پر مشتمل ہوتا ہے تو میں اس سے معذرت کرلیتا ہوں ، لیکن بسا اوقات ا یسا ہوتا ہے کہ مثلا دس چیزوں کا آرڈر ہے اس میں سے سات یا آٹھ چیزیں جاندار کی تصویر ،اوران کے بتوں  کے نام یا ان کے تہوار مثلا  کرسمس کی مبارکباد پر مشتمل ہوتے ہیں ،پھر ان مونوگرام کو میں کمپیوٹر پر ڈیزائن کر کے مشینوں کے ذریعے کپڑے پر بنا کے  بذریعہ کوریئر باہر ممالک بھیجتا ہوں، ان بنوانے والوں میں مسلمان بھی ہوتے ہیں، اور غیر مسلم بھی ہوتے ہیں ،آرڈر  کا جو حصہ جاندار کی تصاویر وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے،اس کے پیسے میں الگ کرلیتا ہوں ،اس کو اپنے ذاتی استعمال میں نہیں لاتا،کیا اس صورت میں اس طرح تصویر وغیرہ  پر مشتمل   مونوگرام وغیرہ بنانا جائز ہے؟کیا میں  اس الگ کی ہوئی آمدنی کو صدقہ کرسکتا ہوں؟

 اس سے حاصل ہونے والی   آمدنی کا کیا حکم  ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جاندار کی تصویر سازی خواہ ڈیجیٹل کی  صورت میں ہو یا پرنٹ   کی صورت میں ،شرعا ناجائز اورحرام ہے، حدیث مبارکہ میں اس سے متعلق سخت عذاب کی وعید وارد ہوئی ہے۔صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے ایسے مونوگرام بنانا جو  جاندار کی تصویر،  بتوں کے نام یا ان کی تعریف میں کہےگئے جملوں پر مشتمل ہوں بنانا شرعا درست نہیں، لہذا اس  سے حاصل ہونےو الی آمدنی حرام اور ناجائز ہوگی، البتہ اگر کوئی مونوگرام ایسا ہو جو جاندار کی تصویر یا بتوں کے نام وغیرہ پر مشتمل نہیں  تو ایسا مونوگرام بنانا  درست ہے،اور اس سےحاصل ہونے والی آمدنی بھی جائز ہے؛لہذا سائل کو چاہیے کہ صرف ان مونوگرام کاآرڈر لے جو  مذکورہ غیر شرعی امور پر مشتمل نہ ہوں، سائل نے ماضی میں ایسے جو بھی اسٹیکر یا  مونوگرام بنائے ہیں ،سائل کو چاہیے کہ اس کی آمدنی کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردے،اور آئندہ اس طرح کے مونوگرام بنانے  سے مکمل اجتناب کرے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن عبد الله، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إن أشد الناس عذاباً عند الله يوم القيامة المصورون".

(صحيح البخاري: كتاب اللباس، باب عذاب المصورين، رقم:5950،  ص: 463، ط: دار ابن الجوزي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(أو مقطوعة الرأس أو الوجه) أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه.

و في الرد: (قوله أو مقطوعة الرأس) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي، وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق له أثر، أو بطليه بمغرة أو بنحته، أو بغسله لأنها لا تعبد بدون الرأس عادة وأما قطع الرأس عن الجسد بخيط مع بقاء الرأس على حاله فلا ينفي الكراهة لأن من الطيور ما هو مطوق فلا يتحقق القطع بذلك، وقيد بالرأس لأنه لا اعتبار بإزالة الحاجبين أو العينين لأنها تعبد بدونها وكذا لا اعتبار بقطع اليدين أو الرجلين بحر (قوله أو ممحوة عضو إلخ) تعميم بعد تخصيص، وهل مثل ذلك ما لو كانت مثقوبة البطن مثلا. والظاهر أنه لو كان الثقب كبيرا يظهر به نقصها فنعم وإلا فلا؛ كما لو كان الثقب لوضع عصا تمسك بها كمثل صور الخيال التي يلعب بها لأنها تبقى معه صورة تامة تأمل."

 (‌‌‌‌كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص: 648، ط:سعید)

وفیہ ایضا:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ".

 ( كتاب الصلاة، مطلب: مكروهات الصلاة، ج: 1، ص: 647، ط: سعید )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100787

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں